اندس ہسپتال کی عالمی دن برائے عطیہ خون کے حوالے سے تقریب 

  اندس ہسپتال کی عالمی دن برائے عطیہ خون کے حوالے سے تقریب 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (پ ر)انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک (IHHN) نے فخریہ طور پر ''انڈس زندگی'' کے نام سے پاکستان بھر میں رضاکارانہ خون کے عطیات کو فروغ دینے کے لیے ایک قومی تحریک کا آغاز کیا۔ 240 ملین سے زائد آبادی کے باوجود، پاکستان میں صرف تقریبا 10% خون کے عطیات رضاکاروں سے حاصل کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے خون کی دستیابی میں شدید کمی واقع ہوتی ہے اور ہر سال کئی زندگیاں ضائع ہوتی ہیں۔ ''انڈس زندگی'' قوم کو رضاکارانہ عطیات کے ذریعے محفوظ خون کی دستیابی کے لیے متحد کرتا ہے۔''انڈس زندگی'' کا آغاز قومی ویڈیو مقابلے کے ساتھ ہوا، جس میں تخلیقی ذہنوں کو خون کی کمی یا رضاکارانہ عطیات کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے ویڈیوز، تصاویر یا اینیمیشن بنانے کی ترغیب دی گئی۔ مقابلے کو زبردست ردعمل ملا، اور جمع کرائی گئی تخلیقات کو میڈیا کے ماہرین کے پینل نے جانچا۔ فاتحین کا اعلان مہم کے افتتاحی تقریب میں کیا گیا، جو عالمی یوم عطیہ خون  منانے کے لیے منعقد ہوئی۔ فاتحین کو انعامات اور دیگر دلچسپ تحائف سے نوازا گیا۔یہ تقریب کراچی کے ایک نجی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ معزز مہمانان، بشمول وزیر اعلی سندھ جناب  مراد علی شاہ،، اور بلڈ سینٹر کے اہم عطیہ کنندگان جناب فرحان حنیف اور مسز شائستہ فرحان حنیف نے اس تقریب میں شرکت کرکے اس مہم کی حمایت کی۔عبدالکریم پراچہ، چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز اور ڈاکٹر عبدالباری خان، صدر IHHN نے مہمانوں کا  استقبال کیا۔ ڈاکٹر صبا جمال، سینئر ڈائریکٹر بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز ڈائریکٹوریٹ IHHN، نے ''انڈس زندگی'' کا تعارف کروایا اور کہا، ''انڈس زندگی صرف ایک مہم نہیں ہے بلکہ یہ ایک قومی تحریک ہے جو ملک میں متبادل عطیات کی روایات کو چیلنج کرتی ہے،'' انہوں نے کہا۔ ''اس مہم کے ذریعے ہم پاکستانیوں کو رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کرنے کے لیے متحد کرتے ہیں، تاکہ ہر وقت اور ہر جگہ محفوظ خون کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ پورے سال کے دوران، پاکستان بھر میں سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی تاکہ قوم کو رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کی ترغیب دی جا سکے اور انہیں مستقل عطیہ کنندگان بنایا جا سکے۔ ہدف یہ ہے کہ پاکستان بھر میں 100% رضاکارانہ خون عطیات کے حصول تک رفتار حاصل کی جائے۔''