تھر کول مائننگ اورکول پاورپلانٹس منصوبے  سے بجلی پیدا کرنے سے ماحولیات پر منفی اثرات پڑیں گے، چیئرمین فشر فورم محمد علی شاہ

تھر کول مائننگ اورکول پاورپلانٹس منصوبے  سے بجلی پیدا کرنے سے ماحولیات پر ...
تھر کول مائننگ اورکول پاورپلانٹس منصوبے  سے بجلی پیدا کرنے سے ماحولیات پر منفی اثرات پڑیں گے، چیئرمین فشر فورم محمد علی شاہ

  

عمرکوٹ(سید ریحان شبیر  )پاکستان فشرفورم کے  چیرمین محمد علی شاہ نےکہاہےکہ تھر کول مائننگ اورکول پاورپلانٹس منصوبے  سے بجلی پیدا کرنے سے ماحولیات پر منفی اثرات پڑیں گے ,دنیابھرمیں اس وقت کئی ممالک کول پاور پلانٹس سے بجلی پیداکرنےکے منصوبوں سےواپسی کی راہ اختیارکررہےہیں ,ماحولیاتی ماہرین کوئلے سےتوانائی پیداکرنے کے منصوبوں کو اچھانہیں سمجھتے .

پاکستان  فشر فورم کےمحمد علی شاہ نےپریس کانفرنس سے خطاب اور میڈیاکےمختلف سوالوں کے جواب دیتےہوئےکہامحمدعلی شاہ نے کہاکہ تھر میں زیر زمین پانی کے ذخائر پہلے ہی بہت کم ہیں اس منصوبے سے مزید کم ہوجائیں گےدنیا میں کول سے بجلی پیدا کرنے کا رجحان ختم ہوتا جارہا ہےپہلے ایل او بی ڈی سے پانی فراہمی کے منصوبے پر دس ارب روپے خرچ کیے گئے جو منصوبہ کامیاب نہیں ہوا اس وقت نارا کینال سے پانی کی فراہمی کے لیے 20 ارب روپے خرچ کیے جارہے  ہیں .نارا کینال سے پانی اٹھانے سے علاقے کی زرعی  زمینیں بنجر ہوجائیں گی زراعت کے شعبے کونقصان پہنچنے کاخدشہ ہے ,تھرکول منصوبے کو پانی کی فراہمی کے لیے جتنی رقم خرچ کی گئی اس سے پیاسے تھر کی پیاس بجھائی جا سکتی تھی , تھرکےغریب لوگوں کو  پانی مل سکتاتھاپاکستان فشرفورم کےچیرمین محمد علی شاہ نےکہا کہ صحرائے تھر کے غریب تھری باشندوں کی زندگی کا دارومدار ہی پانی ہے .

تھر میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنےسے پانی کا سخت ترین بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے آئندہ آنےوالے تیس سالوں میں کول مائننگ کے لیے "4000"ارب گیلن پانی استعمال ہوگا جبکہ "10"میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے کول پاور پلانٹس کےلیے "8500"ارب گیلن پانی استعمال ہوگا . فشر فورم کے چیرمین محمد علی شاہ نےخدشہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں سے سارے تھر کا واٹر سائیکل تباہ ہوجائے گا تھر کا فطری حسن تباہ وبرباد ہوکر رہ جائے گا محمد علی شاہ نےصحافیوں کے مختلف سوالات کےجواب دیتے ہوئے کہا کہ ایل بی او ڈی کا پانی زہریلا ہے اس منصوبے پر اربوں روپے ضائع کیےگئے اب مکی فرش کینال کےحصےمیں سے "200"کیوسک پانی زراعت کےلیے استعمال کیاجائے گا یہ اردگرد علاقے والوں کی حق تلفی ہوگی نبی سر کینال سے "60"کلومیٹر پائپ لائن کےذریعے یہ پانی تھرکول تک پہنچایا جائے .

محمد علی شاہ کامزید کہناتھاکہ نبی سر ڈیم کی تعمیر کےلیے"265"ایکٹرزمین اور ویجھار میں ڈیم کی تعمیرکےلیے"205" ایکٹرزمین کام میں آئےگی حقیقت میں ویجھارکی زمین گھوچرزمین ہےاور یہاں     پہلے ہی ایک ڈیم بناہواہے انہوں نےاس خدشے کابھی اظہارکیاکہ اس منصوبے والےعلاقے میں تین لاکھ درخت کٹنے کا  خطرہ ہےپاکستان فشر فورم کےچیرمین محمد علی شاہ نے کہا کہ فشر فورم ماحولیات کےحوالے سے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اس موقع فشر فورم عمرکوٹ کے ضلعی صدر  رمضان ملاح جنرل سکریٹری اےبی ملاح وغیرہ موجود تھے .

مزید :

علاقائی -سندھ -عمرکوٹ -