بے بس حکمرانی

بے بس حکمرانی
بے بس حکمرانی

  

کاش وزیر اعلیٰ شہباز شریف اس بابا جی کی باتوں پر غور کریں جس نے اُن کے ساتھ میٹرو بس میں سفر کیا اور جس سے حامد میر نے اپنے پروگرام کے لئے جب وزیراعلیٰ کے طرزِ حکومت کے حوالے سے سوال کیا تو اس نے شہباز شریف کے منہ پر کہا، کیا فائدہ ایسے وزیر اعلیٰ کا جو اپنے صوبے میں انصاف تک نہیں دے سکا، ظلم ختم نہیں کرا سکا، فیس بک پر حامد میر کے پروگرام کا یہ ویڈیو کلپ ایک تازیانہ ہے۔ اُس بابے کی باتوں میں جو کرب تھا۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اسے محسوس کیا اور اس حقیقت کو تسلیم کر لیا کہ معاشرے میں ظلم بہت بڑھ گیا ہے، نا انصافی اوپر سے نیچے تک موجود ہے، مگر ایک حاکم کی زبان سے اس قسم کی بے بسی کا اظہار کچھ زیب نہیں دیتا۔ بابا جی نے بالکل درست کہا کہ اگر ظلم ختم نہیں کرا سکتا تو کیسا وزیر اعلیٰ اور کیسی حکومت؟ میں سمجھتا ہوں جب تخت پر بیٹھے ہوئے صاحبان اقتدار بھی بے بسی کا اظہار کرنے لگیں تو معاشرے کو جنگل بنتے دیر نہیں لگتی۔ یہ میٹر وبسیں، یہ موٹرویز، یہ سولر پارک سب معدوم ہونے والی چیز ہیں، جو بات حکمران کو تاریخ میں امر کرتی ہے، وہ اس کا عدل و انصاف ہے۔ حضرت عمرؓ کو آج ان کے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے یاد نہیں کیا جاتا، بلکہ ان کی حکمرانی یاد دلاتی ہے کہ وہ ایک عادل و نرم دل رکھنے والے حکمران تھے۔ جن کے دور میں کوئی کسی پر ظلم نہیں کر سکتا تھا اور نہ کوئی بھوکا سوتا تھا۔

حیرت ہے کہ شہباز شریف ظلم کا ادراک بھی رکھتے ہیں، اس کے حوالے سے شعر بھی پڑھتے ہیں، جذبات میں آکر ڈائس کا مائیک بھی توڑ دیتے ہیں مگر عملاً ظلم کوچہ و بازار میں بچے جن رہا ہے اور انصاف ناپید ہے۔ اب بات عدلیہ کی طرف موڑ کر تو یہ الزام نہیں دھلے گا۔ عدل و انصاف کی پہلی اینٹ تو حکمران رکھتا ہے، جس پر عدلیہ عمارت تعمیر کرتی ہے۔ ظالموں کو عدل کے کٹہرے میں تو حکومت نے پہنچانا ہوتا ہے۔ یہاں کیا ہور ہاہے؟ مظلوم تو چکی کے دو پاٹوں میں پس رہے ہیں۔ اُنہیں معاشرے میں بالا دستوں کی چیرہ دستی کا بھی سامنا ہے اور پولیس ظلم کا بھی۔ اگر پولیس ہی عوام کی داد رسی کا ذریعہ بن جائے تو کم از کم ظلم کا ایک در تو بند ہو جائے لیکن پولیس تو یہاں صرف گولیاں چلاتی ہے، بندے مارتی ہے، مگر اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ وزیر اعلیٰ بھی صرف نوٹس لے کر اپنا فرض ادا کر دیتے ہیں؟ بعد میں لواحقین پر انصاف کے لئے کیا گزرتی ہے، اس سے اُنہیں کوئی غرض نہیں ہوتی۔ حالیہ دنوں میں پولیس نے پنجاب میں بندے مارنے کے جو ریکارڈ قائم کئے ہیں، اُنہیں دیکھتے ہوئے کون کہہ سکتا ہے کہ پولیس عوام اور قانون کی محافظ ہے؟ اونچی آواز میں بات کرنے پر وکیل کو گولیاں مارنے والے ایس ایچ او کا بال بھی بیکا نہیں ہوگا، کوئی شرط لگانا چاہے تو لگا لے۔ راولپنڈی میں دو بھائیوں کو 9,9 گولیاں مارنے والے پولیس اہلکاروں نے بھی شاید اس ایس ایچ او کی پیروی کی ہے جس نے وکیل کو 9 گولیاں ماری تھیں۔ شاید حکمرانوں کے لئے یہ دھاک بٹھانے کا کوئی حربہ ہو، لیکن صاحب اس نے معاشرے کو تباہ کر دیا ہے۔ سوچنے کی بات ہے، سارا بگاڑ پنجاب کی پولیس ہی میں کیوں آ رہا ہے سندھ پولیس کو ہم برا کہتے ہیں لیکن قابل غور نکتہ یہ ہے کہ وہاں آئے روز دہشت گردوں کی طرف سے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ ان کے خلاف نبرد آزما ہیں، اسی لئے ان کے نشانے پر ہیں۔ پنجاب میں پولیس خود تو نشانے پر نہیں البتہ شہریوں کو نشانے پر لئے ہوئے ہے۔ اگر امن و امان کو ثابت کرنے کا یہ پیمانہ ہے تو پھر واقعی معاشرے میں امن قائم ہو چکا ہے کہ کم از کم پنجاب میں پولیس محفوظ ہو گئی ہے۔ میرا پولیس سے بڑا قریبی رابطہ رہا ہے۔ سردار محمدچودھری جب آئی جی پولیس تھے تو انہوں نے ایک پہلو پر بہت زیادہ توجہ دی تھی، وہ پولیس والوں کی کردار سازی کے قائل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ پولیس کی اعلیٰ ٹریننگ کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اخلاقی و انسانی تربیت کی بھی ضرورت ہے۔ اس زمانے میںیہ لہر اس قدر تیزی سے چلی تھی کہ عوام پولیس کے رویے میں فرق محسوس کرنے لگے تھے۔ میرا جب بھی سینئر پولیس ’افسران‘ حتیٰ کہ نچلی سطح کے ملازمین سے رابطہ ہوتا ہے تو وہ اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ معاشرے میں ان کے حوالے سے ایک منفی تاثر موجود ہے۔ظلم چند اہلکار کرتے ہیں، بدنام پورا محکمہ ہو جاتا ہے۔ سب کالی وردی والے کالی بھیڑیں نہیں ہیں۔ اکثریت اس مائنڈ سیٹ کے خلاف ہے، جو ڈسکہ جیسے ایس ایچ اوز کا ہے، لیکن چونکہ بگاڑ اوپر سے لے کر نیچے تک موجود ہے۔پولیس کو ہر کوئی اپنی باندی رکھنا چاہتا ہے۔علاقے کے ایم این اے اور ایم پی اے کا پولیس کے بغیر ایک دن بھی گزارا نہیں ہوتا، اس کی دھاک نہیں بیٹھتی، اس لئے پولیس سے وہ کام لئے جاتے ہیں، جن کے وہ درحقیقت خلاف کام کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔۔ آپ کو ایسے کئی سر پھرے پولیس والے مل جائیں گے، جنہیں کوئی اچھی پوسٹنگ نہیں ملتی، مل بھی جائے تو چند روز بعد انہیں او ایس ڈی بنا دیا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف ظلم تو ختم نہیں کر سکے،تاہم اگر وہ پولیس میں ارکانِ اسمبلی کی مداخلت ختم کرا دیں تو بہت کچھ تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہ مداخلت کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ صرف یہ فیصلہ کرنے سے کہ آئندہ کسی پولیس ملازم کو رکن اسمبلی کی وجہ سے تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ کسی ڈی پی او کی تعیناتی وہاں کے ارکانِ اسمبلی کی آشیرباد سے نہیں ہوگی اور کسی پولیس اہلکار کے خلاف ارکانِ اسمبلی کی شکایات کو سیاسی نہیں میرٹ کی بنیاد پر پرکھاجائے گا مگر وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ ہمارے ہاں مقبولیت کو قائم رکھنے کے لئے تگڑے قسم کے ارکان اسمبلی علاقوں میں رکھنے پڑتے ہیں اور ارکان اسمبلی پولیس کے بغیر تگڑے نہیں ہوتے۔

ایک زمانے میں ڈپٹی کمشنر کا عہدہ پولیس پر ایک چیک ہوتا تھا۔ اس کے اختیارات کو درحقیقت سول اتھارٹی کی علامت بنایا گیا تھا، مگر پرویز مشرف دور میں جہاں اور بہت سی برائیاں آئیں، وہیں پولیس آرڈر 2002 بھی آ گیا۔ کہنے کو یہ آرڈر پولیس کے مظالم سے نجات دلانے اور عوام کو انصاف فراہم کرنے کے لئے لایا گیا تھا، لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا، پولیس بالکل ہی بے لگام ہو گئی۔پولیس میں پیٹی بھائی کی اصطلاح بہت معروف ہے۔ جو ایک دوسرے کا تحفظ کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں، اب پولیس والوں کا احتساب بھی پولیس والے ہی کرتے ہیں، جو اکثر نہیں ہوتا۔ یہ درست ہے کہ وزیراعلیٰ کی اپنی بھی کچھ مجبوریاں ہیں۔ ایک سیاسی حکمران کو سیاسی طاقتوں کے ساتھ چلنا پڑتا ہے، یہاں تو آمروں کے ادوار میں بھی پولیس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا، حالانکہ وہ صرف اپنے آپ کو جوابدہ ہوتے تھے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پولیس کو ہمارے نظام میں جس قدر طاقتور بنا دیا گیا ہے، وہ بذاتِ خود ایک بڑی خرابی ہے۔ طاقتور تو فوج بھی بہت ہے، مگر مجال ہے کہ فوج کا کوئی سپاہی یا افسر اپنی حدود سے تجاوز کرسکے، اسے تو اپنی گن بھی جھکائے رکھنے کا حکم ہوتا ہے، لیکن پولیس والے موٹرسائیکل پر ہوں یا ڈالے، میں ان کی بندوقوں کے رخ ہمیشہ عوام کی طرف ہوتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے بندہ مار بھی دیا تو ان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ مقدمہ ضرور درج ہوگا، انہیں کاغذوں میں گرفتار بھی کر لیا جائے گا، لیکن انہیں سزا کسی صورت نہیں ہوگی۔

پرچہ بھی ان کا ہے، ضمنی بھی ان کی، تفتیش بھی وہی کریں گے، چالان بھی وہی بنائیں گے، شہادتیں بھی وہی اکٹھی کریں گے، سب کچھ تو ان کے ہاتھ میں ہے، عدالتیں کیا کریں گی، لواحقین سڑکوں پر لاشیں رکھ کر دو دن احتجاج کریں گے، پھر برسوں پر محیط مقدمہ بازی میں تھک ہارکر بیٹھ جائیں گے یا صلح کرلیں گے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے تھانہ کلچر بدلنے کے دعوے تو بہت کئے ،ماڈل تھانے بھی بنائے، مگر اب لگتا ہے کہ وہ بھی تھک گئے ہیں۔ انہوں نے ہارمان لی ہے۔ اب وہ بڑے سے بڑے واقعہ کے بعد بھی یہ نہیں کہتے کہ پولیس کے کلچر کو تبدیل کریں گے، بلکہ صرف یہ کہتے ہیں، جن پولیس والوں نے ظلم کیا ہے، وہ سزا سے نہیں بچیں گے ۔۔۔ نہیں صاحب یہ تو مدافعانہ پالیسی ہے، حکمرانوں کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ عوام ان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کاش شہباز شریف اس بابا جی کی بات پر غور کریں اور سوچیں کہ ایسے وزیراعلیٰ ہونے کا کیا فائدہ جو لوگوں کو نہ انصاف دے سکے اور نہ ظلم سے بچا پائے۔ اس بے بس حکمرانی کا بھی تو آخرت میں احتساب ہونا ہے، جس سے ڈر کر حضرت عمرؓ نے کہا تھا کہ دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا رہ گیا تو وہ اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔

مزید :

کالم -