ڈاکٹر نذیر احمد شہیدؒ (1972ء ...1929 ء)

ڈاکٹر نذیر احمد شہیدؒ (1972ء ...1929 ء)
 ڈاکٹر نذیر احمد شہیدؒ (1972ء ...1929 ء)

  

8جون1972ءکو جماعت اسلامی کے عظےم رہنما اور قومی اسمبلی کے رکن جناب ڈاکٹر نذیراحمد کو شہید کردیاگیا۔ یہ سطور شہید کی یاد میں اسی دن بے ساختہ نوکِ قلم پر آگئی تھیں۔ آج ان کے یوم شہادت پر یہ پھر نذر قارئین کی جارہی ہیں۔]

خبر تھی ےا بجلی؟ مَیں اس وقت رحیم ےار خان میں تھا، جب برادرم اعجاز ہاشمی صاحب (اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن) نے اچانک ےہ خبر سنائی۔ ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کی شہادت کی خبر!میرے منہ سے بے ساختہ نکلا : ” ڈاکٹر صاحب!ابھی تو ہمارے پہلے زخم بھی مندمل نہیں ہوئے تھے“۔(میرا اشارہ سانحہ مشرقی پاکستان کی طرف تھا۔ وہاں ہمارے بہت سے قیمتی ساتھی ہم سے بچھڑ گئے تھے).... مَیں8جون کو بعد دوپہر رحیم ےار خان پہنچا تھا۔ رات کو کافی دیر تک برادرم قاری صغیر حسین اور عبدالرزاق بھائی کے ساتھ تحریک اسلامی کے مستقبل کے بارے میں گفتگو کرتا رہا۔ ہماری گفتگو میں ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کا ذکر بار بار آتا رہا۔ ڈاکٹر صاحب چند روز قبل صادق آباد کی ایک تربیت گاہ میں تشریف لائے تھے۔ رحیم ےار خان کے ساتھیوں نے بھی ان سے 18جون کی تاریخ لے رکھی تھی،تمام کارکن اس دن کے منتظر تھے۔ ہم میں سے کسی کو علم نہیں تھا کہ جس وقت ہم اپنے اس عظیم ساتھی کے بارے میں رات کو ستاروں کی چھاﺅں، کھلے صحن اور گرم موسم میں بیٹھے ےہ باتیں کر رہے تھے، وہ ہم سے رخصت ہو کر دور کسی وادی¿ امن و سکون میں گہری نیند سو رہے تھے۔

لبیک اللّٰھم لبیک: ڈاکٹر صاحب نے خود کو کئی سال قبل ذہنی طورپر تےار کرلیا تھا، لبیک اللھم لبیک کے لئے۔ انہیں بخوبی علم تھا کہ اس راہ میں دارورسن اور شہادت کی منزلوں سے گزرنا پڑے گا۔ شاےد انہیں شہادت سے ہم کنار کرنے والے پستول برسوں سے ان کے آس پاس منڈلا رہے تھے۔ مَیں نے ڈاکٹر صاحب کو پہلی بار جماعت اسلامی کے اس سالانہ اجتماع(لاہور 1963ئ) میں دیکھا جس پر اےوب خان اور نواب آف کالا باغ کے دور میں غنڈوں نے گولیاں برسائیں اور اللہ بخش کو شہادت کی سعادت نصیب ہوگئی ،لیکن ڈاکٹر صاحب کی پیشانی اور سینے تک پہنچنے والی گولیاں کسی اور دور کے حصے میں آئیں۔ مَیں ڈاکٹر صاحب کو 1963ءکے بعد بھی اکثردیکھتا رہا ،لیکن ان سے باقاعدہ تعارف1968ءمیں ہوا، جب انہوں نے میرے اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کی نظامت کے دور میں میرے اصرار پر شب بیداری کے ایک پروگرام میں شرکت فرمائی۔

ےادگار تربیتی نشست:مجھے وہ منظر اب تک ےاد ہے۔ مَیں ڈاکٹر صاحب کو شب بیداری کے اس پروگرام میں شمولیت کی دعوت دینے کے لئے ان کی خدمت میں اچھرہ حاضر ہوا تو وہ بیمار تھے۔ اس وقت ان کے پاس مولانا معین الدین خٹکؒ صاحب اور کچھ دوسرے احباب بیٹھے ہوئے تھے۔ مَیں نے اپنا تعارف کراےا اور اپنی آمد کا مقصد بےان کیا۔ ڈاکٹر صاحب کے تمام دوستوں نے ان کی بیماری کا حوالہ دےا۔ ناتجربہ کاری اور کم علمی کی وجہ سے مَیں نے اصرار کیا اور پھر فیصلے کے لئے ڈاکٹر صاحب کی طرف دیکھا۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے میرے شانے پر اپنا ہاتھ رکھا اور مسکراتے ہوئے آنے کا وعدہ کرلیا۔ وہ آئے اور ان کی آمد سے ہماری وہ تربیتی نشست ےادگار بن گئی۔ ان کا ایک ایک لفظ درد میں ڈوبا ہوا، اخلاص سے دھلا ہوا اور عمل پر ابھارنے کے لئے تیر بہدف بنا ہوا تھا۔

اسی تربیتی نشست میں مولانا معین الدین صاحب کا درس حدیث تھا۔ طے پاےا کہ ڈاکٹر صاحب مولانا معین الدین صاحب کے درس حدیث کے بعد خطاب فرمائیں گے۔ پروگرام کے مطابق مولانا معین الدین صاحب کا درس حدیث رات 11 بجے ختم ہوا۔ ڈاکٹر صاحب اس سے پانچ منٹ پہلے، پروگرام کے مطابق، معتمد ِجمعیت لاہور برادرم عبدالوحید سلیمانی کے ہمراہ وہاں پہنچ چکے تھے۔ ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کی تقریر کا موضوع تھا: ”فریضہ اقامت دین اور ہم“۔ مولانا معین الدین صاحب ان کی تقریر سننے کے لئے وہیں رُک گئے۔ تقریر رات بارہ بج کر دس منٹ تک جاری رہی۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے سوالات کے جوابات دیئے۔ ےہ سلسلہ ایک بجے تک جاری رہا۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب سے کارکنوں نے فرمائش کی کہ وہ اپنا تعارف کرائیں۔ انہوں نے محض اپنا نام، رہائش اور جماعت میں ذمہ داری تک اپنا تعارف محدود رکھا۔ پھر جب وہ مولانا معین الدین صاحب کے ہمراہ رخصت ہونے لگے تو ہم نے ایک کارکن کو ان کے ساتھ بھیجنا چاہا ،لیکن ڈاکٹر صاحب نے فرماےا: ”بھئی کسی کو تکلیف نہ دیجےے، ہم چلے جائیں گے“.... اور ڈاکٹر صاحب چلے گئے۔ آج وہ بہت دور جا چکے ہیں، لیکن آج بھی جاتے ہوئے انہوں نے کسی دوسرے کو کوئی زحمت نہیں اٹھانے دی۔ ان کے پاس چند کارکن موجود تھے ،لیکن انہوں نے ہر گولی اپنے سینے پر روکی اور خاموشی سے چلے گئے:

راہ دشوار اور دوری¿ منزل

آ ہی پہنچے افتاں، خیزاں

سب کا پیارا، سب کا مشفق

1970ءکے آخر میں، مَیں ساہیوال جیل سے ایک سال کی قید کاٹ کر رہا ہوا۔ ملتان میں ڈاکٹر نذیر احمدصاحب سے ایک پروگرام میں ملاقات ہوئی تو اجتماع کے بعد وہ مجھے اپنے دوستوں سے ملانے کے لئے لے گئے۔ مَیں اس شام ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ملتان میں ان کے کئی دوستوں سے ملنے گیا۔ ہم جہاں بھی گئے، وہاں مَیں نے دیکھا کہ ان کی آمد کی خبر سن کر گھر کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی دوڑتے ہوئے آتے اور آ کر ان سے لپٹ جاتے۔ حقیقت ےہ ہے کہ ہمارے اس شہید رہنما نے ہر جگہ پیار اور خلوص کے دیپ جلائے ہیں۔ اس نے ضلع ڈیرہ غازی خان کے جاگیردارانہ نظام میں جکڑے ہوئے لوگوں کے اندر عزت کی زندگی کا احساس پیدا کیا،پروانوں کو دوردراز کے ریگزاروں سے اپنے گرد جمع کیا۔ وہ شمع محفل تھا اور پروانے اس کے گرد منڈلاتے رہتے تھے۔ تحریک اسلامی کا پیغام اس بنجر زمین میں اس محنت سے پہنچاےا کہ ےہی سنگلاخ ضلع، پنجاب کا سب سے زرخیز خطہ بن گیا [1970ءکے ملکی انتخابات میں پورے پنجاب سے صرف ڈیرہ غازی خان ایک ایسا ضلع تھا، جہاں سے جماعت نے ایک قومی اور ایک صوبائی اسمبلی کی نشست جیتی]۔ پہاڑوں اور جنگلوں میں رہنے والوں نے اس مومن صادق کو اپنے دکھ دردمیں شریک پاےا۔ شہر کے باسیوں نے اسے ہر حال میں اپنا غمگسار قائد پاےا۔ بچوں نے اسے دیکھا تو خوشی سے ان کے چہرے دمک اٹھے، کیونکہ اس کا دستِ شفقت ایک باپ کی طرح ان کے سروں پر رہتا۔ بوڑھوں سے وہ ملا تو اس طرح جیسے ایک سعادت مند نوجوان اپنے بزرگوں سے ملتا ہے۔ نوجوانوں نے اسے دیکھا تو مصائب اور مشکلات میں جینے کا حوصلہ پاےا۔ ےہ انسان زندگی بھر روشنی کا پیغام بن کر جیا اور جب رخصت ہوا تو اس کی موت بھی قابل ِ رشک بن گئی۔

جیل میں تذکرہ:مجھے مارچ1970ءمیں کیمپ جیل لاہور سے سنٹرل جیل ساہیوال منتقل کیا گیا۔ ےہ ایک بڑی جیل ہے۔ ےہاں بلوچ قیدیوں کی بہت بڑی تعداد قیدتھی۔ ےہ تمام قیدی نماز روزے کے پابند اور متشرع تھے۔ ان کا قائد ایک ستر سالہ بوڑھا بلوچ منگن خان تھا، جس کی قید 48 برس تھی۔ منگن خان کو اس بڑھاپے میں بھی خطرناک قیدی سمجھ کر”چھ چکی“ میں بند کیا گیا تھا....(اس جگہ خطرناک قیدیوں کی خصوصی نگرانی کا اہتمام ہوتا ہے).... مَیں بھی نہ معلوم کیوں”خطرناک“ قیدیوں کے زمرے میں لکھ دےا گیا اور اس وارڈ کی ایک کوٹھڑی میں مجھے بھی بند کر دےا گیا۔ منگن خان سے نماز کے وقت ملاقات ہوجاتی تھی۔ ظہر،عصراور مغرب کی نمازیں ہم سب قیدیوں نے باجماعت ادا کرنی شروع کردی تھیں۔

ایک روز اخبار میں، مَیں ڈاکٹر نذیر احمدصاحب کا بےان پڑھ کر قیدیوں کو سنا رہا تھا کہ منگن خان وہاں آےا۔ وہ ڈاکٹر صاحب کا نام سن کر خوشی سے اچھل پڑا اور کہنے لگا: ”مَیں نے زندگی میں اس سے زےادہ دلیر اور جرا¿ت مند شخص کوئی نہیں دیکھا۔ ماں نے شیر جنا ہے “۔ منگن خان نے بتاےا: ” مَیں نے ڈاکٹر کی جیل کی زندگی دیکھی ہے۔ کئی مرتبہ مختلف جیلوں میں وہ ہمارے ساتھ رہا۔ وہ راتوں کو تہجد اور نوافل اور قرآن خوانی میں جیل کی کال کوٹھڑےوں کو آباد کیا کرتا تھا اور دن کے وقت وہ قیدیوںکے حقوق کے لئے افسرانِ بالا کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا تھا۔ وہ اکثر ہمارے ساتھ سی کلاس میں رکھا جاتا۔ کبھی کبھار ڈاکٹر کو بی کلاس بھی مل جاتی تو عملاً ہمارے ساتھ سی کلاس میں ہی رہتا۔ وہ اپنا کھانا لے کر عام قیدیوں کے درمےان آجاتا اور سب کے ساتھ مل کر کھاتا۔ ہم سب ساتھی بھی مل کر کھاتے ہیں۔ ےہ مل جل کر کھانے کی عادت ہمیں ڈاکٹر نذیر احمدنے ہی سکھائی ہے۔ کتنے ہی لوگوں کو اس نے ےہاں نماز پڑھنی سکھائی، قرآن پڑھاےا۔ قیدیوں کے جھگڑے،جن پر خون خرابہ ہوسکتا تھا اور بڑے بڑے افسر بے بس ہو جاتے تھے، ڈاکٹر کے آتے ہی منٹوں میں حل ہو جاتے تھے“۔

