منصف کو شک سے بالا ہونا چاہئے

منصف کو شک سے بالا ہونا چاہئے

  

محترم چیف جسٹس افتخار محمد چودھری صاحب ، جن کی طرف مجھ جیسے افراد جذباتی انداز میں دیکھتے تھے، شاید اب احساس ہو گیا ہو گا کہ کس طرح اس ملک میںحالات کا دھارایک رُخ پرہی بہتا ہے ۔ انہیں ہم ”سینٹ جارج “ (عیسائی سینٹ جنہوںنے شیطانی ڈریگن کو شکست دی تھی) سے تشبیہ دیتے تھے کہ وہ اعلیٰ سطح سے بدعنوانی کے اژدھوں کے خاتمے کے لئے جہاد کر رہے ہیں ،مگر آسمان کے ستاروں کو کچھ اور ہی منظور ہوتا ہے اور اب بدعنوانی کے ڈریگن کے پاﺅںکے نشانات جناب کے دروازے کے آس پاس دکھائی دیئے ہیں۔ اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ چیف صاحب کے صاحب زادے ارسلان افتخار نے ملک ریاض صاحب، جو اس وقت بلاشبہ پاکستان کے سب سے بااثر شخص ہیں(شاید ہمارے فوجی قائدین سے بھی زیادہ طاقتور) سے بیش قیمت تحائف وصول کئے تھے یا نہیں۔ ملک صاحب کی شوکت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سابقہ کارپس اور ڈویژنل کمانڈر اُن کے ادارے میں ملازمت کر رہے ہیں۔ اسلام ہمارا عقیدہ تو ہے، مگر ہمارے دیس کے ذی وقار پارساﺅں کے دلوں میں پراپرٹی بزنس، جس کے ملک ریاض صاحب بے تاج بادشاہ ہیں، کا رچاﺅ ہے۔

چونکہ منصفین کا منصب نہایت حساس ہوتا ہے (جیسا کہ رومن بادشاہ سیزر نے کہا تھا کہ اُس کی بیوی شک سے بالا تر ہونی چاہئے) ، اس لئے ارسلان افتخار پر شک کا اظہار بھی تشویش ناک معاملہ نظر آتا ہے،چنانچہ سیزرکے کیس میںبیوی اور اس موجودہ کیس میں بیٹے پر شک کا سایہ بھی نہیں پڑنا چاہئے تاکہ ریاست کے معاملات درستگی سے چلتے رہیں۔ اس معاملے میں ایک اور ستم ڈھایا گیا ہے۔ میڈیا کے کچھ حلقوں ، جنہوںنے قوم کو میمو سکینڈل کا تحفہ دیا تھا، وہی شرلاک ہومز اس تازہ سکینڈل کے پیچھے ہیں۔ ابھی کوئی گواہی کسی کے پاس نہیں ہے، کوئی ثبوت نہیںہے کہ ملک ریاض صاحب اور ارسلان کے درمیان کسی رقم کا کوئی تبادلہ ہوا تھا ، ممکن ہے کہ ایسا کچھ ہوا ہو، مگر کیا بہتر نہیں تھاکہ کسی ثبوت کا انتظار کر لیا جاتا یا کوئی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی جاتی۔ اگر تبصروں میںکچھ تاخیر ہوجاتی تو کس آسمان کے گرنے کا خدشہ تھا؟اب معاملہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کہہ رہی ہے کہ اس کیس کے متعلق جس کسی کے پاس بھی کوئی شہادت یا ثبوت ہے ، مہیا کیا جائے، مگرا یسا لگتا ہے کہ سب لوگ کچھ چھپانے کے موڈ میںہیں۔

میمو کیس میںبھی ایسا ہی ہواتھا۔ اُس وقت میڈیا کی پیدا کی ہوئی جذباتی فضا میں چیف جسٹس صاحب اور آرمی چیف بھی معقولیت کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے تھے۔ اس بار کوئی دھماکہ خیز خبر تو نہیں بنی، تاہم سرگوشیوں میں ہی خبریں ”بریک “کی جارہی ہیں، تاہم ان سرگوشیوں نے بھی ایسا غل مچا دیا ہے کہ چیف صاحب کو کارروائی کرنا پڑی ہے، تاہم مجھے خدشہ ہے کہ میمو سکینڈل کی طرح وہ ایک مرتبہ پھر جلد بازی کر گئے ہیں۔ اس معاملے میں اُن کے بیٹے کا نام آرہا تھا اور چیف صاحب، جو ایک ماہر وکیل اور بلوچستان کے ایڈوکیٹ جنرل رہ چکے ہیں ، کے لئے اس معاملے میں سچائی تک پہنچنا دشوار نہیں تھا ۔ وہ ارسلان کو اپنے سامنے میز پر بٹھاتے اوراگر کوئی نا مناسب بات ہوئی تھی تو وہیں فیصلہ کر سکتے تھے۔

