قومی کمیشن برائے انسانی حقوق

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق

  

کسی قانون کو اختیار کرنے کے لئے طویل جدوجہد (تاکہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے ریاستی کمیشن تشکیل دیا جاسکے) آخر کار کامیاب انجام سے دو چار ہوئی، جب صدر مملکت نے انسانی حقوق کے قومی کمیشن ایکٹ پر دستخط کر دئیے ہیں۔ یہ 1990ءکی ایک نگران حکومت تھی، جس نے سب سے پہلے انسانی حقوق سے متعلق کمیشن قائم کرنے سے متعلق سوچا۔ اس وقت اس منصوبے سے متعلق خیال یہ تھا کہ اسے وزارت داخلہ کے زیر انتظام قائم کیا جائے، لیکن انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں نے اس وقت اسے ایک بُرا مذاق سمجھا۔اس کے بعد سے ابتک بنیادی اہمیت کی بات یہ بن گئی ہے کہ ادارہ برائے قومی انسانی حقوق(NHRI) ایسا ادارہ ہو جو حکومت کی عملداری سے آزادہ ہو اور دوسری بات جو اہمیت کی حامل ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس کے اندر اتنی صلاحیت ہو کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے (جو کیس اس کے سامنے آئیں) کی مکمل صلاحیت رکھتا ہوں دو مرتبہ کی تاخیر کے بعد قومی اسمبلی نے اسی سے ملتا جلتا ایک بل2011ءکے اوآخر میں پاس کیا، لیکن سینٹ نے اس کو منظور کر نے سے انکار کر دیا کیونکہ سینٹ کی خواہش تھی کہ اس میں ترمیم کی جائے۔ آخر وہ بل جس میں سینٹ کی جانب سے ترمیم کی گئی تھی۔ اسے گزشتہ ماہ کے اوائل میں قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا اور منظوری کے لئے آگے بھیج دیا گیا۔

  قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے تمام مندرجات اس سے متعلق بھارتی قانون کو دیکھنے کے بعد طے کئے گئے ہیں۔ سینٹ نے اس بل میں جو اہم ترامیم کی تھیں۔ اُنہیں قومی اسمبلی نے منظور کر لیا ہے۔اصلاً کمیشن کاسربراہ سپریم کورٹ کا ایک سابقہ جج ہوگا یا پھر وہ شخص، جو اہلیت کے اس معیار پر پورا اترے گا۔ سینٹ کی ترمیم کے مطابق جو شخص انسانی حقوق کے معاملات سے متعلق قابل مظاہرہ حقیقی علم رکھتا ہوگا۔ اسے بھی اس مقصد کے لئے منتخب کیا جاسکتا ہے۔ اس بل میں کی جانے والی اور اہم تبدیلیاں اس میں دو سیکشنز کا اضافہ تھا۔ ان دو سیکشنز میں ایک کا تعلق مسلح افواج اور دوسرے کا خفیہ اداروں سے متعلق ہے۔ کمیشن اس ایک چیئرمین پر مشتمل ہوگا، جس میں ہر صوبے، فاٹا اور اسلام آباد سے ایک ایک ممبر منتخب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک ممبر اقلیتوں سے بھی ہوگا۔ اس کے علاوہ خواتین کے لئے نیشنل کمیشن کے چیئر پرسن اور سیکرٹری بھی اس میں شامل ہوں گے۔ کم از کم دو ممبرز کا خواتین میں سے ہونا ضروری ہے۔ تمام ممبران قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے لئے کل وقتی کام کریں گے، ماسوائے خواتین کے لئے کمیشن کے سربراہ کے۔

