بجٹ نے عوام کو کیا دیا؟

بجٹ نے عوام کو کیا دیا؟
بجٹ نے عوام کو کیا دیا؟

  

وفاقی بجٹ کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ قومی اسمبلی کے اراکین اس پر کئی روز تک اپنے اپنے خیالات کا اظہار کریں گے اور پھر یہ مالی بل ملک میں نافذ کر دیا جائے گا۔ حکومتی اراکین اور حامی ہمیشہ کی طرح ’’ بہت اچھا‘‘ کی ڈفلی بجا رہے ہیں۔ حزب اختلاف اور ان کے حامی ’’ سب خراب ‘‘ کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ اعداد و شمارکی گتھیوں کو سلجھانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوا کرتی ہے۔ معاشیات سے آگاہی رکھنے والے لوگ ہی بجٹ ہو یا حکومت کی معاشی منصوبہ بندی پر روشنی ڈالنے کے اہل ہوتے ہیں۔ معاشیات سے نا بلد لوگوں کے صورت حال کو جانچنے اور اس پر روشنی ڈالنے کے کچھ اور طریقے ہوتے ہیں۔ بجٹ میں بہت سارے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ موبائل فون مہنگا، مشروبات مہنگے، دودھ سے تیار کی جانے والی اشیاء مہنگی، منرل واٹر مہنگا، مختلف شعبوں میں حکومت کی امدادی رقم ختم وغیرہ۔ بجٹ تجاویز میں مختلف کاروبار اور شعبوں کو بہت ساری چھوٹ بھی دی گئی ہیں۔ زراعت اور تعمیرات ، صنعت کاری، کے علاوہ کسانوں کے لئے قرضے کی سہولت اور مستحقین کے لئے امدادی رقم میں اضافہ وغیرہ۔

کسی بھی اصول سے دیکھا جائے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ ان تجاویز کے نتیجے میں ملک کے اس طبقے کو جو آبادی کا بہت بڑا حصہ ہے ، کیا فائدہ پہنچنے کے امکانات ہوں گے۔ اس بڑے طبقے کی بنیادی ضروریات کیا ہوتی ہیں؟ انہیں کس چیز کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ مشرف دور میں جب چینی کا بحران پیدا ہوا اور سرکاری یوٹیلیٹی اسٹور پر بھی لوگوں کو قطار بنا کر آدھا کلو چینی فروخت کی جارہی تھی تو ایک اسٹور پر موجود ایک بوڑھی عورت نے مجھ سے دو شکایات کی تھیں۔ اول یہ کہ ’’ میں صبح سے کھڑی ہوں، دوپہر گزر گئی ہے، میں گھروں میں کام کرتی ہیں، میرا تو سارا دن خراب ہو گیا‘‘۔ دوم یہ کہ ‘‘ ہم غریب لوگ گوشت اور سبزی نہیں پکا سکتے ہیں تو اپنے بچوں کو پانی میں چینی گھول کر روٹی کے ساتھ دے دیتے ہیں۔ جب چینی ہی نہیں ملے گی تو میں انہیں کیا کھلاؤں گی‘‘۔ مجھے ان خاتون کی ان دونوں شکایات میں وزن محسوس ہوا اور یہ احساس بھی کہ ملک میں وسائل سے محروم طبقے کے ساتھ آخر ہو کیا رہا ہے۔ اس ملک میں غریبوں کو یہ ہی شکایت ہے۔ بجٹ کہاں یہ ضمانت دیتا ہے کہ غریب کو آٹا، دال، چینی، گوشت، سبزی، گھی، وغیرہ کم داموں میں مل سکیں گی۔ میرا مطلب ہے کہ ان کی آمدنی کے دائرے میں رہتے ہوئے انہیں انتہائی ضرورت کی یہ چیزیں میسر ہو جائیں گی۔ ابھی تو صرف پیٹ بھرنے کی بات ہو رہی ہے۔ ان کے علاج معالجہ، بچوں کی تعلیم، پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی بات نہیں ہو رہی ہے۔ اس طبقے کی اکثریت اپنے گھروں سے محروم ہے۔ انہیں کرایہ کے گھروں میں اپنا سر چھپانا پڑتا ہے۔ تیس دن گزرے نہیں کہ مالک مکان کرایہ دار کے دروازہ پر موجود ہوتا ہے۔

ملک کے کسی حصے میں چلے جا ئیں ، محنت کشوں کو جو اجرت دی جاتی ہے وہ اس قابل ہی نہیں ہوتی کہ کوئی شخص اپنے خاندان کا پیٹ ہی بھر سکے۔ بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ محنت کش کی کم سے کم تنخواہ بارہ ہزار سے بڑھا کر تیرہ ہزار کر دی جائے گی۔غیر ہنر مند محنت کشوں کی تنخواہ سابق وزیراعظم نے جب چھ ہزار روپے ماہانہ مقرر کی تھی تو اس وقت مختلف صنعتی اداروں میں انہیں چار ہزار ماہانہ دئے جاتے تھے۔ چھہ ہزار روپے دینے پر سرمایہ داروں ، صنعتکاروں اور مل مالکان نے آمادگی تو ظاہر کی تھی لیکن محنت کشوں کے اوقات کار آٹھ گھنٹوں سے بڑھاکر بارہ گھنٹے کر دئے تھے۔ کیسا نام نہاد اضافہ کیا گیا تھا۔ کسی سرکاری محکمہ خصوصا محکمہ لیبر نے بوجوہ اس کا نوٹس ہی نہیں لیا۔ ایسی تنخواہ بڑھانے سے کیا فائدہ۔ جب حکومت اپنے ہی اعلانات پر عمل نہ کراسکے تو کم از کم اسے اپنا مذاق تو نہیں اڑوانا چاہئے۔ اسے عام لوگوں کو یہ احساس نہں دلانا چاہئے کہ اپنے فیصلوں اور اعلانات پر عمل کرانا بھی حکومت کے اختیار میں نہیں ہے۔

حکومت نے بہتر ہی سوچا ہوگا کہ تعمیرات اور بلٖڈر حضرات پر عائد ٹیکسوں میں چھوٹ دے دی جائے لیکن کیا اس چھوٹ سے ملک کی غریب آبادی کو کوئی فائدہ پہنچے گا۔ اس ملک میں نجی تعمیرات کے نام پر بلڈر حضرات نے لوگوں کو نچانے کا جو کھیل شروع کیا ہے، اس کا انجام تو بھیانک ہی نکلے گا لیکن وہ طبقہ جسے سر چھپانے کے لئے مکان چاہئے ہمیشہ ہی بے گھر رہے گا۔ زمین کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ اور پھر مکانات کی قیمتوں میں من مانا اضافہ ان بلڈر حضرات کی ’’ مہربانیوں ‘‘ کا ہی نتیجہ ہے۔ اس کے بعد تعمیرات کا معیار بھی خاطر خواہ نہیں ہوتا ہے۔ ان ہی لوگوں کے ہاتھوں شہروں کی ماضی کی منصوبہ بندی کی جو درگت ہوئی ہے اور شہروں میں بنیادی سہولتوں کا جو فقدان پید اہوا ہے اس پر تو حکومت بھی غور کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہے۔ گنتی کی چند بڑی تعمیراتی کمپنیوں کو چھوڑ کر کہیں بھی کوئی تعمیراتی کمپنی نہ رجسٹر ہوتی ہے اور نہ ہی ایس ای سی پی سے منظور شدہ ہوتی ہے۔

چند ہم خیال لوگ اکٹھا ہوتے ہیں، رہائشی پلاٹ کا سودا کرتے ہیں جس پر رجسٹری فیس بھی غبن کی جاتی ہے (اس کی آسان مثال یہ ہے کہ ایک کروڑ کے پلاٹ کی قیمت دس یا بیس لاکھ میں خریدنے کا معاہدہ کیا جاتا ہے اور اسی پر رجسٹری فیس ادا کی جاتی ہے) ، کا غذوں پر محکمہ بلڈنگ کنٹرول جو شرائط لکھتا ہے ان میں سے ایک پر بھی پوری طرح عمل در آمد نہیں کرایا جاتا۔ اتنی چھوٹ کیوں دی جاتی ہے، سب ہی واقف ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ساڑھے سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے، پورا معاشرہ استحصال کرنے والوں کا معاشرہ بنا دیا گیا ہے۔ جب تک معاشرے سے استحصال سے نجات کی تدابیراختیار نہیں کی جائیں گی غربت میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔ ایسا کیوں ہے ، اس کی وجہ سے سب ہی واقف ہیں۔ بلا شبہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کتنا ہی یقین دلائیں کہ بجٹ سے غریبوں کو فائدہ پہنچے گا۔ وہ مانیں یا نہ مانیں، ان کے بجٹ اور نواز شریف کی حکومت کی معاشی پالیسیوں سے اس تماش گاہ میں غریب عوام کو اب تک تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے۔ کیا وزیر خزانہ کے لئے یہ ممکن ہوگا کہ وہ بھیس بدل کر کبھی کبھی غریبوں کے محلوں اور علاقوں کا دورہ کر لیا کریں تو انہیں احساس ہوجائے گا کہ پاکستان میں لوگ کس طرح کی کسمپرسی کی حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

مزید :

کالم -