’’ظالم‘‘باپ نے تین بیٹیاں قتل کر دیں، مگر؟

’’ظالم‘‘باپ نے تین بیٹیاں قتل کر دیں، مگر؟

  

کھرڑیانوالہ فیصل آباد کے ایک باپ نے اپنی تین جڑواں بچیوں کو گلا دبا کر مار ڈالا، خبر کے مطابق قاتل باپ بہت غریب تھا اور اس نے یہ قتل اپنی غربت کے پیش نظر کئے کہ تین بچیوں کی پرورش اور ان کی دوسری ذمہ داریاں پوری نہیں کر پائے گا، خبر نگار اور میڈیا نے اسے ظالم باپ قرار دیا ہے۔اس تہرے قتل کی واردات کو بہت سرسری انداز سے لیا گیا ہے حالانکہ یہ سانحہ کسی بھی سیاسی ٹاک شو سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں پرتحقیق ہونا چاہیے، سب سے پہلے تو قاتل باپ کے پس منظر سے آگاہی ضروری ہے کہ اس کا خاندانی پس منظر کیا ہے۔ اور کیا وہ شادی سے پہلے ہی غریب اور مفلوک الحال تھا یا بعد میں ہوا، پھر یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی ذہنی حالت کیا ہے۔ ان معلومات کے بعد ہی اصل خبر کی طرف جایا جا سکتا ہے۔اس میں پوشیدہ ہماری معاشرتی اقدار اور اقتصادی حالت ہے، اگر مذکورہ شخص صحیح الدماغ ہے اور وہ پہلے سے غریب تھا تو پھر اس نے شادی ہی کیوں کی اور اگر بچوں کو بوجھ سمجھا گیا ہے تو وہ خاندانی منصوبہ بندی کے لئے کیوں آمادہ نہ تھے ۔ یہ سب معلوم ہو جانے کے بعد معاشرے کی اونچ نیچ اور روزگار،بے روزگاری کے ساتھ غربت و افلاس کی بات کی جا سکتی ہے اور اس سے یہ بڑا ہی خوفناک نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر حقائق غربت کی وجہ سے قتل کے ہیں تو پھر یہ ذہن کسی اور طرف بھی جا سکتا ہے یہاں معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری کی بات بھی کی جا سکتی ہے۔اب تو معاملہ پولیس کے پاس ہے جس نے روائتی طور پر بچیوں کا پوسٹ مارٹم کراکے ملزم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا جو قانون کے روائتی انداز ہی کے مطابق چلے گا اور عدالت فیصلہ کرے گی لیکن یہ فیصلہ کون کرے گا کہ قاتل نے شادی کیوں کی؟ اس نے محنت مزدوری کیوں نہ کی؟ اور اسے روزگار کیوں نہ ملا؟ ان سوالوں کا جواب ضروری ہے اور اگر حقیقتاً غربت اور افلاس کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا ہے تو پھر مستقبل کے حالات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اس لئے ابھی سے اصلاح کے لئے سوچ بچار ضروری ہے۔اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھارت اور پاکستان میں ایسے سانحات معمول بنتے جا رہے ہیں یہ بہت ہی خطرناک ہے۔ ریاست اور ان ممالک کی اشرافیہ کو سوچنا ہوگا کہ بھوکا پیٹ ہی انقلاب مانگتا ہے۔

مزید :

اداریہ -