قانون دانوں نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو آزاد بنانے کے لئے اس بات پر زور دیا ہے کہ کمیشن کے چیئرمین اور ممبران کا انتخاب مختلف سیاسی جماعتوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کرے اور کمیشن مالی طور پر خود مختار ہو، کمیشن کے افعال میں شامل ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اپنے طور پر پٹیشن کے ذریعے انکوائری کرے۔ کمیشن کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے گورنمنٹ ملازمین کی جانب سے برتی جانے والی غفلت پر بھی نظر رکھے، وہ جیلوں کا دورہ کریں (کمیشن کے ارکان) جہاں پر مجرمان اور ملزمان کو رکھا جاتا ہے کہ وہاں پر انسانی حقوق کے تحفظ کے گئے اقدامات کا جائزہ لیں اور صورت حال میں بہتری کے لئے تجاویز دیں۔ انہیں ان پہلوﺅں کا بھی جائزہ لینا چاہئے، جن میں دہشت گردی بھی شامل ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے کسی بھی کیس کی براہ راست تحقیق: حکومت کو کام کے حوالے سے رپورٹ پیش کی جائے۔ اس کے علاوہ عملدرآمد کے لئے قومی منصوبے کا قیام اور اس کے علاوہ انسانی حقوق کی بہتری کے لئے کسی بھی اقدام کی ضرورت ہے تو اس کو انجام دیا جائے۔

مندرجہ بالا منشور بھارتی قانون سے مستعار لیا گیا ہے اور انسانی حقوق کمیشن کے کئی قومی اداروں میں نافذ العمل ہے یہ قوانین پیرس کے قوانین (جن کو تمام انسانی حقوق کے ادارے مانتے ہیں) پر بحث کر کے بھی اخذ کئے گئے ہیں۔ اصل مسئلہ کمیشن کے اختیارات سے متعلق ہے۔ انسانی حقوق سے متعلق دیگر اداروں کی طرح قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے پاس بھی اتنے اختیارات ہوں گے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی خود تحقیقات کر سکیں یا ایسا کرنے کا حکم دیں۔ اس کے پاس سول کورٹ جتنے اختیارات ہوں گے اور اس کے روبرو ہونے والی تمام کارروائی عدالتی نوعیت کی ہوگی۔ جب کمیشن اپنی انکوائری کمل کر لے گا تو یہ حکومت کو کارروائی سے متعلق اقدامات اٹھانے کی تجویز دے گا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے یا وہ جن کی غفلت کی بدولت ایسا اقدامات ہوئے ان کے خلاف سزا اور ظلم کا شکار بننے والوں کے لئے ریلیف جیسے اقدامات تجویز کر سکے گا۔ حکومت کے لئے لازم ہوگا کہ وہ مقرر وقت کے اندر کمیشن کی تجاویز کی روشنی میں ہونے والے اقدامات سے کمیشن کو آگاہ کرے جس کے بعد کمیشن تمام ریکارڈ کو شائع کروائے گا۔ عوام الناس فوری انصاف کے لئے جس قسم کے نظام کے خواہاں تھے یہ وہ نہیں ہیں۔ بہت سے لوگ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے بے دانت ہونے سے متعلق احتجاج کر رہے ہیں۔ مسلح افواج اور خفیہ اداروں کی شکایات سے متعلق باب پہلے ہی متنازع صورت اختیار کر چکا ہے۔

