امریکی وزیرِ دفاع کا دورۂ بھارت

امریکی وزیرِ دفاع کا دورۂ بھارت
امریکی وزیرِ دفاع کا دورۂ بھارت

  

دینِ عیسیٰ کے امامِ کعبہ، پوپ فرانسس چار روز پہلے ایک اجتماعی دعا (Mass) کے لئے بوسنیا کے دارالحکومت سراجیو میں تھے۔یہ وہ علاقہ ہے جہاں دو عشرے قبل عیسائیوں نے مسلمانوں پر اسی طرح عرصہ ء حیات تنگ کیا ہوا تھا جیسے آج میانمر(برما) میں روہنگیا مسلمانوں پر تنگ ہے۔سچی بات یہ ہے کہ حضرت پوپ نے اپنے خطاب میں بعض ایسے حقائق بیان فرمائے کہ جو ان کے گلوبل وژن کے آئنہ دار تھے۔ مثلاً پہلی بات تو انہوں نے یہ کہی کہ آج کی رزم آرا اقوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ نہایت خطرناک کھیل، کھیل رہی ہیں۔ پورے کرۂ ارض میں غیر علانیہ تیسری عالمی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ گزشتہ صدی کی دو عالمی جنگوں اور اس تیسری عالمی جنگ میں فرق صرف اتنا ہے کہ اول الذکر جنگیں مسلسل تھیں۔ پہلی چار برس تک اور دوسری چھ برس تک لگاتار لڑی جاتی رہی۔لیکن یہ تیسری جنگ، مسلسل جنگ نہیں۔ یہ وقفے وقفے سے لڑی جا رہی ہے جبکہ جنگ کے میدان وہی تینوں براعظم ہیں جوپہلے والی عالمی جنگوں کے میدانِ جنگ تھے۔۔۔ یعنی ایشیا، یورپ اور افریقہ ۔

دوسری حقیقت جو پوپ فرانسس نے بیان فرمائی، وہ اور بھی چشم کشا تھی۔ فرمایا کہ بعض اقوام جان بوجھ کر ان جنگوں کو برپا کرنے میں پیش پیش رہتی ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اقوام عالم منقسم رہیں، ایک دوسرے سے برسرپیکار رہیں اور ایک دوسرے کے خون کی پیاسی رہیں، تاکہ ان کے اسلحہ و بارود فروخت ہوتے رہیں۔ ان کی تجوریاں بھرتی رہیں اور ان کی اسلحہ ساز فیکٹریاں اور کارخانے چلتے رہیں۔

اور پھر محترم پوپ نے آخری وارننگ یہ بھی دے دی کہ ان اقوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس مکروہ دھندے میں وہ ملوث ہیں، اس کے نتائج نہایت ہولناک نکلیں گے۔یہ گویا عورتوں ،بچوں اور عمر رسیدہ لوگوں کا قتل عام ہے، یہ لاکھوں کروڑوں افراد کو بے گھر اور بے در کرنے کا جرم ہے، یہ مکانوں، بازاروں اور کارخانوں کو مسمار کرنے کا کھیل ہے اور یہ اُن خاندانی اکائیوں کو ریزہ ریزہ کرنے کا ارتکاب ہے، جن کے دم قدم سے یہ کرۂ ارض آباد ہے۔ اس کی بربادی پورے عالمِ انسانیت کو اپنے ہاتھوں ختم کرنے کا ایجنڈا ہے۔۔۔ واہ واہ حضرت پوپ! کیا حقیقت اور کیا صداقت بیان فرمائی ہے آپ نے!

