ہمیشہ معیاری فلموں میں اداکاری کو ترجیح دی،ورسٹائل فنکار حمید شیخ کی باتیں

ہمیشہ معیاری فلموں میں اداکاری کو ترجیح دی،ورسٹائل فنکار حمید شیخ کی باتیں

  

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے با صلاحیت ٹی وی اداکار حمید شیخ دسمبر 1969ء کو بلوچستان میں پیدا ہوئے۔ 1984ء میں کوئٹہ مرکز سے سرکاری ٹی وی کے ڈرامے ’’نقب سنگ‘‘ ، ’’ زنجیر‘‘،’’واپسی‘‘،’’کل‘‘،’’ واپسی کے بعد‘‘، ’’ عشق‘‘، اور ’’ مٹی ‘‘ کامیاب اداکاری کی۔حمید شیخ نے 2007ء میں فلمی دنیا میں شعیب منصور کی فلم ’’ خدا کیلئے ‘‘ میں شیر شاہ کا مضبوط رو ل کر کے کیا انٹری دی کہ ان کے بین الاقوامی فلموں میں بھی کام کرنے کے دروازے کھل گئے۔ فلم ’’ خدا کیلئے‘‘ میں اہم کردار میں عمدہ اداکاری سے ناقدین اور فلم بینوں کے دل جیتنے والے حمید شیخ 2009ء میں ’’قندھار بریک فوٹرس آف وار‘‘میں عمر بلوچ ، 2013 ء میں ’’ ہارٹس اینڈما ئنڈز‘‘ میں طارق اور پھر2014ء میں ڈائریکٹر جامی اور زبیا بختیار کی فلم ’’ آپریشن 021‘‘ میں افغان انٹیلی جنس کے افسر دوست محمد کا منفرد رول کیا۔ اس فلم میں حمید شیخ کے مد مقابل ایوب کھوسو اور شان تھے لیکن حمید شیخ اور ایوب کھوسو نے کمال کر دیا۔زیبا بختیار اور اذان سمیع خان کی پروڈیوس کردہ اس فلم کی ڈائریکشن جامی نے دی تھی۔ طویل قد و قامت ٗ بھاری آواز اور خوبصورت خدوخال کے مالک حمید شیخ کا شمار پی ٹی وی کوئٹہ مرکز کے بہترین اداکاروں میں ہوتا ہے جنہیں عموماً پیچیدہ اور مشکل کردار دئیے جاتے رہے ہیں اور وہ ان میں اپنی فطری اداکاری سے جان ڈال دیتے ہیں۔ حمید شیخ عموماً کم مگر معیاری کام کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی لئے ’’ آپریشن 021‘‘ پر مکمل توجہ مرکوز کرنے کے باعث انہوں نے رواں برس اپنے شہر سے تعلق رکھنے والے اداکاروں و ہدایتکاروں جمال شاہ اور دھواں فیم عاشر عظیم کی فلموں کے علاوہ یاسر جیسوال کی جلد آنے والی تھرلر ایکشن فلم ’’ جلیبی‘‘ میں بھی کام سے معذرت کی کیونکہ وہ ایک وقت میں ایک ہی فلم میں کام کرنا پسند کرتے ہیں تاکہ وہ اچھی اداکاری کر سکیں۔ حمید شیخ نے بتایا کہ کوئٹہ مرکز کے ڈراموں سے ان کو کافی شہرت ملی اور انہوں نے ان کو اپنی اسی محنت کے بل بوتے پر شعیب منصور کی فلم ’’ خدا کیلئے ‘‘ میں اداکاری کی ۔ حمید شیخ کو خوشی ہے کہ ’’ آپریشن 021‘‘ میں ان کے کام کو سراہا گیا ۔اب ان کی نئی آنے والی فلم ’’مور‘‘ ڈائریکٹر جامی کی اب تک کی فلموں سے مختلف ہوگی۔ جس میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ یہ فلم 14 اگست کو نمائش کیلئے پیش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان ڈائریکٹر بلال لاشاری نے فلم ’’ وار‘‘ اچھی ڈائریکٹ کی۔ اب پاکستان میں اچھی فلمیں بننے کا رواج بن گیا ہے اور میرا بھی اسی قسم کی فلموں میں کام کرنے کا رجحان ہے اور یوں کہا جائے کہ میری کلاس بھی ذرا مختلف ہے کیونکہ میں مختلف کام کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میری فلم ’’ عبداللہ دی فائنل وٹنس‘‘ چھوٹے بجٹ کی بڑی فلم ہے ۔فلم ’’عبداللہ دی فائنل وٹنس‘‘ کی فرانس میں ہونے والے کینز فلم فیسٹول 2015میں نمائش کی گئی ۔ اس فلم کے رائٹر اور ڈائریکٹر معروف بلوچی ناول نگار ہاشم ندیم ہیں ۔ اس فلم کامرکزی کردار حمید شیخ نے نبھایا ہے۔ فلم میں عمران عباس ، ساجد حسن اور سعدیہ خان نے اپنی ادکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ حمید شیخ نے بتایا کہ ’’سکالٹ پاپی ‘‘ نام کی امریکی فلم میں بھی کام کر رہا ہوں ۔ اس کے علاوہ اور بھی دیگر پروجیکٹ پر کام جاری ہے۔حمید شیخ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انڈین فلمیں ہمارے ملک میں نمائش کی جا رہی ہیں اور جب میں بیرون ملک جاتا ہوں تو میں وہاں بھی اپنے انٹرویوز میں یہی کہتا ہوں کہ انڈین فلم اگر 600 کروڑ کما رہی ہے تو اس میں تین سو کروڑ پاکستانیوں کا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب پاکستانی فلمیں بھی انڈین فلموں کے معیار کے مطابق بنیں گی اور انڈین کے بھی سو کروڑ ہماری فلم کما لے گی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -