سسٹم درست ہوتا تو پٹیشن کا فیصلہ 2010میں ہی ہوجاتا، نوابزدہ لشکری رئیسانی 

سسٹم درست ہوتا تو پٹیشن کا فیصلہ 2010میں ہی ہوجاتا، نوابزدہ لشکری رئیسانی 
سسٹم درست ہوتا تو پٹیشن کا فیصلہ 2010میں ہی ہوجاتا، نوابزدہ لشکری رئیسانی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) نوابزدہ لشکری رئیسانی نے کہاہے کہ سسٹم درست ہوتا تو پٹیشن کا فیصلہ 2010میں ہی ہوجاتا۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق نوابزدہ لشکری رئیسانی نے سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں اب کیاانصاف ملے گا چھ سال گزر گئے، وقت ضائع ہوا، فنڈز چوری ہوئے،ان کاکہناتھا کہ سسٹم پارلیمنٹ نے ٹھیک کرنا ہے، پارلیمنٹ میں موجود لوگوں کو سسٹم پرواہ نہیں،نوابزدہ لشکری رئیسانی نے کہاکہ یہ پانچویں چیف جسٹس ہیں جن کے سامنے کیس ہے،پورے کا پورا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ لشکری رئیسائی نے این اے 265پر الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کررکھی ہے ۔