انسان , خصوصاً خواتین, کی وہ ایک عادت جسےعموما بے حدبراسمجھا جاتاہے،سائنسدانوں نے اس کا حیرت انگیز فائدہ بتادیا

انسان , خصوصاً خواتین, کی وہ ایک عادت جسےعموما بے حدبراسمجھا ...
انسان , خصوصاً خواتین, کی وہ ایک عادت جسےعموما بے حدبراسمجھا جاتاہے،سائنسدانوں نے اس کا حیرت انگیز فائدہ بتادیا

  

لندن (نیوز ڈیسک) دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ بیٹھ کر گھنٹوں گپ شپ کرنا کسے اچھا نہیں لگتا اور خصوصاً خواتین تو اس سرگرمی کو بہت ہی پسند کرتی ہیں، اور بعض لوگ اسے چغلیوں کا نام دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں، مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نہ صرف یہ کہ اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ دراصل گپ شپ ہی انسانوں کی وہ خصوصیت ہے کہ جو انہیں ایک دوسرے کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع فراہم کرتی ہے اور ان کی زندگی کو صحت مند رکھنے کے علاوہ اس میں طوالت کا سبب بھی بنتی ہے۔

مزیدپڑھیں:دبئی میں موجود بھکارن کے پاس درآصل کتنا مال ہے جان کر آپ کو حیرت ہو گی

آکسفرڈ یونیورسٹی کے عالمی شہرت یافتہ ماہر ارتقائی نفسیات پروفیسر رابن ڈنبار کا کہنا ہے کہ اگرچہ گپ شپ میں چغل خوری کا عنصر بھی شامل ہے جس کی وجہ سے اسے ایک منفی رویہ سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ گپ شپ ہی وہ خصوصیت ہے جو ہمیں دیگر جانوروں سے ممتاز کرتی ہے۔ انہوں نے اخبار ”ٹیلی گراف“ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دیگر جانوروں کے برعکس انسان جب اکٹھے بیٹھتے ہیں تو دیگر لوگوں کے بارے میں بھی بات چیت کرتے ہیں اور اس عمل کے دوران اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں جن کی بنا پر وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کس کے ساتھ تعلق رکھنا فائدہ مند ہوگا اور کس سے دور رہنا ہی بہتر ہوگا۔

انہوں نے یہ نظریہ بھی دیا ہے کہ گپ شپ انسانی گروہوں کو پھیلانے، مضبوط کرنے اور چھوٹے گروہوں سے قبیلوں اور قوموں میں بدلنے کا ذریعہ بھی رہی ہے۔ گپ شپ کے ہمارے رویے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں نہ صرف ہم اپنے مسائل اور دکھ بانٹ سکتے ہیں بلکہ یہ ہمیں خوشی کا احساس بھی دیتی ہے۔ پروفیسر ڈنبار کے مطابق گپ شپ کے ذریعے دوسروں کے بارے میں حاصل ہونے والی معلومات، اپنے مسائل کو بانٹنا اور خوشی کا حصول ہی وہ عوامل ہیں جو گپ شپ کو انسانی زندگی کے لئے مفید، صحت بخش زندگی کا ذریعہ اور لمبی عمر کی وجہ بناتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ صحافیوں کی ابتدائی شکل بھی وہ لوگ تھے جو گپیں مارنے والے اور افواہیں پھیلانے کے ازحد شوقین تھے، اور آج بھی صحافت کے شعبے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -