ہسپتال میں ایک اور ہی طرح کے عجیب و غریب واقعات تسلسل سے پیش آنا شروع ہو گئے، لوگوں کو ایک خاص واردات کے ذریعے لوٹا جانے لگا 

ہسپتال میں ایک اور ہی طرح کے عجیب و غریب واقعات تسلسل سے پیش آنا شروع ہو گئے، ...
ہسپتال میں ایک اور ہی طرح کے عجیب و غریب واقعات تسلسل سے پیش آنا شروع ہو گئے، لوگوں کو ایک خاص واردات کے ذریعے لوٹا جانے لگا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:326
ہسپتال میں ایک اور ہی طرح کے عجیب و غریب واقعات تسلسل سے پیش آنا شروع ہو گئے جس میں لوگوں کو ایک خاص واردات کے ذریعے لوٹا جانے لگا تھا۔ ہوتا کچھ یوں تھا کہ اس میں ملوث گروہ کا کوئی فرد کسی’شکار‘ کو منتخب کرتا اور پھر سرنج میں بھری ہوئی گندگی پیچھے سے اس کے کپڑوں پر ڈالتا ہوا آگے نکل جاتا، کچھ ہی دیر میں ہسپتال کے سفید کوٹ میں ملبوس اس کا دوسرا ساتھی وہاں پہنچتا اور متعلقہ شخص کو بتاتا تھا کہ اس کے کپڑوں پر گندگی لگی ہوئی ہے۔ وہ بیچارہ گھبرا کر دیکھتا تو کپڑوں کی حالت دیکھ کر پریشان ہو جاتا۔ ان کا یہ ساتھی اپنے آپ کو ہسپتال کا ملازم ظاہر کر کے مدد کرنے کے بہانے اسے باتھ روم میں لے جاتا اور وہاں نہ صرف اس کی قمیض اتارنے میں اس کی مدد کرتا بلکہ اسی دوران انتہائی صفائی سے اس کی جیب کی صفائی بھی کر دیتا۔ جب متاثرہ شخص اپنی قمیض کے داغ دھو رہا ہوتا تو وہ نام نہاد مددگار وہاں سے غائب ہو جاتا۔ اوپر تلے جب تین چار واقعات اس قسم کے ہوئے تو ایک پلان کے تحت جال بچھا کر ان کو پکڑا گیا اور پولیس کے حوالے کیاگیا۔ میرے لیے یہ طریقہئ واردات انتہائی دلچسپ اور حیران کن تھا لوگ نوسر بازی میں کس حد تک آگے نکل گئے تھے۔ پاکستان میں لوگ ان وارداتوں کے اتنے عادی ہو چکے تھے کہ اس کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر خاموشی سے قبول کر لیتے تھے۔
ایک دن استقبالیہ ہال میں کسی خاتون کا پرس رہ گیا، سیکورٹی گارڈ نے مجھے پہنچایا، اور جب اسے کھولا گیا تو اندر موبائل فون اور کچھ زیورات کے علاوہ اچھی خاصی رقم بھی موجود تھی۔ پہلے میں نے ہسپتال کے اندر ہی اپنے طور پر پتہ کروایا، جب بات نہ بنی تو اس میں پائے جانے والے موبائل فون سے نمبر دیکھ کر کچھ لوگوں کو فون کیا اور آخر ایک صاحب نے پہچان لیا کہ یہ ان کی بہن کا نمبر ہے جو فیصل آبادمیں رہتی ہیں۔ اطلاع ملنے پر وہاں سے ان کا فون آیا، پہلے حیران ہوئیں پھرکہنے لگیں کہ”بھائی ہم تو بھول بھی چکے تھے اور نیا موبائل بھی لے لیا تھا، ہمیں امید ہی نہیں تھی کہ بیگ میں اتنا قیمتی سامان اور رقم ہونے کے باوجود کوئی ہمیں اس طرح ڈھونڈ نکالے گا۔“اگلے دن وہ خاتون اپنے شوہر کے ساتھ آئیں اور ضرورت سے زیادہ احسان مندی اور شکریہ ادا کر کے اپنا بیگ لے گئیں۔ میں بڑی دیر تک حیران ہوتا رہا کہ میں نے ایسا کیا کیا تھا کہ جس کے لیے یہ لوگ اتنے زیادہ احسان مند ہو رہے تھے، جس کی چیز تھی اس کو لوٹا دی گئی لیکن معاشرہ اس حد تک بے رحم ہو چکا تھا کہ ان لوگوں کے لیے یہ بھی ایک انہونی اور غیر معمولی بات تھی۔ پہلے تو نہیں لیکن بعد میں ان کا عاجزانہ رویہ دیکھ کر ایک دفعہ تو میرا سر بھی فخر سے بلند ہو گیا، ورنہ میں تو اپنی طرف سے اسے معمول کی کارروائی سمجھ رہا تھا۔ بلا مبالغہ میرا یہ فخر بنتا نہیں تھا، اس کا صحیح حق دار تو وہ سیکورٹی گارڈ تھا جس نے پوری ایمانداری سے اپنا فرض نبھایاتھا اور یہ پرس اٹھا کر مجھ تک پہنچا یا تھا۔
نا جانے کیوں مجھے اس موقع پر ایک اور بہت ہی مزیدار قصہ یاد آ رہا ہے، سوچا سُنا کر آپکو بھی مسرت کے ان لمحوں میں شریک کروں اور بتاؤں کہ عام سوچوں کے برعکس بعض اوقات ڈاکٹروں کی حس مزاح بھی جاگ اٹھتی ہے اور وہ بڑی ہی خوبصورت بات کر جاتے ہیں جو بہت دیر تک نہ صرف یاد رہتی ہے بلکہ بے اختیار مسکراہٹ کا سبب بھی بنتی ہے۔اس دن ایسا ہی کچھ میں نے دیکھا اور محسوس کیا۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -