عدت نکاح کیس؛سگریٹ کے آخری کش کو فیگ اینڈ کہتے ہیں،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی رہائی بھی فیگ اینڈ پر ہے،بیرسٹر سلمان صفدر

عدت نکاح کیس؛سگریٹ کے آخری کش کو فیگ اینڈ کہتے ہیں،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ ...
عدت نکاح کیس؛سگریٹ کے آخری کش کو فیگ اینڈ کہتے ہیں،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی رہائی بھی فیگ اینڈ پر ہے،بیرسٹر سلمان صفدر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت نکاح کیس میں سزا کیخلاف مرکزی اپیلوں پر بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ عدت میں نکاح کو جرم میں شامل نہیں کیا جاتا ہے،پہلی بار کہنا چاہتاہوں سب مقدمات میں سے عدت والا کیس ہے جو بہت بےہودہ ہے،ہم نے دیکھا کہ ریکوری کیسز میں ملزم کی جگہ بھائی، باپ وغیرہ کو اٹھالیا جاتا ہے،اس کا مقصد صرف اور صرف جذباتی، اخلاقی طور پر کمزور کرنا ہوتا ہے،سگریٹ کے آخری کش کو فیگ اینڈ کہتے ہیں،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی رہائی بھی فیگ اینڈ پر ہے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں دوران عدت نکاح کیس میں مرکزی اپیلوں پر سماعت ہوئی، جج افضل مجوکہ نے درخواست پر سماعت کی،جج افضل مجوکا نے بیرسٹر سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ اپنے دلائل کا آغاز کریں ہم کیس سنیں گے،بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ بشریٰ بی بی بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ ہیں اور بانی پی ٹی آئی سابق وزیراعظم ہیں،بشریٰ بی بی سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے سیاسی انتقام کا سامنا کررہی ہیں،بانی پی ٹی آئی کے خلاف جو انتقامی کارروائیاں  ہوئیں ان میں یہ ایک اہم کیس ہے،میری استدعا ہے کہ کچھ خواتین باہر کھڑی ہیں ان کو اندر آنے کی اجازت دی جائے۔

جج افضل مجوکہ نے کہاکہ میں نے کسی کو نہیں روکا، اگر کوئی ایسی بات ہے تو یہ انتظامیہ کے پاس اختیارہے،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ عدت میں نکاح کو جرم میں شامل نہیں کیا جاتا ہے،پہلی بار کہنا چاہتاہوں سب مقدمات میں سے عدت والا کیس ہے جو بہت بےہودہ ہے،ہم نے دیکھا کہ ریکوری کیسز میں ملزم کی جگہ بھائی، باپ وغیرہ کو اٹھالیا جاتا ہے،اس کا مقصد صرف اور صرف جذباتی، اخلاقی طور پر کمزور کرنا ہوتا ہے،سگریٹ کے آخری کش کو فیگ اینڈ کہتے ہیں،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی رہائی بھی فیگ اینڈ پر ہے،بانی پی ٹی آئی کے خلاف انتقام کی سب سے بڑی مثال عدت نکاح کیس ہے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ بشریٰ بی بی نے بیان میں لکھا رات پونے 10بجے 342کا بیان کیوں ریکارڈ کیا جارہا ہے،مگر ٹرائل کرنے والے جج صاحب نے رات گئے تک عدالت لگائے رکھی،ایسے کیسز میں پراسیکیوشن نے صرف ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے،سابق وزیراعظم کے خلاف کرپشن نہیں ملتی تو اس کیس کی طرف آتے ہیں،یہ تسلی تو ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف کوئی بھی دوسری کرپشن وغیرہ نہیں ملی،جج صاحب اڈیالہ ایک خاتون کی عدت کا دورانیہ سننے چلے گئے،پاکستان کی تاریخ میں سب سے مہنگی پراسیکیوشن بانی پی ٹی آئی کے خلاف تھی،سائفر کیس کا بجٹ دیکھیں نتیجہ کیا نکلا،عدت نکاح کیس اس چیز کی دلیل ہے کہ کوئی اور جرم نہیں بنا تو اسے جرم بنایا گیا۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ پہلی شکایت حنیف نے کی اس کے بعد خاور مانیکا نے شکایت درج کرائی،دونوں شکایات میں محمد حنیف اور خاور مانیکا کے وکیل اور گواہ ایک ہی تھے،جرح میں دو گواہان نے اس چیز کو قبول بھی کیا کہ وہ پہلے والی درخواست میں بھی تھے،شکایت میں سیکشن 496اور496بی کا ذکر کیاگیا،آدھا الزام 496بی کی وجہ سے جھوٹا ثابت ہو جاتا ہے،سیکشن 496کے تحت سزا غلط دی گئی ہے، اپیل کیوں سننی ہے جب جرم ہی نہیں لگتا،فراڈاور دھوکا ہو جائے تو میاں بیوی میں سے ایک ملزم اور ایک مدعی ہوگا، اس کیس میں میاں بیوی دونوں ملزم بنے ہوئے تھے،فراڈ میں ایک پارٹی دوسری پارٹی پر کیس کرتی ہے مگر یہاں پر کوئی حنیف کھڑا ہو جاتا،کیا یہ جرم قابل قبول ہے؟کس کے ساتھ ہوا ہے یہ فراڈ؟بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے ساتھ؟بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی شادی شدہ زندگی خوشی سےجی رہے ہیں۔