تری آواز مکے اور مدینے

میں سوچتا ہوں پوپ کو کھل کر ان اقوام کی نشاندہی بھی کر دینی چاہیے تھی جو اس گھناؤنے کھیل کی بانی مبانی ہیں۔ اگرچہ انہوں نے یہ بات صراحتاً نہیں کہی، لیکن کون نہیں جانتا کہ اس گلوبل جرم میں وہ دین / مذہب پیش پیش ہے جس کے ’’امامِ کعبہ‘‘ وہ خود ہیں؟

یہ کالم طویل ہو جائے گا اگر میں یہ تفصیل قارئین کے سامنے رکھوں کہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے دوسرے روز ہی ان اتحادیوں نے اُس تیسری عالمی جنگ کا آغاز کر دیا تھا جو آج تک جاری ہے۔ ان اتحادیوں کا دین وہی ہے جس کے امامِ اعظم، حضرت پوپ خود ہیں۔وہ بتائیں کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دوسرے ناٹو ممالک کس دین کے پیروکار ہیں؟ کون نہیں جانتا کہ 1945ء سے لے کر آج تک وقفے وقفے سے جو بھی اور جتنی بھی علاقائی یا پراکسی جنگیں لڑی گئیں، ان کی پشت پر وہی اقوام ہیں جو دینِ عیسائیت کی مقلد تھیں اور ہیں۔۔۔

دوسری عالمی جنگ کو ختم ہوئے ویسے تو اگست 2015ء میں پورے 70برس ہو جائیں گے لیکن کیا ان سات عشروں میں کسی دوسرے مذہب/دین نے بھی کسی نئی جنگ کا بازار گرم کیا؟ دین اسلام کو عسکریت پسندوں کا دین کہنے والوں کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔اسلامی ممالک اور مسلمان اقوام نے تو ہمیشہ (دوسری عالمی جنگ کے بعد) حملہ آوروں کو صرف روکنے کا ’’جرم‘‘ کیا، اپنے دفاع کا ’’گناہ‘‘ کیا اور جارحیت کی مزاحمت کا ’’پاپ‘‘ کیا۔ عرب اسرائیلی جنگوں کے محرک بھی اصل میں یہودی نہیں، عیسائی تھے۔ ذرا ان جنگوں کی تاریخ تو اٹھا کر دیکھیں۔۔۔ اور ہاں یہودیوں کو عالمِ عرب میں لا کر اسرائیلی ریاست تشکیل کرنے کے ذمہ داروں کا اتہ پتہ تو معلوم کریں۔۔۔آپ کو معلوم ہو جائے گاکہ اسلام Militant ہے یا دینِ مسیحی، عسکریت پسندی کا اصل خالق ہے۔

میں دنیا کے دوسرے خطوں کی بات نہیں کرتا۔ اپنے برصغیر اور جنوبی ایشیائی خطے کا حوالہ دیتا ہوں۔ ابھی ایک ہفتہ پہلے آج ہی کے دن (منگل وار 2جون 2015ء) عیسائی دنیا کے واحد اور عظیم قائد (امریکہ) نے ایک چھوٹے سے اور ’’مفلوک الحال‘‘ ملک (پاکستان) کے خلاف کتنی واضح عسکریت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے وزیر دفاع کو ہمارے دشمن نمبر ایک (بھارت) کے ہاں بھیجا ہے اور مشن یہ دیا ہے کہ دیکھو پاکستان اگرچہ دنیائے اسلام کا واحد جوہری ملک ہے لیکن دنیائے اسلام کے 57ممالک میں سب سے زیادہ ڈانواں ڈول ملک ہونے کا ’’شرف‘‘ بھی اسے ہی حاصل ہے۔ اس لئے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کا وہی حشر کرو جو تم نے 1971ء میں کیا تھا۔ اور ہاں دیکھو! پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت مسئلہ کشمیر کو نامکمل ایجنڈاڈکلیئر کررہی ہے، اسے سمجھاؤ اور بتاؤ کہ ہمارا حل طلب مسئلہ جو 1971ء میں نصف پورا ہوا تھا اور نصف باقی تھا، تو اب اس باقی نصف کو ’’مکمل‘‘ کرنے کے دن آ گئے ہیں!

