نئے مالی سال2015-16 کے بجٹ کے اعلان کے بعد مہنگائی میں اضافہ

نئے مالی سال2015-16 کے بجٹ کے اعلان کے بعد مہنگائی میں اضافہ

  

کراچی( اکنامک رپورٹر)نئے مالی سال2015-16 کے بجٹ کے اعلان کے بعد مہنگائی کی شرح میں اضافہ شروع ہو گیا ہے۔روزمرہ استعمال کی اشیا میں ہوشربا اضافے سے متوسط طبقہ بھی چکرا کر رہ گیاہے۔ آٹا دال، چینی اور گھریلو استعمال کی دوسری اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط طبقے کی ریلیف کی خواہشات نے بھی دم توڑ دیا ہے۔ایسے میں خاتون خانہ اور گھر کے سربراہ کے لیے گھریلو بجٹ کا توازن برقرار رکھنا کسی آزمائش سے کم نہیں ہے۔ملک میں مہنگائی کے جاری طوفان اور نئے ٹیکس سے غریب طبقے کیلئے لنڈے بازار سے بھی خریداری مشکل ہو جائیگی۔این این آئی کی جانب سے کئے گئے سروے کے مطابق نئے مالی سال 2015-16 کا وفاقی بجٹ عام لوگوں پر بم کی طرح گرا ہے،اور عوام کی امیدوں پر حسب منشا پانی پھر گیا ہے، آٹا دال، چینی اور گھریلو استعمال کی دوسری اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط طبقے کی ریلیف کی خواہشات نے بھی دم توڑ دیا ہے۔ایسے میں گھریلو خواتین بجٹ بنانے کیلئے اب بچوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا گلا گھونٹنے پر مجبور ہو گئی ہیں ناکافی آمدن میں یوٹیلیٹی بلوں کی بھرمار کے ساتھ بچوں کیلئے روشن مستقبل کی خواہش بھی متوسط طبقے کیلئے خواب سا بن گیا ہے ،سفید پوشی کی حقیقت بچوں کے ننھے ذہنوں سے چھپانی بھی ناممکن ہو جاتی ہے۔

،بجٹ نے لوگوں کو مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے مسل دیا ہے۔سروے کے مطابق وفاقی بجٹ کے اعلان کے بعد مرغی کا گوشت ،ٹماٹر، پیاز، آئل اوردالوں کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ میں پرانے کپڑوں اور جوتوں پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے ،ملک میں مہنگائی کے جاری طوفان اور نئے ٹیکس سے غریب طبقے کیلئے لنڈے بازار سے بھی خریداری مشکل ہو جائیگی۔ریڈی میڈ گارمنٹس تو پہلے ہی غریب آدمی کی قوت خرید سے باہر تھے اور اب پرانے کپڑوں اور جوتوں پر پانچ فیصد ٹیکس سے غریب اور تنخواہ دار طبقے کیلئے مشکلات بڑھ جائیں گی۔وفاقی بجٹ کے بعد دیگر اشیاکے ساتھ استعمال شدہ کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوگا، مہنگائی کے طوفان نے پہلے ہی لنڈے بازار سے ملبوسات، جوتے ، کمبل ،چادریں اور دیگر استعمال شدہ اشیا کی خرید اری کو خواب بنادیا ہے ۔ نئے ٹیکس سے پرانے کپڑے اور جوتے مزید مہنگے ہو جائیں گے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا دعویٰ ہمیشہ کی طرح زبانی جمع خرچ ہی نکلا ہے۔

مزید :

کامرس -