برما میں مسلمانوں کے قتل عام پر تشویش ہے ‘جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر

برما میں مسلمانوں کے قتل عام پر تشویش ہے ‘جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر

  

سری نگر (کے پی آئی) امیر جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر محمد عبداللہ وانی نے کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں یا پھر سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے سے کشمیریوں کی خواہشات کے عین مطابق حل کیا جانا چاہیے۔جماعت اسلامی جموں وکشمیر ضلع بارہمولہ کا سالانہ اجتماع سپورٹس گروانڈکنزر ٹنگمرگ میں ہوا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوے امیر جماعت نے کہا کہ سیاسی قوت اسلامی نظام کے قیام کے لیے لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقامت دین کی جدوجہد کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ مسلمان ہر آن خدا سے ڈرنے والی قوم ہو۔دین قائم ہونے کے لیے دوسرا اصول مضبوط و منظم اجتماعیت اور ملی اتحاد انتہائی لازم ہے۔ امیر جماعت نے کہا کہ یہ المیہ ہے کہ اگر چہ ارکان اسلام توحید، نماز ، روزہ ، حج اور زکوا سب اجتماعیت کی دعوت دیتے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ ہے۔ وانی نے کہا کہ امت مسلمہ کے لیے رشتہ اتحاد اور وحدت کی بنیاد خالص قرآن مجید بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے لیے نظام ضروری ہے اور نظام کے قیام کے لیے ہی جماعت اسلامی گزشتہ چھ دہائیوں سے جدوجہد کررہی ہے۔ قیم جماعت ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے کہامسئلہ کشمیر عالمی سطح کے مسائل میں ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس مسئلے سے براہ راست کشمیری قوم متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قربانیاں اس قوم نے دی ہیں اور دے رہی ہے۔قیم جماعت نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جماعت اسلامی کا مو4155ف اٹل اور واضح ہے۔ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں یا پھر سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے سے کشمیریوں کی خواہشات کے عین مطابق حل کیا جانا چاہیے۔

قیم جماعت نے جموں میں غریب مسلمانوں کو اپنی زمینوں سے بے دخل کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرست منظم سازش کے تحت جموں کو مسلمانوں سے خالی کرانے کی کوششیں کررہے ہیں اور اسی کوشش کی ایک کڑی یہ ہے کہ جنگلاتی زمین کے نام پر مسلمان علاقوں میں لوگوں کو اپنی گھر اور زمینوں سے بے دخل کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے کہا کہ یہ جموں ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں بھی مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ ابھی تک ہندوستان میں تیس ہزار سے زائد مسلم کش فسادات ہوئے ہیں اور آج بھی مختلف حیلوں او ربہانوں کی آڑ میں مسلمانوں کو تنگ طلب کیا جارہا ہے۔ جس کی سینکڑوں مثالیں پیش جاسکتی ہیں۔ جموں میں ایک سکھ نوجوان کی ہلاکت کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے قیم جماعت نے کہا کہ پرامن جلوس پر گولیاں چلانا یہاں کی روایت بن چکی ہے اور جماعت اس کی مذمت کرتی ہے۔برما میں مسلمانوں کے قتل عام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قیم جماعت نے کہا کہ مسلمانوں کو بودھ بھکشو تہ تیغ کررہے ہیں، ان کے بچوں کو زندہ جلایا جارہا ہے ، لاکھوں مسلمانوں بے وطن ہوکر در بدر گھوم رہے ہیں اور عالمی طاقتوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ یواین او اور سیکورٹی کونسل کی خاموشی معنی خیز ہے اور برمی مسلمانوں کے تئیں غفلت شعاری برتی جارہی ہے۔

مزید :

عالمی منظر -