نمبر پلیٹ نیلامی…… انہیں کون پوچھے گا؟

نمبر پلیٹ نیلامی…… انہیں کون پوچھے گا؟
نمبر پلیٹ نیلامی…… انہیں کون پوچھے گا؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 دہائیوں سے سنتے آئے ہیں کہ پاکستانی ٹیکس نہیں دیتے حکومت کیا کرے، لہٰذا جب ٹیکس نہیں ملتا تو پھر حکومت قرضہ لے کر ہی گزارا کرتی ہے اور اس قرضے کو ادا کرنے کے لئے حکومت مزید بالواسطہ ٹیکس لگاتی ہے، لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ حکومت ان لوگوں پر جن کی دولت ان کی جیبوں سے باہر گرتی ہے، ان کے پیچھے ان کے غلام دولت کے بھرے سوٹ کیس لئے چلتے ہیں، کیا ان لوگوں سے کبھی حساب لیا گیا؟ ہر سال بار بار عمرے کرنے والے پاکستانیوں سے کیا پوچھا گیا کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا۔بیوی بچوں کے ساتھ سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، فرانس، کینیڈا،امریکہ، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور دیگر خوبصورت مہنگی جگہوں کی سیر پر نکلنے والے پاکستانیوں سے پوچھا گیا کہ ان کے پاس یہ پیسہ کہاں سے آیا؟ کیا ایچی سن، امریکن سکول، شوئفات اور دیگر ان جیسے مہنگے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین سے پوچھا گیا کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا؟ ہر سال گاڑی بدلنے والے کسی پاکستانی سے پوچھا گیا کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا؟ چار، چار کنال میں گھر بنا کر رہنے والے کسی پاکستانی سے پوچھا گیا کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا؟شہر کے باہر ایکڑوں پر محیط فارم ہاؤس بنا کر پرتعیش زندگی بسر کرنے والوں سے پوچھا گیا کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا؟ کیا ان لوگوں سے یہ پوچھا گیا کہ تمہارے پاس اب تک کے ذرائع آمدن کیا ہیں اور تم نے اس پر کتنا ٹیکس ادا کیا ہے؟ ایک لاکھ روپے تنخواہ لینے والے سے تو اسکے دفتر کا شعبہ اکاؤنٹس انکم ٹیکس کاٹ کر حکومت کو بھیج دیتا ہے، کیا کبھی لبرٹی مارکیٹ، انارکلی، رنگ محل، صرافہ بازار،اعظم مارکیٹ، اکبری مارکیٹ، موبائل مارکیٹ (ہال روڈ) اور  ڈی ایچ اے کی جدید خوبصورت مارکیٹوں میں کاروبار کرنے والوں سے یہ پوچھا گیا کہ انکی آمدن کیا ہے؟ انکی رہائش کہاں ہے؟ اور وہ جو مونگ پھلی کے چند دانے انکم ٹیکس کے طور پر ادا کررہے ہیں کیا یہی انکا اصلی ٹیکس بنتا ہے؟ یقیناً ایف بی آر نے ایسا کبھی نہیں کیا کیونکہ انہیں بھی تو ”زندہ رہنا“ ہے، لیکن کیا کبھی ایف بی آر والوں سے بھی کسی نے پوچھا کہ انکی اصل آمدن کیا ہے اور جب انہوں نے اس محکمے میں نوکری کی تھی تو اسوقت انکے وسائل کیا تھے،انکے والد گرامی کیا کرتے تھے، کتنا کماتے تھے، محکمے کا حصہ بننے سے پہلے ”صاحب“ کیا کرتے تھے، کہاں سے پڑھ کے آئے، کتنی فیس ادا کی؟ ایسا کیا ہوا کہ ایف بی آر میں ”شامل“  ہوتے ہی ”ہن“ برسنے لگا اور اتنا برسا کہ آج انکے پاس ذاتی گھر، گاڑیاں اور بنگلے آگئے، کسی نے پوچھا انکے بچے کہاں پڑھتے ہیں، بجلی کا بل کتنا ہے، کیا کسی نے پوچھا کہ آپکے گھر میں کھڑی گاڑیاں کہاں سے آئیں؟ تو بھائی جب اشرافیہ سے یہ نہیں پوچھا تو پھر غریب آدمی پر ٹیکس کیوں ”تھوپتے“ ہو؟ براہ راست ٹیکس لینے کی تو جرأت نہیں ہے ”بالواسطہ“ٹیکس لیتے ہو جو امیر، غریب سب سے برابر لیا جاتا ہے۔

آپ کہیں گے یہ سوال آج مجھے کیوں یاد آرہے ہیں، جی یاد آرہے ہیں اور اس لئے یاد آئے ہیں کہ آج ایک خبر میرے سامنے ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں کی نیلامی ہوئی اور ”ایک نمبر“ کی نمبر پلیٹ کسی مزمل کریم نامی شخص نے 10 کروڑ روپے میں خریدی، جی گھبرائیے نہیں، 10 کروڑ میں، اور انہی مزمل کریم صاحب نے ”7“ نمبر کی نمبر پلیٹ 4 کروڑ 60 لاکھ روپے میں خریدی، یعنی دو نمبر پلیٹیں 14 کروڑ 60 لاکھ میں خریدیں۔ ”5“ کی نمبر پلیٹ 5 کروڑ 30 لاکھ، 8 نمبر کی نمبر پلیٹ 4 کروڑ 10 لاکھ، ”9“ نمبر کی نمبر پلیٹ 4 کروڑ روپے میں بیچی گئی۔ غرض 40 نمبر پلیٹیں ”صرف“ 67 کروڑ 54 لاکھ میں فروخت ہوئیں،  ان لوگوں کو سرٹیفکیٹ تو جاری کردئیے، جناب صوبائی وزیر نے ان خریداروں کو ”ملکیتی اسناد“ جاری کردیں لیکن کیا حکومت سندھ یا ایف بی آر نے پوچھا کہ بھائی کروڑوں روپے کی نمبر پلیٹیں خریدی ہیں، پیسہ کہاں سے آیا ہے؟ تو جناب یہ ہے وجہ پاکستان کی تباہی کی، تباہی لکھتے ہوئے شرم آتی ہے لیکن جس ملک میں اشرافیہ کی آمدنی پر ٹیکس لگانے کی کسی میں جرائت نہ ہو، کسی کو انکا دروازہ کھٹکھٹا کر یہ پوچھنے کی جرائت نہ ہو کہ تمہارے گھر کا ماہانہ بجلی کا بل 2لاکھ ہے جبکہ تم نے ماہانہ آمدن ایک لاکھ روپے دکھائی ہے۔ تو یہ 2 لاکھ کا بل کیسے ادا ہوتا ہے؟ اعظم مارکیٹ، انارکلی، لبرٹی، شاہراہ قائداعظم، ہال روڈ اور شہر کے بڑے بڑے مالز کی بڑی بڑی دکانوں کے تاجروں کے گھر اور دکانیں دیکھیں تو سمجھ  آجاتی ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا ہے۔ جب آمدن پر کوئی ٹیکس نہ دیا ہو  تو پھر ”سب کچھ“ آجاتا ہے۔

خیر یہ تو حکومت پاکستان کا ٹیکس ہے، ایک ٹیکس اللہ تعالی نے بھی لگایا ہے اور اس کا نام زکوٰۃ ہے۔ اگر ہم سب یہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ، جی صرف ڈھائی فیصد یعنی ایک لاکھ پر ڈھائی ہزار روپے ایمانداری سے ادا کر دیں تو معاشرے میں بہتری آجائیگی۔ اس کالم کے ذریعے جناب سید مراد علی شاہ سے امید باندھی ہے کہ وہ نمبر پلیٹوں کے خریداروں سے ”حساب“ مانگیں گے، یقیناً یہ لوگ جن سے یہ سوال پوچھ رہا ہوں، پوچھیں گے تم پوچھنے والے کون ہوتے ہو، تم خود کیا ہو، کتنا ٹیکس ادا کرتے ہو؟ تو بھائی ساری عمر جس معتبر اخبار کے دفتر میں نوکری کی وہاں اپنی تنخواہ کے مطابق ٹیکس ادا کیا، یہ ٹیکس تھوڑا تھا یا زیادہ تھا، میری تنخواہ کے مطابق پورا تھا۔ میرے پاس اس آمدن کے سوا اور کوئی ذریعہ آمدن نہیں تھا، میرا کوئی بچہ ایچی سن، شوئیفات، امریکن سکول میں نہیں پڑھا، کیونکہ میری اتنی اوقات ہی نہیں تھی، اس پڑھائی کیلئے چوری کرنا پڑتی ہے، اپنا آپ نیلام کرنا پڑتا ہے، نظریں جھکا کر کام کرنا پڑتا ہے۔ خبر دیتے ہوئے ہاتھ کانپتے ہیں کہ جس کے خلاف دی جا رہی ہے وہ ناراض نہ ہوجائے کیونکہ کل ہی تو وہ ”مٹھائی کی ٹوکری“ دیکر گیا تھا۔ 

پاکستان میں آج ٹیکس صرف وہ شخص ادا کرتا ہے جو کسی دفتر میں ملازم ہے اور جس کی آمدن پر ٹیکس اسکے دفتر میں کاٹا جاتا ہے باقی انفرادی کام کرنے والے لوگ ایف بی آر کے مطابق اپنا ٹیکس ایمانداری سے ادا نہیں کرتے لیکن دوسری طرف ان لوگوں سے پوچھا جائے تو انکا کہنا ہے کہ ایف بی آر کا جو شخص وصولی کیلئے آتا ہے وہ کہتا ہے اتنے پیسے دو گے تو گورنمنٹ تمہیں اور تنگ کریگی لہٰذا میرا حصہ مجھے دو باقی اپنے گھر لے جاؤ۔ ”مل کر کھاؤ…… رج کھاؤ“۔ یہ روئیے یہ طریقے کب پکڑے جائیں گے؟ اپنے ہمسایہ ملک بھارت میں بننے والی فلمیں دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ٹیکس چوروں کے گھروں پہ چھاپے کیسے پڑتے ہیں ان سے وصولی کیسے کی جاتی ہے۔ دیواروں کے اندر چنوائے گئے پیسے کیسے نکالے جاتے ہیں، پاکستان میں جب ایسا ہوگا تب تبدیلی آئیگی۔

مزید :

رائے -کالم -