اگر ارسلان پر لگائے گئے الزامات میںکوئی صداقت ہے تو وہ بددیانتی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان کا فرزند ہونے کی حیثیت سے اُن کو ملک ریاض صاحب سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہئے تھا۔ اگر ایسا ہوا ہے تو بدعنوانی کا شبہ ضرور کیا جائے گا اور پھر انہیںکسی کو مورد ِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہئے۔ جب اسلام آباد ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی (DHA)کا بل قومی اسمبلی کی ڈیفنس کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا تو مَیں نے اس کی پُرزور مخالفت کی اور اختلافی نوٹ بھی لکھا۔ میرا موقف یہ تھا کہ دفاعی اداروںکو پراپرٹی کے معاملے میں خصوصی مراعات نہیں ملنی چاہئیں۔

ملک ریاض صاحب کو اسلام آباد (DHA) میں گہری دلچسپی تھی، چنانچہ وہ مجھے فون کرتے رہے.... (جہاں ملک صاحب کا مفاد ہو وہاں اُن کا عزم بے مثال ہوتا ہے).... اپنی مرضی کے خلاف مَیں ڈی ایچ اے اسلام آباد کا دورہ کرنے کے لئے راضی ہو گیا۔ ملک صاحب خود ڈرائیونگ کررہے تھے، جبکہ مَیں اگلی سیٹ پر اُن کے پاس بیٹھا تھا۔ اُنہوںنے مجھے زیر تعمیر منصوبوں کی سیر کرائی.... دیوہیکل بلڈ وزر رات دن کام کر رہے تھے اور زمین کو ، جس میں سے اکثر پر زبردستی قبضہ کیا گیا ہے، ہموار کیا جارہا تھا۔یہ کام دیکھ کر وقتی طور پر تو مَیں بھی بے حد متاثر ہوا اور ایسا محسوس ہوا کہ میرا اختلاف بے جا تھا۔ جب دورے کا اختتام ہوا تو ہم نے کافی سے لطف اندوز ہونا تھا، جبکہ منصوبے کو پاور پوائنٹ پر دکھایا جانا تھا اور یہ فریضہ ڈی ایچ اے کے ایڈمنسٹریٹر نے سرانجام دینا تھا۔ جب میری نظر اُن صاحب پر پڑی تو مجھے فورا ً اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ مجھے یہاں نہیں آنا چاہئے تھا،چنانچہ مَیں مختلف بہانے بناتا ہوا وہاںسے چلا گیا۔

ارسلان صاحب کو پتا ہونا چاہئے تھا کہ اُن کو کن افراد کی دوستی سے اجتناب کرنا ہے۔ اگر ان تیس سے چالیس کر وڑ روپے کو، جن کی ادائیگی کی بات کی جارہی ہے ، ایک طرف رکھ دیں تو بھی اُن کا ملک صاحب جیسے پراپرٹی بزنس کے بے تاج بادشاہوںسے کوئی تعلق ثابت نہیں ہونا چاہئے تھا، کیونکہ اُن کے والد صاحب کو بہت سے لوگ سینٹ جارج سمجھتے ہیں، جنہوںنے بدعنوانی کے ڈریگن کی سرکوبی کرنا ہے، جبکہ پراپرٹی کے کاروبار میں بہت سے معاملات توجہ طلب ہیں.... تاہم ہمارے ملک میں ایسے الزامات کو آسانی سے ثابت نہیں کیا جا سکتا ۔ ہم اس ضمن میں ایک ”آزاد “ ریاست ہیں اور یہاں ”سب چلتا ہے“۔ ارسلان کے خلاف ثبوت کون پیش کرے گا؟ ملک ریاض صاحب کو جتنا مَیں جانتا ہوں، وہ تو ایسا ہر گز نہیں کریں گے، چنانچہ میرا خیال ہے کہ یہ ایک اور میمو سکینڈل ہے اور اس میں شوروغل بہت ہو گا، مگر اندر سے کچھ بھی نہیںنکلے گا۔ تاہم چودھری صاحب کے حامی بڑی سنجیدگی سے سرہلاتے ہوئے کہیں گے کہ اپنے بیٹے کے معاملے میںچیف صاحب نے خلفائے راشدین کی یاد تازہ کر دی جبکہ میڈیا کے رستم ، اور ان کی ہمارے ملک میںکمی نہیں ہے، سنجیدہ چہروں پر تیوری چڑھائے، اس معاملے میںکسی سازش کی بو سونگھ رہے ہو ں گے اور ایک مرتبہ پھر اُن کو آئینی بحران کے سائے گہرے (ہمارے ہاںسے یہ چھٹے کب تھے؟) ہوتے ہوئے دکھائی دیںگے۔

