سٹاک ایکسچینج حملہ، گاڑی کس کس کے زیراستعمال رہی اور دہشتگرد کہاں کہاں لے کر گئے؟ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو بڑی کامیابی مل گئی

سٹاک ایکسچینج حملہ، گاڑی کس کس کے زیراستعمال رہی اور دہشتگرد کہاں کہاں لے کر ...
سٹاک ایکسچینج حملہ، گاڑی کس کس کے زیراستعمال رہی اور دہشتگرد کہاں کہاں لے کر گئے؟ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو بڑی کامیابی مل گئی

  

کراچی (ویب ڈیسک) کراچی سٹاک ایکسچینج حملے میں استعمال ہوئی گاڑی کس کے استعمال میں رہی، اس ضمن میں تفصیلات جمع کر لی گئیں۔

روزنامہ جنگ کے مطابق گاڑی سب سے پہلے کراچی کے ہل پارک کے قریب واقع نجی کمپنی کے سی ای او نے خریدی۔نجی کمپنی کے سی ای او نے یہ گاڑی ماڑی پور کے رہائشی کو فروخت کر دی تھی، جس نے بعد میں یہ گاڑی سبزی منڈی پر ایک شوروم کو فروخت کی۔

چینل ذرائع نے بتایا کہ حملے میں ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد نے یہ گاڑی سبزی منڈی کے شوروم سے 13 لاکھ روپے میں خریدی تھی۔تفتیشی ذرائع کے مطابق یہ گاڑی مختلف اوقات میں 3 مالکان کے پاس رہی۔تفتیشی ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ دہشت گرد یہ گاڑی خریدنے کے بعد کس مقام کی طرف گئے، اس سلسلے میں چھاپے تیز کر دیئے گئے ہیں۔

مختلف چھاپوں کے دوران اب تک 10 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر 29 جون 2020ءکو ہونے والے دہشت گرد حملے میں استعمال ہونے والی کار اتفاقاً 10 ماہ پہلے جیو کے ڈرامے ’دیوانگی‘ کے ایک منظر میں ہل پارک میں کھڑی نظر آئی تھی۔

ڈرامے کی یکم جولائی 2020ءکو نشر ہونے والی قسط نمبر 33 میں ڈرامے کے 2 کردار گفتگو کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو پارکنگ ایریا میں کھڑی ایک کار پر یہی نمبر نظر آتا ہے۔جیو انتظامیہ نے تفتیش میں مدد کے جذبے کے تحت ڈرامے کی متعلقہ قسط کی مکمل ریکارڈنگ تفتیشی حکام کے حوالے کر دی ہے اور ساتھ ہی انہیں یہ بھی بتایا ہے کہ ڈرامے کی یہ قسط 30 اگست 2019ءکو ہل پارک میں شوٹ کی گئی تھی۔29 جون کو کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنا دیا گیا تھا۔

اس حملے میں ملوث چاروں دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک کر دیئے گئے تھے جبکہ فرائض کی ادائیگی کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار اور 3 سیکیورٹی گارڈ شہید ہوئے تھے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -