گیس ترسیل کا نظام خطرے میں پڑ گیا

گیس ترسیل کا نظام خطرے میں پڑ گیا
گیس ترسیل کا نظام خطرے میں پڑ گیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک ایسے وقت میں جب جولائی کے مہینے کے 8 دن گزر چکے ہیں، پاور ڈویژن نے پنجاب میں آر ایل این جی پر مبنی پاور پلانٹس میں درآمدی گیس کے استعمال میں کمی کر دی ہے، بجلی کی پیداوار کے لیے گیس 418 ملین مکعب فٹ یومیہ (ایم ایم سی ایف ڈی) تک کم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے لائن پیک پریشر میں 5.185 ارب کیوبک فٹ گیس (بی سی ایف ڈی) تک اضافہ ہوا ہے جس سے ملک کے قومی گیس کی ترسیل کا نظام خطرے میں پڑ گیا ہے۔

"جنگ " کے مطابق  لائن پیک پریشر اتوار کو 5.060 بی سی ایف ڈی ریکارڈ کیا گیا تھا جو پیر کو بڑھ کر 5.185 بی سی ایف ڈی ہو گیا کیونکہ پاور ڈویژن کی جانب سے آر ایل این جی کا استعمال کم کیا جا رہا ہے۔ اس کیلنڈر سال میں 5 بی سی ایف ڈی سے زیادہ کا لائن پیک پریشر پہلے نیشنل ٹرانسمیشن پائپ لائن کو اپریل، مئی میں کئی دن ہوا اور پھر جون میں 1 دن اور اب جولائی میں 7 جولائی سے ظاہر ہونا شروع ہوا۔ یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے، خاص طور پر سوئی گیس کمپنیوں کے لیے جو گیس کی ترسیل کا نظام سنبھالتی ہیں۔ حکام نے اب لائن پیک پریشر کو کم کرنے کے لیے ایس این جی پی ایل سسٹم میں مقامی گیس فیلڈز سے گیس کے بہاؤ کو کم کرنا شروع کر دیا ہے۔ مقامی گیس فیلڈز سے گیس کے بہاؤ میں یہ کمی موجودہ مقامی گیس کی پیداوار کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے اہم خطرات کا باعث ہے، لیکن حکام کے پاس دباؤ کو کم کرنے کا کوئی آپشن نہیں بچا ہے۔

 پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ جب زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے بجلی کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے تو وہ بجلی کی پیداوار کے لیے آر ایل این جی کا استعمال بڑھادیتا ہے۔ چونکہ ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون کی بارشیں جاری ہیں، بجلی کی طلب میں کمی ہوئی ہے اس لیے بجلی کی پیداوار کے لیے آر ایل این جی کا استعمال کم کر دیا گیا ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ آر ایل این جی پر مبنی پاور پلانٹس کے ذریعے پیدا ہونے والی بجلی مہنگی ہے اور اس سے بجلی کی مجموعی قیمت پر اثر پڑتا ہے اور صارفین کو نقصان پہنچتا ہے۔