انتخابی عذرداری کیس؛ سپریم کورٹ نے سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کرلی

انتخابی عذرداری کیس؛ سپریم کورٹ نے سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی جائیدادوں کی ...
انتخابی عذرداری کیس؛ سپریم کورٹ نے سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کرلی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)انتخابی عذرداری کیس میں عدم پیشی پرسپریم کورٹ نے سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کرلی،عدالت نے ایف آئی اے سے قاسم سوری سے متعلق رپورٹ طلب کرلی،حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اور ایف آئی اے بتائے قاسم سوری کہاں پر ہے،بلوچستان حکومت قاسم سوری کی جائیدادوں کی رپورٹ پیش کرے،قاسم سوری عدالتی حکم کے باوجود پھر پیش نہیں ہوئے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق قاسم سوری کی انتخابی عذرداری چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 4رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ قاسم سوری  کے ساتھ میرا کوئی رابطہ نہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ قاسم سوری سپریم کورٹ سے حکم امتناع لے کر بیٹھ گئے،کیا حکم امتناع کے بعد کیس نہیں چلے گا، قاسم سوری نے حکم امتناع پر غیرآئینی اقدام کیا، ایک قرارداد کو جواز بنا کر عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کردیا،قاسم سوری کے وکیل نعیم بخاری نے معاملے پر ازخود نوٹس لینے کی استدعا کردی، وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ عدالت قاسم سوری کی اپیل مسترد کرکے عدم حاضری کا ازخودنوٹس لے،وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ مجھے عدالت سے جانے کا حکم دیا جائے،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کو عدالت سے جانے کا کیوں کہہ دیں،اتنی خوبصورت شخصیت کو جانے کا کیسے کہہ دیں،وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ مجھے پتہ ہوتا تو میں تو میک اپ کرکے آتا،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کی ایک بات مجھے پسند ہے آپ ہر وقت مسکراتے رہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے نعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ قاسم سوری کی پھر جائیداد کی تفصیلات منگوا لیتے ہیں،وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ پراپرٹی کی تفصیلات منگوانے پر تو مردہ بھی قبر سے پیش ہو جاتا ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ قاسم سوری عدالت سے کیوں بھاگ رہے ہیں،وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ مجھے کیا پتہ میراتو قاسم سوری سے کوئی رابطہ نہیں،جسٹس مسر ت ہلالی نے کہا کہ آپ اپنے موکل کو پیغام تو چھوڑ سکتے ہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ قاسم  سوری کی قومی اسمبلی معیاد پوری ہو گئی، مدت پوری ہو گئی لیکن سپریم کورٹ سے کیس کا فیصلہ نہیں ہوا، عدالت نے وفاقی، صوبائی حکومت کو نوٹس کرکے سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