مہنگائی کے باعث علماء اور ذاکرین نے مجالس کے ہدیے بڑھا دئیے

مہنگائی کے باعث علماء اور ذاکرین نے مجالس کے ہدیے بڑھا دئیے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(سٹی رپورٹر) بجٹ کے بعد بڑھنے والی مہنگائی نے محرم الحرام میں شہدائے کربلا کی عزاداری بھی مہنگی کرا دی،جہاں مجالس عزا اور جلوسوں میں استعمال ہونے والے لوازمات شامیانے، قناتیں دریاں اور تبرک مہنگے ہو گئے  وہاں مجالس پڑھنے والے علماء خطباء  اور ذاکرین کے" ہدیے" بھی کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔معلومات کے مطابق مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر بڑے علماء و ذاکرین کو بلانے پر پڑا ہے۔علامہ عقیل الغروی، علامہ علی رضا رضوی لندن، علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی، علامہ ماجد رضا عابدی، علامہ کمال حیدر رضوی، علامہ اسد جوہری اور امجد جوہری کو دعوت دینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اسی طرح ذاکر وسیم بلوچ، ذاکر اقبال حسین بجاڑ والا،ذاکر فرخ عباس نقوی،ذاکر علی رضا کھوکھر،ناہید عباس جگ، شوکت رضا شوکت، علامہ عمران مظاہری اور ناصر تلہاڑا وغیرہ کو لاکھوں روپے معاوضہ دینا پڑتا ہے۔ مقبول ترین علماء اور خطباء  میں علامہ محمد عباس رضوی، علامہ کرامت عباس حیدری، علامہ سید ریاض حسین رضوی علامہ سید احمد حسن  زیدی علامہ سید عاقل رضا زیدی،حافظ تصدق حسین، حافظ مرتضی' مہدی اور عقیل محسن نقوی شامل ہیں لیکن ان کو بلوانے کے لیے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔وفاقی دارالحکومت اور پنجاب میں کچھ ایسے بڑے علماء  و ذاکرین بھی ہیں جو آسانی سے مجلس پڑھنے کے لیے ا ٓجاتے ہیں اور معاوضہ طے نہیں کرتے ان میں علامہ انور علی نجفی، علامہ اختر عباس قمی، علامہ علی حسین مدنی، علامہ قمر حیدر زیدی، علامہ بشارت حسین امامی، مفتی باسم عباس ظاہری,علامہ اظہر عباس حیدری،علامہ باقر علی نقوی، علامہ ارشد امیر عابدی،مولانا اجلال حیدر الحیدری، مولانا اسد علی شاکری علامہ شبیر میثمی، علامہ عمران حیدر نقوی علامہ اصف جوہری، علامہ شکیل اختر،علامہ سید منظر عباس نقوی،پروفیسر سید شاکر رضا نقوی علامہ دلدار حیدر جعفری،نوید عباس نوید اور ذاکر نیاز حسین مہدی شامل ہیں۔

   

ملکی سطح پر علامہ سید اسد رضا بخاری اور مولانا حسن عباس الحسینی دو ایسے علماء  ہیں جو ہدیہ دینے پر بھی نہیں لیتے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ تینوں بڑی اہل تشیع جماعتوں کے سربراہ علامہ ساجد نقوی،آغا حسین مقدسی اور علامہ راجہ ناصر عباس کبھی مجلس پڑھنے کا "ہدیہ" نہیں لیتے۔جب مجلس وحدت المسلمین اور ٹی این ایف جے سے تعلق رکھنے والے مقتدر علماء  سے پوچھا گیا کہ مجالس پڑھنے کا معاوضہ لینا جائز ہے؟ تو سب کا ایک ہی جواب تھا کہ اگر بانی یا انتظامیہ خود سے کچھ دیں تو لینا جائز ہے لیکن معاوضہ طے کرنا اور لاکھوں ڈیمانڈ کرنا جائز نہیں۔