کشمیری مل جل کر بھارتی فسطائی ایجنڈے کا مقابلہ کریں‘سید علی گیلانی

کشمیری مل جل کر بھارتی فسطائی ایجنڈے کا مقابلہ کریں‘سید علی گیلانی

  

سری نگر (کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس )گ (کے چیئرمین سید علی گیلانی نے نئی بھارتی حکومت کے فرقہ وارانہ اور فسطائی ایجنڈے کو ہلاکت خیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کا مل جُل کر مقابلہ نہ کیا گیا تو کشمیریوں کے علاوہ بھارت کی تمام اقلیتوں کا وجود اور ان کی شناخت زبردست خطرات سے دوچار ہوجائے گی اور ان کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی فرقہ پرست قوتیں اس پورے خطے کو ’’ہندوتوا‘‘ کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے وہ اپنے ریاستی پاور کو استعمال میں لارہے ہیں اور اخلاق وتہذیب کے تمام حدودوقیود کو پار کررہے ہیں۔ اتوار کے دن جاری اخباری بیان میں علی گیلانی نے کہا کہ جموں کشمیر پر بھارت نے جبری قبضہ جمایا ہوا ہے اور وہ اس قبضے کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو اپنی ملٹری طاقت کے ذریعے سے کُچلنا چاہتا ہے، البتہ جن مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں نے 47ء میں اپنی مرضی سے بھارت کا انتخاب کیا ہے اور اسی ملک میں رہنے کو ترجیح دی ہے، بھارت کی فسطائی حکومت ان کو بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اس نے اُن کے وجود کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔

گیلانی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ آر ایس ایس کے بھیانک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے کشمیر کے ساتھ ساتھ پورے بھارت میں ایک عوام بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ اقلیتوں کو اپنے وجود، اپنی شناخت اور اپنے مذہب کی حفاظت کرنے کے سلسلے میں ہوشیار کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے حریت کانفرنس نے پہلے مرحلے پر 14؍جون اتوار کو سرینگر میں ایک روزہ سیمینار بُلانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں ’’بھارت کی ریاستی فسطائیت کا مقابلہ کیسے کیا جائے گا؟‘‘ عنوان کے تحت مختلف الخیال لوگ اظہار خیال کریں گے۔ حریت کانفرنس نے مجوزہ سیمینار میں اظہارِ خیال کرنے کے لیے ابھی تک جن لوگوں کو مدعو کیا ہے،۔ ان میں اکالی دل لیڈر سمرن جیت سنگھ مان، دل خالصہ راہنما کنور پال سنگھ ، معروف انسانی حقوق کارکن گوتم نولکھا اور عیسائی برادری کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ یہ حریت کانفرنس کی طرف سے بُلایا گیا اپنی نوعیت کا ایک اہم سیمینار ہوگا اور اس میں وادی سے بھی سرکردہ اسکالر، دانشور، قلمکار اور آزادی پسند راہنما شرکت کریں گے۔

مزید :

عالمی منظر -