ورلڈ بینک نے پاکستان کا 400 ملین ڈالر قرض کا اجرا روک دیا مگر کیوں؟ وجہ بھی سامنے آگئی

ورلڈ بینک نے پاکستان کا 400 ملین ڈالر قرض کا اجرا روک دیا مگر کیوں؟ وجہ بھی ...
ورلڈ بینک نے پاکستان کا 400 ملین ڈالر قرض کا اجرا روک دیا مگر کیوں؟ وجہ بھی سامنے آگئی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک)  عالمی بینک نے گذشتہ ماہ پاکستان کو 400 ملین ڈالر کا قرضہ دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی تاہم جن شرائط پر اتفاق ہوا تھا ان کی عدم تکمیل  پر قرض کا اجرا روک دیا گیا ہے، حکومت پاکستان نے یہ قرض غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے حاصل کرنا تھا، ورلڈ بینک نے شرائط پوری نہ ہونے پر 400 ملین ڈالر کا قرضہ روک لیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق فریقین کے دستخط شدہ معاہدے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ورلڈ بینک نے نئی اضافی شرائط پر عمل درآمد کی  ڈیڈ لائن میں تین ماہ کا اضافہ کردیا  ہے۔ اس مدت میں  شرائط پر عمل درآمد نہ کیا گیا  تو قرض کا معاہدہ ختم  کردیا جائے گا۔ ورلڈ بینک کی سب سے اہم شرائط  جو عمل درآمد کی منتظر ہے وہ انٹیگریٹڈ کیپسٹی ایکسپینشن پلان ( IGCEP ) کی حتمی منظوری ہے۔

28 جون کو ورلڈ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پاکستان کے لیے دو پروگراموں کی منظوری دی تھی۔ ان میں پاکستان پروگرام فار افورڈایبل اینڈ کلین انرجی ( PACE ) اور  دوسرا سیکیورنگ ہیومن انویسٹمنٹ ٹو فوسٹر ٹرانسمیشن (SHIFT-II)  شامل تھے۔ دونوں پروگراموں کی مالیت 800ملین ڈالر  ہے۔

سرکاری ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ ورلڈ بینک نے شفٹ پروگرام کے تحت 400 ملین ڈالر جاری کردیے مگر شرائط پر عمل درآمد میں تاخیر کی وجہ سے دوسرے پروگرام کے لیے قرض کا اجرا روک لیا۔ اس ضمن میں سیکریٹری خزانہ یوسف خان نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ورلڈ بینک نے  قرض کے اجرا کے لیے مذکورہ بالا کے علاوہ بھی کوئی نصف درجن اضافی شرائط عائد کی ہیں جن میں سے کچھ پر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر عمل درآمد کیا گیا تھا۔

مزید :

بزنس -