کوہستانی لڑکیوں کے قتل کا قضیہ

کوہستانی لڑکیوں کے قتل کا قضیہ

  



چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کی طرف سے کوہستان میں پانچ خواتین کے مبینہ قتل کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ تمام لڑکیاں زندہ ہیں۔تین ہیلی کاپٹروں میں انتظامیہ کے ارکان نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ان کے ساتھ شامل این جی اوز کی خاتون ارکان کی متاثرہ 5خواتین میں سے دو کے ساتھ ملاقات ہوگئی ہے، لیکن لڑکیوں کے والدین اپنی قبائلی روایات کی وجہ سے ان کو عدالت کے روبرو پیش کرنے کو تیار نہیں۔

یاد رہے گزشتہ ہفتے کوہستان کے علاقے پالاس سے تعلق رکھنے والے دو مردوں اور پانچ لڑکیوں کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی ،جس میں مردوں کے رقص پر مذکورہ لڑکیاں تالیاں بجاتی دکھائی گئی تھیں۔ویڈیو کے منظر عام پر آتے ہی مبینہ طور پر مقامی قبائل نے فوری طور پر جرگہ طلب کیا،جس میں 2مولویوں نے فتویٰ جاری کیا کہ تالیاں بجانے والی بہنیں اور ناچنے والے مرد واجب القتل ہیں،فتویٰ جاری ہونے کے بعد لڑکے گاﺅں سے فرار ہوگئے جبکہ لڑکیوں کو مبینہ طور پر ذبح کردیا گیا۔اس خبر پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ازخود نوٹس کے تحت کارروائی کرتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کوحکم جاری کیا کہ واقعہ کی تحقیقات کرکے رپورٹ دی جائے۔ گزشتہ روز عدالت کے علم میںیہ بات لائی گئی کہ لڑکیاں زندہ ہیں، ان میں سے دو سے ملاقات بھی ہوگئی ہے۔

زیر نظر واقعہ میں عدالت عظمیٰ کے حکم پر جرگے کے لوگوں اور مبینہ مذہبی پیشواﺅں کے خلاف کارروائی کا حکم ملنے پر انتظامیہ نے انہیں کوگرفتار کرلیاتھا۔بعدازاں تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس واقعہ کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کرنے والے نوجوان کے اپنے مقاصد تھے جو اس ویڈیوکے ذریعے مغربی میڈیا میں خود کو انسانی حقوق کا چیمپئن ظاہر کرکے اس واقعہ کو منظر عام پر لانے کی پاداش میں قبائلی جرگے کے متوقع ردعمل کا خطرہ ظاہر کرکے اپنے لئے کینیڈا یا امریکہ وغیرہ میں پناہ لینے کا خواہش مند تھا۔خیبرپختونخوا کے وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے کوہستان سے واپسی پر اس واقعہ کو غلط اور بے بنیادقرار دیا ہے۔جبکہ این جی اوز کی 2خواتین نے بھی تمام عورتوں کے زندہ ہونے اور ان میں سے دوسے ملاقاتوں کی تصدیق کی ہے۔

دراصل پاکستان میں سرگرم عمل بعض این جی اوز کی جانب سے بعض منفی واقعات ضرورت سے زیادہ اُچھالے گئے۔اس کلچر نے بہت سے منفی ذہن رکھنے والوں کو بیرون ملک جانے کا یہ اوچھا ہتھکنڈہ استعمال کرنے کی تحریک دی ہے۔یہ لوگ محض ذاتی مفاد کے لئے ملک و قوم کو بدنام کرنے سے بھی نہیں چُوکتے۔ بظاہر افضل نامی شخص ایسا ہی نوجوان ثابت ہوا ہے جو تحقیقاتی کمیٹی کے اراکین کی طرف سے لڑکیوں کو زندہ قراردیئے جانے پر بھی اپنے دعویٰ پر ڈٹا رہا اور وقفے کے دوران عدالت سے فرار ہوگیا۔اس کے بارے میں ڈی پی او نے بتایا کہ اس نے خاندانی دشمنی کا بدلہ لینے کے لئے لڑکیوں کے خاندان کو بدنام کرنے اور اپنے باہر جانے کے خواب کو پورا کرنے کے لئے سارا ڈرامہ رچایا۔اسی قسم کے اوچھے حربے استعمال کرکے ملک و قوم کی بدنامی کاباعث بننے والے عناصر کے خلاف صرف دفعہ 420کے تحت مقدمہ قائم کرنا کافی نہیں، بلکہ انہیں وطن عزیز کی تحقیر اور بدنامی کے جرم پر سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے۔

مزید : اداریہ