 حماقتیں، حسب ِ معمول، سر زد ہونا شروع ہو گئی ہیں۔اس سکینڈل کے مرکزی کردار ، جو ملک ریاض صاحب ہیں، نے اس پر کوئی بیان نہیں دیا۔اُن سے منسوب کوئی رائے پیش نہیں کی جاسکتی ۔پھیلی (یا پھیلائی) ہوئی افواہوں کے سوتے ٹی وی کے کچھ سرکردہ اینکر پرسنز کی گواہی سے پھوٹتے ہیں، تاہم اگر اس کیس کا کوئی فیصلہ کرنا ہے تو چیف صاحب کو ان افواہوںسے کچھ زیادہ ٹھوس مواد درکار ہوگا۔ اب کیا چیف صاحب بحریہ ٹاﺅن کے مالک ملک ریاض صاحب سے معلومات اگلوانے کی کوشش کریںگے ۔ اُن کے ادارے کے افسران ، جو زیادہ تر ریٹائرڈ فوجی افسران ہیں، سے کچھ بھی سننے کو نہیںملے گا۔ دوسری طرف میڈیا سے وابستہ افراد، جنہوںنے بہت شور مچایا ہوا ہے ، حلف اٹھاکر کچھ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیںہوں گے اور نہ ہی اُن کے پاس سے قابل ِ اعتماد ثبوت ملنے کی توقع ہے، چنانچہ یہ کیس بھی بہت سے دوسروںکی طرح افواہوںکی نذر ہو جائے گا۔

ہمارے ہاںجوڈیشل کمیشن قائم کرنا بھی بے نتیجہ کوشش ہوتی ہے، کم از کم حالیہ دنوں قائم کئے گئے کمیشن سعی ِ لا حاصل تھی۔ ایبٹ آباد کمیشن ابھی تک اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ماررہا ہے۔ میمو سکینڈل کو تو سپریم کورٹ بھلادینے میں ہی بہتر ی سمجھے گی، جبکہ اصغر خان پٹیشن پر تو باوثوق ثبوت بھی دستیاب ہیں،مگر اس کی شنوائی نہیںہے۔ جب یہ شاندار کارکردگی ہو تو مسٹر ارسلان کیس سے ہم نے کون سا ڈریگن ہلاک کر لینا ہے؟ تاہم موجودہ سیکنڈل ایک سچائی کو ثابت کرتا ہے .... ٹرکش باتھ اور پاکستانی سیاست میں سب کا ”حال “ ایک جیسا ہی ہے۔ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا، سب کا نامہ ¿ اعمال ایک ہاتھ میں ہی ملے گا۔ یہاںکوئی ایسا معیار نہیںہے جس کو تقلید کے لائق قرار دیا جاسکے۔ ہم سب ایک ہی دھن میں (مال بنانے کی ) لگے ہوئے ہیں اور اس کے لئے جو بھی ذرائع اختیار کرنا پڑیں، ہم ہرگز گریز نہیں کرتے، چنانچہ جس مسئلے کا ہمیں سامنا ہے، وہ یہ ہے کہ ہمارا ملک غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے، جبکہ افراد امیر سے امیر تر ہوتے جارہے ہیں۔ ہم انفرادی خوشحالی ا ور اجتماعی غربت کی صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں۔

اس ملک کی مایوس کن صورت ِ حال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ اب تو دعائیہ کلمات بھی ساتھ نہیں دیتے۔ قومی سطح پر ہونے والی بدعنوانی پر بہت سے لوگ چیف جسٹس صاحب کی طرف دیکھا کرتے ہیں اور ان کی ذات اس اندھیرے میں روشنی کی کرن دکھائی دیتی ہے ، وگرنہ ہمارے ہاں عدلیہ کا ریکارڈ اتنا حوصلہ افزا نہیں ہے۔ ہماری اعلیٰ عدلیہ آمروںکے اشارے پر رقصاں رہی ہے ، تاہم چودھری صاحب کے انکار نے عدلیہ کی آزادی کاایک نیا دور شروع کیا اور ہم نے اعلیٰ عدلیہ کو ایسے کیسوں میںہاتھ ڈالتے دیکھا ، جیسا کہ گم شدہ افراد کا کیس، جو ہمارے ہاں شجر ِ ممنوعہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ تمام ڈریگن ہلاک نہ ہوئے ہوں، مگر ایک اچھی راہ پر قدم تو رکھنا شروع کر دیا ہے، تاہم اب افواہ سازوںنے اُن کے دروازے کی طرف جانے والے راستے کو گرد آلود کر دیا ہے۔ چیف صاحب کو ان کی پروا کئے بغیر اپنا سفر جاری رکھنا چاہئے۔ اس ملک میں ایسا ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ اس زندگی میں صرف تبدیلی ہی مستقل ہے۔ یہ معاملہ بھی کسی دن ہوا ہوجائے اور اگر ہماری قسمت اچھی ہوئی تواس سے سبق سیکھا جا سکتا ہے۔

مصنف، معروف کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔

مزید :

کالم -