سیکشن(14) مسلح افواج کی تکریم کو ملحوظ خاطر کھتے ہوئے ان سے متعلق کارروائی پر مشتمل ہے جس کو بھارتی قانون سے مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔(یہ چیز فوری طور پر اسے اچھا یا بُرا نہیں بناتی) یہ کہتا ہے (سیکشن) کہ مسلح افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایات کی صورت میں کمیشن وفاقی حکومت سے رپورٹ طلب کرے گا اوراس رپورٹ کی روشنی میں کمیشن معاملے کو ختم بھی کر سکتا ہے اور حکومت کو احکامات بھی جاری کر سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے لئے جانے والے ایکشن کی رپورٹ تین مہینے کے اندر کمیشن کے سامنے پیش کرنا ہوگی اور کمیشن اس کے مکمل ریکارڈ کوشائع کرے گا۔ یہ بات کسی ایسے ملک کے لئے بہتر نہیں ہے جہاں فوج انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوتی ہے۔ سول سوسائٹی کے مظاہرین، حفیہ اداروں پر اس کے اطلاق کو بھی زیادہ پسندیدہ انداز میں نہیں دیکھ رہے۔ سلیکشن(15) کہتا ہے: (1) کمیشن کے اقدامات میں کوئی ایسا قدم شامل نہیں جس میں وہ خفیہ اداروں کے کسی بھی فعل کی انکوائری کر سکیں اور جہاں کہیں بھی اس قسم کی کوئی شکایت موصول ہوتی ہے جس میں اس بات کو بیان کیا گیا کہ کسی خفیہ ادارے نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تو کمیشن اس شکایت کسی متعلقہ با اختیار ادارے کو بھجوائے گا(2) تو اس طرح کارروائی ایسی ہی ہوگی، جیسا کہ سب سیکشن (1) سیکشن(14) کے مطابق ہے۔ اتفاقاً اس طرح کی کوئی بات بھارتی قانون میں بھی شامل نہیں۔ بدقسمتی سے اس کمسپرسی کے مارے سیکشن کے بارے میں دفاع نہیں کیا جاسکتا ۔ اس طرح مسلح افواج کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ اس میں آرمی، بحریہ، فضائیہ اور دوسری سویلین، مسلح افواج جن میں فوجی انٹیلیجنس ایجنسیاں بھی شامل ہیں۔ انٹیلیجنس ایجنسیوں کو سیکشن(14) میں شامل کیا گیا ہے۔ (مسلح افواج کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے)۔

 اس کے علاوہ بھی چند نکات ایسے ہیں جو انسانی حقوق کے مظاہرین کو مطمئن نہیں کرسکے، لیکن اس بات کی بھی توقع ہے کہ اگر کمیشن کو مخلصانہ انداز میں نافذ کر دیا جائے توانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف کام ہو سکتا ہے۔ بہت زیادہ انحصار مخلصانہ رویے اور کردار پر ہوگا۔ ان لوگوں کے جو قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو چلانے کے لئے منتخب کئے جائیں گے اور اس بات پر بھی منحصر ہوگا کہ عدالتی نظام کے لئے انہیں کتنی مدد ملتی ہے جبکہ شفافیت کے لئے درکار ماحول اور اظہار آزادی خیال بھی اپنا کردارادا کریں گے۔بدقسمتی سے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق منظر عام پر اس وقت آئے گا، جب لوگ جمہوریت اور انسانی حقوق کے حوالے سے بداعتمادی کا شکار ہو چکے ہوں گے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اس ملک کا تصور کریں کہ جہاں ملک میں ایمرجنسی کا خوف لوگوں کو اس ادارے کی جانب سے ہوتا ہے جس کا قیام ہی ایمرجنسی کو ختم کرنے کے لئے کیا گیا۔ جہاں پر ملک کا وزیراعظم بلوچستان کا دورہ خدشات و خطرات کے سائے میں کرتا ہے اور جہاں عاصمہ جہانگیر کے قد کاٹھ (لیول) کی خاتون جو انسانی حقوق کے مظاہرین میں شامل ہے، کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

لاہور میں اس غیر مسلم خاتون کا گھر(جسے اپنا مذہب تبدیل کرنے کے لئے کہا گیا تھا) جلا دیا گیا اگرچہ متعلقہ حکام کو اس سے متعلق خبردار کر دیا گیا تھا اور یہ بات لوگوں کو خوفزدہ کرتی ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کریں تو ان حالات میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق موثر انداز میں کام کر سکے گا؟.... لیکن پھر بھی اس کو استعمال میں لانا عقلمندی ہوگی۔ چاہے مواقع کتنے ہی قلیل ہوں بہتر انداز میں ڈیل کرنے کے لئے۔(بشکریہ: ”ڈان“....: ترجمہ: وقاص سعد)

مزید :

کالم -