وہ ےادگار سفر:رحیم ےار خان سے رات ڈیرہ غازی خان کا سفر ممکن نہ تھا۔ صبح سویرے مَیں،عبدالرزاق بھائی، برادرم صغیر حسین اور دیگر ساتھی عازمِ ڈیرہ ہوئے۔ کبھی باہمی گفت گو، کبھی خاموشی اور غم،سوچوں کا سفر اور ماضی کے جھروکے!عجیب سفر تھا۔ اب ہم بس میں بیٹھے رحیم ےار خان سے ظاہر پیر اور چاچڑاںکے راستے ڈیرہ غازی خان جا رہے تھے۔ ہم وہاں وقت پر نہ پہنچ سکے۔ اگرچہ ڈرائیور نے ےہ معلوم ہوتے ہی بس چلا دی تھی کہ ہم ڈیرہ غازی خان، ڈاکٹر نذیر احمدصاحب کے جنازے میں شرکت کے لئے جا رہے ہیں۔ اسے بس چلاتے ہوئے دیکھ کر کنڈکٹر لپک کر اس کے پاس آےا اور کہنے لگا ”بس کیوں چلا دی،ابھی بس خالی ہے۔ “ ڈرائیور کا جواب تھا: ”پیسے تو روز کماتے ہیں۔ آج پیسے کمانے کا دن نہیں۔ ان لوگوں کو ڈاکٹر صاحب کے جنازے میں شریک ہونا ہے“.... لیکن ہم پیچھے رہ گئے اور ڈاکٹر صاحب آگے نکل گئے۔ وہ ہمیشہ ہم سے بہت آگے رہتے تھے۔

مقتل کا منظر:ظاہر پیر سے ہم ایک دوسری بس میں مظفر گڑھ پہنچے۔ وہاں سے ڈیرہ غازی خان کی بس میں سوار ہوئے۔ رحیم ےار خان سے ڈیرہ غازی خان تک ہمارے پورے سفر کے دوران ہر بس اور راستے کے ہر سٹاپ پر شہید کے تذکرے تھے۔ لوگ اسی موضوع پر گفتگو کررہے تھے۔ اداس چہروں پر ایک ہی کہانی لکھی ہوئی تھی۔ ہم ساڑھے آٹھ بجے شب ڈیرہ غازی خان پہنچے۔ تھوڑی دیر بعد ہم ڈاکٹر صاحب کے مطب اور مقتل کے سامنے کھڑے تھے۔ ہم اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے اورآنسوﺅں کو روکنے کی پوری کوشش کر رہے تھے ،لیکن جب ڈاکٹر صاحب کی جامع مسجد اورمدرسہ تفہیم الاسلام کے دروازے پر پہنچے تو بے بس ہوگئے۔ تمام دوست احباب پژمردہ اور نڈھال تھے۔ وہ جیسے ٹوٹے ہوئے بازوﺅں کے ساتھ آکر گلے ملے تو ضبط و صبر کے تمام بندھن ٹوٹ گئے۔ نوجوانوں کی سسکیاں چیخوں میں بدل گئیں اور آنکھوں سے جوئے خوں بہنے لگی۔ پھر جب کچھ سنبھلے تو میری زبان جیسے گنگ ہوکر رہ گئی۔ مَیں چپ چاپ دوسروں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میرے اوپر ایسی کیفیت پوری ز ندگی میں ایک آدھ مرتبہ ہی طاری ہوئی ہے۔ مَیں نے ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں قبرستان لے چلیں۔ اب ہم کھڑے اس قبر پر دعا مانگ رہے تھے، جہاں لوگوں کا ہجوم تھا۔ شمع پردے میں تھی، پھر بھی پروانے اس کے گرد منڈ لارہے تھے۔

شہید زندہ ہوتے ہیں: 8جون 1972ءکو نماز مغرب کے بعد8بج کر12منٹ پر ڈاکٹر نذیر احمدصاحب پر ان کے مطب میں حملہ کیا گیا۔ دو گولیاں اس پیشانی پر لگیں، جو سوائے خدائے بزرگ وبرتر کے کسی کے سامنے نہیں جھکی اور ایک گولی اس سینے میں پیوست ہوگئی، جس میں ہر انسان کے لئے ایک درد بھرا دل دھڑک رہا تھا۔ اب ہم ان کی قبر کے گرد کھڑے تھے۔ رات کا وقت تھا،مگرلوگوں کا ایک ہجوم امڈا چلا آرہا تھا۔ آنکھوں میں آنسو،چہروں پر عقیدت، زبانوں پر تلاوت قرآن مجید،کلمہ طیبہ اور درود شریف۔ ہزاروں دل دھڑک رہے تھے۔ لاکھوں دل دھڑک رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب! کون کہتا ہے کہ آپ ہمارے درمےان موجود نہیں ہیں؟

جس سمت قدم اٹھ جاتے ہیں،خود منزل آگے آتی ہے

ےہ راز کچھ ایسا راز نہیں،آسودہ¿ منزل کیا جانیں

اک وقت بھی ایسا آتاہے، جب موجیں ساحل بنتی ہیں

یہ طوفانوں کی باتیں ہیں ، آسودہ¿ منزل کیا جانیں

مزید :

کالم -