امریکی وزیر دفاع آشٹن کارٹر (Ashton Carter) 2جون 2015ء کو بھارت کے تین روزہ دورے پر تشریف لائے تھے۔ دورے کا مشن یہ تھا کہ چین اور پاکستان کو ’’آگے بڑھنے‘‘ سے روکا جائے۔ اس ’’آگے بڑھنے‘‘ کی تفاصیل سے تو قارئین خاصے آگاہ ہوں گے۔ لیکن یاد دہانی کے طور پر بتاتا چلوں کہ امریکہ، بحیرۂ جنوبی چین (South China Sea) میں چین کو روکنا (Contain) چاہتا ہے تاکہ وہ وہاں سے نکل کر بحرہند اور دوسرے دو بحروں (بحراوقیانوس اور بحرالکاہل) کا رخ نہ کرے کہ جہاں امریکی طیارہ برداروں کا بلاشرکتِ غیرے راج ہے۔ اور دوسرے پاکستان کو روکا جائے کہ گوادر خنجراب مواصلاتی نیٹ ورک کے منصوبوں کو پایہ ء تکمیل تک پہنچانے سے باز رہے۔

اس مشن کی تکمیل کے لئے سب سے پہلا کام امریکہ نے یہ کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ ایک دس سالہ معاہدہ کیا گیا ہے جس پر بھارت اور امریکہ کے وزرائے دفاع نے 3جون 2015ء کو نئی دہلی میں دستخط کر دیئے ہیں۔ اس معاہدے کا نام ’’امریکہ۔ بھارت دفاعی فریم ورک کا معاہدہ 2015ء‘‘ (US-India Defence Frame work Agreement 2015) رکھا گیا ہے۔

آپ کو یاد ہوگا، بھارت کے یوم جمہوریہ پر اسی سال جنوری میں امریکی صدر نئی دہلی آئے تھے اور یومِ جمہوریہ کی اس تقریب میں مہمان خصوصی تھے اور وزیراعظم بھارت جناب مودی کا شوقِ دیدار اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ بجائے مصافحہ کرنے کے مودی صاحب نے اوباما کو ’’جھپی‘‘ میں لے لیا تھااور اوباما سمیت ساری دنیا ورطہ ء حیرت میں ڈوب گئی تھی۔۔۔۔عالمی پروٹوکول کلچر کی یہ خلاف ورزی بہت سے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھا گئی!

افشائے رازِ عشق میں گو ذلتیں ہوئیں

لیکن اسے جتا تو دیا، جان تو گیا

امریکی وزیر دفاع جناب آشٹن کارٹر پورے وزیر دفاع بننے سے پہلے ایک طویل عرصہ تک امریکہ کے نائب وزیر دفاع بھی رہے اور اپنے اسی دور میں 2011ء اور پھر 2012ء میں بھارت کے سرکاری دورے کرتے رہے اور بھارتی بیورو کریسی کو یقین دلاتے رہے کہ امریکہ، بھارت کو اپنا محبوب ترین اتحادی سمجھتا ہے (دوسرا محبوب ترین اتحادی اسرائیل ہے اور تیسرے کے متعلق فی الحال کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ مودی صاحب کے بنگلہ دیش کے ’’کامیاب‘‘ دورے کے بعد دونوں ممالک نے کئی زمینی ٹکڑوں اور جزیروں کا جو باہمی لین دین کیا ہے، اس کی تفصیل ایک الگ کالم کا تقاضا کررہی ہے۔ کل کلاں اگر تیسرا محبوب ترین اتحادی بنگلہ دیش بن گیا تو یہ بات باعثِ حیرت نہیں ہوگی۔ لیکن موجودہ صورتِ حال میں تیسرا محبوب ترین اتحادی، ہمارے خیال میں ویت نام ہو سکتا ہے جو 1960-70ء کے عشروں میں امریکہ کا بدترین دشمن تھا!)

عام خیال یہ پایاجاتا ہے کہ مسٹر آشٹن امریکہ۔ بھارت تعلقات کے پلازے کی تعمیر میں ’’ہیڈمستری‘‘ تھے اور موجودہ ’’ڈیفنس فریم ورک ایگری منٹ‘‘ بھی انہی کا پلستر شدہ ہے۔۔۔آپ کو یاد ہوگا کہ جب اوباما جنوری 2015ء میں نئی دہلی آئے تھے تو انہوں نے بھارت سے چار دفاعی منصوبوں میں مدد دینے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ منصوبے یہ تھے۔۔۔(1) ڈرونوں کی اگلی نسل کی بھارت میں پروڈکشن۔۔۔ (2) سی۔130 طیاروں کے لئے نئی ’’رول آن، رول آف‘‘ کٹ کی بھارت میں تیاری۔۔۔(3) جنگی طیاروں،جنگی بحری جہازوں اور ٹینکوں وغیرہ کے انجنوں کی بھارت میں پروڈکشن۔۔۔(4) ہائی ٹیکنالوجی پاور سورس کی بھارت کو منتقلی!

اس وقت بھارتی بحریہ کی تین نیول کمانڈز ہیں۔ ایسٹرن نیول کمانڈ جس کا ہیڈکوارٹر وساکا پٹنم میں ہے۔۔۔ سادرن نیول کمانڈ جس کا ہیڈکوارٹر کوچی میں ہے۔۔۔ اور ویسٹرن نیول کمانڈ جس کا ہیڈکوارٹر ممبئی میں ہے۔ امریکی وزیر دفاع پہلے جزائر ہوائی میں اترے، وہاں سے سنگاپور گئے اور پھر سنگاپور سے دہلی آنے کی بجائے وساکاپٹنم میں ایسٹرن نیول کمانڈ کے ہیڈکوارٹر میں لینڈ کیا۔ وہاں فلیگ آفیسر نے آشٹن کو بریفنگ دی۔ وہیں وزیر دفاع نے بھارت میں تیار کردہ ایک فریگیٹ (بحری جنگی جہاز) میں کچھ دیر تک سمندر میں سفر کیا ،اس فریگیٹ کا غالب حصہ انڈیا میں بنایا گیا تھا لیکن اس کے انجن اور دوسرے حساس کل پرزے امریکہ اور یورپ کے دوسرے ممالک سے درآمد کئے گئے تھے۔

آشٹن کارٹر اگلے روز (بدھ) نئی دہلی پہنچے۔ وزیراعظم نریندر مودی، وزیرخارجہ سُشماسوراج، وزیر دفاع منوہر پریکار اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول (Ajit Doval) سے ملاقات کی اور اس کے بعد دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع نے متذکرہ بالا دس سالہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے۔

اس دفاعی معاہدے کی اہم ترین شقوں میں دو شقیں بطورِ خاص قابلِ توجہ ہیں۔ ایک یہ کہ بھارت اب مغرب کی بجائے مشرق کو دیکھے گا۔ یعنی پاکستان کی بجائے اب چین پر نگاہ رکھے گا ۔اور دوسرے یہ کہ چین کی بحریہ کوبحرہند میں آزادانہ آپریٹ کرنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑے کرے گا تاکہ وہ گوادر میں اپنی بحری قوت اکٹھی کرکے مغربی مفادات کو نقصان نہ پہنچائے۔

قارئین کو معلوم ہونا چاہیے کہ بحیرۂ جنوبی چین، چین کے دائرہ اثر میں آتا ہے اور دنیا کی نصف بحری تجارت اسی سمندری راہ سے ہوتی ہے۔ دوسری نصف وہ ہے جو آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے اور جس کے دہانے پر پاکستان کی بندرگاہ گوادر واقع ہے۔۔۔ یعنی امریکہ، چین کو دونوں اطراف سے سینڈوچ کرنا چاہتا ہے۔

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت اس ’’دفاعی فریم ورک معاہدے‘‘ پر عملدرآمد کروانے میں امریکہ کی کتنی مدد کر سکتا ہے اور یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس کو مشرق کی طرف دیکھنے کی کتنی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور امریکہ، بھارت کو پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کی تعمیر میں مزاحم ہونے کا کیا انعام دیتا ہے!

مزید :

کالم -