سندر، سکردو کی سیر

 سندر، سکردو کی سیر

  

ائیرپورٹ کے لئے روانہ ہوئے تو اک الجھن نے آ لیا۔ ہوائی ٹکٹ پر بینظیر بھٹو ائیرپورٹ اسلام آباد درج تھا۔ جو کہ اب کمرشل فلائٹس کے لیے زیراستعمال نہیں ہے۔ ہیلپ لائن کال کر کے ائیرپورٹ کے بارے میں کنفرم کیا۔ بمشکل (نیو) اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ (موٹر وے) پہنچے۔ نجانے پی آئی اے سافٹ ویئر اور سسٹم میں نئے ائیر پورٹ کا اندراج کب کرے گی یا مسافروں کی پریشانی کا سامان ہوتا رہے گا؟ فلائٹ ایک گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوئی۔ کورونا ایس او پیز کے پیش نظر مسافروں کو ریفریشمنٹ نہیں دی گئی۔ دل چسپ بات یہ کہ مسافر پہلو بہ پہلو 2سے3 انچ کے فاصلے سے نشستوں پر براجمان تھے۔ مسافروں کو ریفریشمنٹ ٹیک اوے (زاد راہ) کے طور پر دینے میں نجانے کیا رکاوٹ ہے؟ روانگی سے قبل یا آمد کے بعد ائیرپورٹ لاؤنج میں کیا یہ ممکن نہیں؟

ساڑھے سات ہزار فٹ کی بلندی پر 800 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جہاز 45 منٹ میں اسلام آباد سے سکردو پہنچا۔ پہاڑوں کے سیاہ، سرمئی، بھورے پتھریلے بدن، دھوپ میں دلکش دکھائی دے رہے تھے۔ سر اورسینے پر مختصر نقرئی برفیلی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ بادل روئی کے گالوں کی مانند بکھرے ہوئے تھے۔ یکایک بلند پہاڑی چوٹی جہاز  کے پہلو میں آن کھڑی ہوئی۔ یہ نانگا پربت تھی جو  26 ہزار چھ سو ساٹھ فٹ بلند ہے۔ جہاز نے لمحہ بھر اس کی قربت میں گزارا اورپھر پست قامت چوٹیوں کے اوپر تیرنے لگا۔

سکردو ائیرپورٹ کے مختصر سے ہال میں داخل ہوئے تو میزبان (عبد الواحد صاحب) ہمارے استقبال کے لئے موجود تھے۔ سکردو میں دوپہر کا کھانا تناول کیا۔ سکردو کے پہاڑوں میں بہت عمدہ اور خوب صورت گرینائٹ پایا جاتا ہے۔ نور بخشی اور اہل تشیع کی اس خطے میں اکثریت ہے۔ دریائے سندھ کے ساتھ اور پھر دریائے شوک کے سنگ سفر کرتے ہوئے غواڑی میں داخل ہوئے۔ خاشال (کھشل) ریزارٹ غواڑی  پہنچے۔ دریائے شوک کے کنارے دیدہ زیب ہٹس موجود ہیں۔ خوبانی، سیب، چیری اور بادام کا باغ تھا۔ جو (barley) کی فصل بھی لہلہا رہی تھی۔ سڑک کنارے سفیدے کے نازک اندام اور طویل قامت درخت دربانوں کے مانند کھڑے مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے۔ ہاتھ سے بنی باریک شاخوں کی ٹوکری میں رس بھری چیری میز پر دھری تھیں۔ اولاً چیری اور پھر چائے سے لطف اندوز ہوئے۔غواڑی سے SCO کا سم کارڈ اور نیٹ پیکج لیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہی بہتر آپشن ہے۔ دیگر سیلولر کمپنیز کی نسبت اس کے سگنلز بہتر ہیں۔

چاندنی رات، خنک موسم، دریا کی الجھتی و گرجتی لہریں، اطراف میں  پہاڑ، ایسے میں لذیذ کھانے نے لطف دوبالا کر دیا۔صبح ہوئی تو کھڑکی سے کوہ و دریا پر اترتی دھوپ نے ان کے حسن کو نکھار دیا اور من کو سرشار کیا۔ دریا کنارے گرما گرم ناشتے نے تازہ دم کر دیا۔ دریا کے سرد پانی میں پاؤں ڈال کر خنکی کو رگ و پے میں اتارا۔ دوپہر کو چیری کے باغ سے تازہ سرخ اور جامنی پھل توڑا، تناول کیا اور لذت کی نئی جہت کو محسوس کیا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد میزبان سے رخصت لی اور غواڑی (گانچھے) سے سکردو پہنچے۔ یاد رہے کہ کارگل اور سیاچن کو رستہ یہیں سے جاتا ہے۔

سکردو میں ایک مہربان دوست کے توسط سے مہمان خانے میں قیام کیا۔ تیسرے روز حسین آباد میں نجی میوزیم اور چڑیا گھر پہنچے۔ میوزیم کسی سبب بند تھا۔ خوب صورت پرندے اور سبزہ زار دیکھ کر شگر کا رخ کیا۔ شگر جانے والی راہ پر مزید سفر کے بعد کے ٹو k2 پہنچا جا سکتا ہے۔ شگر قریبا ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ دل کش وادیوں اور بل کھاتی راہوں سے ہوتے شگر قلعہ  (فونگ گھر)جا رکے۔ سیاحتی رہبر(ٹورسٹ گائیڈ)نے بتایا کہ یہ قدیم قلعہ اک پہاڑی چٹان پر تعمیر کیا گیا۔ لکڑی سے تعمیر کردہ تین منزلہ قلعہ اب نجی ہوٹل کے زیر انتظام ہے۔ لکڑی کی سیڑھی پر قدم جماتے اور چرچراہٹ کی آواز سنتے عجیب سی پرسراریت کا احساس در آیا۔ قلعہ کی پہلی منزل پر چھوٹی سی مسجد بھی تھی۔ قلعہ سے ملحق باغ میں چنار کا اڑھائی سو سالہ ہرا بھرا درخت اور اس کا طویل، تنومند اور کھوکھلا تنا حیرت کدے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ کھوکھلے تنے میں بلا دقت ایک شخص لیٹ کر راحت حاصل کر سکتا ہے۔ تالاب کے وسط میں مختصر سی بارہ دری تھی۔ اس علاقے میں کاپر، روبی اور زہر مہرہ پایا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ زہر مہرہ، زہر کے خلاف مدافعتی خاصیت کا حامل ہے اور زہر کے لئے تریاق ہے۔ باب شگر کے پاس بلند سرد صحرا سرفرنگا پہنچے۔  یہاں ڈیزرٹ جیپ ریلی کا انعقاد بھی ہو چکا ہے۔ سپورٹس بائیک اور کواڈ (چار پہیہ) بائیک کو ریت میں دوڑا کر سیاح لطف اندوز ہو رہے تھے۔سرد ہوا، بوندا باندی، وسیع صحرا، صحرا کے بیچ پہاڑ،اور دور چوٹیوں پر سفید برف کی لہر۔ یہ سب سکردو کے حسن کا اسیرکرنے کے لئے کافی تھا۔ لیکن سکردو کے حسن  کے جلوے کہیں زیادہ تھے۔

    چوتھے روز سدپارہ جھیل کا نظارہ کیا۔ جھیل سدپارہ ڈیم پر بنائی گئی ہے۔ پہاڑوں کی گود میں سبز پانی سکون سے سو رہا تھا۔ جیسے ہی پانی ڈیم کے دروازے سے باہر نکلتا ہے، اس کاشور اور چنگھاڑ راہ گیروں کو سنائی دیتی ہے۔ زیریں کچورا جھیل اگلی منزل تھی۔ یہ شنگریلا جھیل کے نام سے مشہور ہے۔ شفاف پانی میں بادلوں کا عکس اور  تیرتی مچھلیوں کا منظر اس جھیل کی انفرادیت ہے۔ کشتی کی سیر اور چپوؤں کی آواز بچپن کی یادوں میں لے گئی۔ دریائے ستلج (بہاول پور) میں تیرتی کشتی کے چپوؤں کی آواز ذہن پر دستک دینے لگی۔ شنگریلا ریزارٹ میں اورینٹ ائیرویز کا بوڑھا (ڈی سی 3) جہاز بھی سج دھج سے موجود تھا۔ 1954ء  میں کریش لینڈنگ  کے نتیجے میں بے حیثیت ہوا۔ ڈیڑھ سو روپے میں خرید کر ریزارٹ کی زینت بنایا گیا۔سرد صحرا کٹپنہkatpana  کے بلند ٹیلے بھی سکردو کا قابل دید مقام ہے۔ 

سکردو میں خوش گوار حیرت ہوئی جب ایک ہورڈنگ بورڈ پر چسپاں فلیکس پر عبارت دیکھی۔" پردہ ہماری ثقافت ہے اس کا  احترام کیجئے تاکہ آپ کے احترام میں اضافہ ہو "اہل گلگت بلتستان کی جانب سے یہ ہدایت  اردو اور انگریزی میں لکھی تھی۔پانچویں روز بالائی کچورا جھیل کے لئے تنگ پہاڑی سڑک پر سفر کر کے گاڑی پارک کی۔ پہاڑوں پر 15 - 20 منٹ کی پیدل اترائی کے بعد کی دل فریب جھیل تک پہنچے۔ یہ قدرتی جھیل منفرد ہے۔ کشتی کی سہولت موجود ہے۔مقامی کھانے میں مرچوں کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ ممتو (بلتی سموسہ) مقامی لوگوں میں مقبول ہے، یقینا لذیذ بھی ہے۔ سیاح تحائف کے طور پر قیمتی پتھر، نوادرات،  مقامی دستکاری کی چادروں اور شالوں  کو ترجیح دیتے ہیں۔چھٹے روز صبح واپسی تھی۔ اہل بلتستان کو، خوددار، محنت کش سادہ، مہمان نواز اور نرم خو پایا۔ عبد الوہاب نے بتایا کہ جرائم کی شرح کو صفر کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ سکردو پسماندہ علاقہ ہے لیکن اس کے باوجود کہیں گداگر نظر نہیں آیا۔ دوران سفر سکردو اور اہل سکردو کے لئے دل میں اک محبت خانے نے جنم لیا جو تاحیات بستا رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم -