حکومت کے طویل المیعاد مفادات کابجٹ

حکومت کے طویل المیعاد مفادات کابجٹ
حکومت کے طویل المیعاد مفادات کابجٹ

  

بجٹ دیکھنے اور پڑھنے کے بعد مجھے یہ اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہ ہوئی کہ یہ بجٹ بھی گزشتہ برس کی طرح بزنس مینوں اور ٹھیکداروں کا ہے اس میں جتنی بھی مراعات ہیں ،وہ سب انہیں کے لئے ہیں عوام کو براہ راست اس میں کوئی فائدہ نہیں مل سکا ہے ، گھروں میں استعمال ہونے والی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔مَیں دیکھ رہا ہوں کہ اس میں صحت کے لئے بہت کم رقم رکھی گئی ہے اور یہ کہ تعلیم کے لئے بھی رقم بہت ہی ناکافی ہے ۔نیکٹا جس نے دہشت گردی کے عمل کو روکنا ہے اس کے لئے فی الحال کچھ نہیں رکھاگیا ہیے ، یہ سب کچھ دیکھنے اورپڑھنے کے بعد ایک ہی جملہ ذہن میں ابھرتا ہے کہ حکومت کہاں ہے؟ اس بجٹ کے بعد ترقی کی رفتار چاراعشاریہ دوفیصد سامنے آئی ہے اور اس پر پی ایم ایل این کی حکومت خوشی سے ناچ رہی ہے ،لیکن یہ لوگ یہ نہیں بتاتے کہ اس کا ٹارگٹ جو ان لوگوں سے حاصل نہ ہوسکا وہ پانچ اعشاریہ ایک تھا ۔ایک چیز اور نظر آرہی ہے کہ زراعت اور صنعت میں ترقی کی رفتار برائے نام ہے،یہ وہ سیکٹرز ہیں ،جنہیں بہتر کئے بغیر پاکستان تو کیا کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی کو ممکن نہیں بنایا جاسکتا ہے، میں نے رات نیوز چینل میں دیکھا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹریز والے اپنی مشکلات کا تذکرہ کررہے تھے، جن کی حکومت نے موجودہ بجٹ میں برائے نام ہی مدد کی ہے۔

جب ایگریکلچر اور ٹیکسٹائل والے ناامیدی کا شکار ہوں تو پاکستان میں اقتصادی صورت حال کیسے بہتر ہوگی ؟ ارے ہاں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں ایکسپورٹ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہواہے ،لیکن اس کے باجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں ،حکومت یہ نہیں بتا رہی ہے کہ یہ زر مبادلہ کااضافہ بیرونی قرضے ملنے کی وجہ سے ہے اور ہمارے اس بجٹ میں سب سے بڑا خرچ بیرونی قرضوں کی واپسی ہے اور یہ عمل حکومت کے الفاظ کے اس گورکھ دھندے کو پانی پانی کرکے رکھ دے گا،اللہ کا شکر ہے کہ یہ بجٹ اس وقت نواز لیگ نے نکالا ہے، اگر اسے کسی اور حکومت نے نکالا ہوتا تو اس (کامیاب) بجٹ کے بانیوں کی چیخیں نکل جاتیں اور وہ ٹی وی چینلوں میں آکر اس حکومت کا جینا حرام کردیتے ۔ایسا لگتا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب آئی ایم ایف میں نوکری کی تلاش میں ہیں ،اس لئے وہ ان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اپنے پیش کردہ بجٹ کوعوام دوست بجٹ قرار دیتے ہیں ۔

یہاں یہ تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے کہ موصوف کے اپنے بچے ملک سے باہر وسیع کاروبار رکھتے ہیں،لہذا بجٹ میں ذاتی مفادات کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے طویل المیعاد مفادات کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے ۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل کے تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے کہ وہ سب دعوے وعدے عوام کو بے وقوف بناکر ووٹ حاصل کرنے اور اقتدار ہتھیانے کے حربے تھے،اس بجٹ میں 16کھرب 25ارب کاخسارہ اور 253ارب روپے کے غریبوں پر ٹیکس لگاناغریب عوام کا معاشی قتل عام ہے ۔ایک بات زیر غور ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ کہلاتا ہے مگر رمضان شریف جب بھی آتاہے غریبوں کے لئے ضرور مہنگائی کا پیغام لاتا ہے ۔ملک پانی ،خوراک صحت جیسی بنیادی صورت حال سے پریشان ہے اس پر حکمرانوں کا پرسکون انداز گفتگو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ان کے دلوں میں غریب عوام کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

آٹا ،گھی، چاول، دالیں یہ وہ تمام اشیاء ہیں ،جنہیں خریدنا کسی بھی غریب آدمی کے لئے اس لئے بھی مشکل ہے کہ وہ بجلی کے بل ادا کر ے یا پھر اس قدر مہنگی اشیاء کو خریدتا پھرے اور وہ بھی ایسے میں جب کہ اس کے پاس نہ تو روزگار ہے اور نہ ہی کوئی ایسا وسیلہ کہ اس کے کہیں سے اخراجات پورے ہوسکتے ہوں، بجٹ کی اہمیت کیاہے اور یہ بنتا کیوں ہے آج کا غریب تو صرف یہ ہی سوچ سکتا ہے کہ اس کی اہمیت یہ ہے کہ یہ جب بھی آتا ہے امیروں کے محلوں کو وسیع کرتا ہے اور غریبوں کے گھروں کے چولہے بجھا تا ہے ۔حکومت کے( عقلمند )وزیروں نے بڑی بڑی گاڑیوں اور جہازوں کی قیمتوں میں کمی کرکے غریب عوام کے دال دلئے میں کمی لانے کی کوشش کی ہے، بجٹ ایک ایسا عوام دشمن لفظ بنتا جارہا ہے، جسے سنتے ہی غریب آدمی گھریلو راشن کا سامان بجٹ کے مہینے سے قبل ہی خریدنے کی کوشش کرتا ہے ،کیونکہ وہ جانتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تمام چیزیں اس کی قوت خرید سے نکل جائیں گی۔ موجودہ بجٹ کے حتمی نتائج نہ صرف چھوٹے کاروباری حضرات، بلکہ عام آد می کو اگلے بجٹ تک بھگتنا ہوں گے، اس کے علاوہ حکومت نے جن ترقیاتی منصوبوں کی مد میں اربوں روپے مختص کرنے کا کہا ہے وہ محض ذاتی مقبولیت اور آئندہ انتخابات میں سستی شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ ثابت ہوں گے ۔

مزید :

کالم -