روہنگیا مسلمان امداد کے منتظر

روہنگیا مسلمان امداد کے منتظر

  

روہنگیا مسلمانوں کی امداد سے متعلق وزیراعظم کی قائم کردہ جائزہ کمیٹی کا اجلاس اتوار کو ہوا۔بتایا گیا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی مدد سے متعلق سفارشات مرتب کر کے وزیر اعظم کو بھیج دی گئیں ۔وزیر اعظم کی منظوری کے بعد انہیں حتمی شکل دے دی جائے گی۔اس اجلاس میں طے پایا کہ پاکستان ترجیحی بنیادوں پر روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے کوشش کرے گا۔پاکستان اقوام متحدہ، او آئی سی اور مسلم امہ سے اپیل کرے گا کہ وہ اس ظلم کے خلاف بے یار و مددگار مسلمانوں کی آواز بنیں ،اس وحشت و درندگی پر اپنی آنکھیں بند نہ کریں۔چوہدری نثار کا اس موقع پر کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی اس معاملے میں خاموشی ان کے کردار اور مقاصد پربہت سے سوالات اٹھاتی ہے۔روہنگیا مسلمانوں کے بارے میں خبریں گزشتہ ماہ سے میڈیا میں گردش کر رہی ہیں اور کئی دل دہلا دینے والی تصویریں بھی منظر عام پر آ رہی ہیں۔یہ لوگ جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں، کھلے آسمان تلے، سمندر کے بیچوں بیچ اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،انہیں عالمی برادری سے مدد کی امید ہے، دنیا کے کسی خطے میں ان کو بھی انسان سمجھا جائے گا اور پناہ دی جائے گی۔روہنگیا مسلمانوں کا تعلق برما کی ریاست راکھینے سے ہے، یہ ریاست بنگلہ دیش اور برما کے بارڈر پر موجود ہے۔جس طر ح برما میں بدھ مت کے ماننے والوں کاراج ہے اسی طرح راکھینے میں بھی بدھ مت کے پیروکار اکثریت میں ہیں اور مسلمان اقلیت میں ۔ابتدا میں تو سب ٹھیک تھا۔ 1948ء میں برما کی آزادی کے بعد وہاں قائم ہونے والی پہلی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کی حیثیت کو تسلیم کیاتھا اور انہیں حکومت میں نمائندگی بھی دی۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ وہاں کے مسلمان بدھ مت کے پیروکاروں کی آنکھ میں چبھنے لگے، انہیں یہ اندیشہ لاحق ہو گیا کہ اگر مسلمانوں کا ’ علاج‘ نہ کیا گیا تو وہ ان پر غالب آ جائیں گے، اس معاملے پر برمی حکومت بھی ان کی ہم خیال ہو گئی۔برما کی حکومت نے ان کو اپنا شہری ہی ماننے سے انکار کردیا،اس کا موقف تھاکہ یہ لوگ دراصل بنگلہ دیش سے آئے ہوئے لوگ ہیں، جو حصول روزگار کے لئے غیر قانونی طور پر برما میں داخل ہوئے تھے اوراٹھارہویں صدی میں ان کے آباو اجداد کی برما میں موجودگی ثابت نہیں ہوتی،اسی وجہ سے برما کی حکومت نے میانمر کے 1982ء کے قانون شہریت کے تحت ان مسلمانوں کو شہریت دینے سے انکار کر دیا ۔وہاں پر مسلمانوں کو ’وائیٹ کارڈ‘ جاری کئے گئے جس کے تحت انہیں انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق بھی دیا گیا، لیکن یہ بات بھی وہاں کے مذہبی رہنماوں کو پسند نہ آئی اور انہوں نے اس پر احتجاج کیا جس کے نتیجے میں حکومت نے مسلمانوں سے یہ حق بھی چھین لیا۔

راکھینے میں ان سے بدترین سلوک کیا جانے لگا ،بلکہ اگر کہا جائے کہ ان کی حالت حیوانوں سے بدتر ہو گئی تو غلط نہیں ہو گا۔ مسلمانوں کو شہریت تو کیا دینی تھی،حکومت نے انہیں بنیادی سہولتوں سے بھی محروم کر دیااوریہ لوگ روٹی کو ترس گئے۔ وہاں پر مسلمان ہولناک غربت کا شکار ہو گئے۔جون 2012 ء میں راکھینے میں بد ترین نسلی فسادات ہوئے اور اس وقت تقریباً چالیس ہزار لوگ وہاں سے نکل کر دوسری جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔اقوام متحدہ کے مطابق ہزاروں روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کے کیمپوں میں موجود تھے لیکن حسینہ واجد کی حکومت بھی اب ان کو مزید ’برداشت ‘نہیں کرنا چاہتی اس لئے اس نے انہیں نکل جانے کا حکم دے دیا ہے۔برمی مسلمانوں نے ظلم و ستم سے تنگ آ کراپنے آپ کو سمندر کے حوالے کر دیا، ان کا خیال تھا کشتی میں بیٹھ کر وہ ملائیشیا پہنچ جائیں گے، وہاں کھلی بانہوں کے ساتھ ان کا استقبال ہو گا، ان کی مشکلات کم ہو جائیں گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔آسٹریلیا، ملائیشیا، انڈونیشیا اور فلپائن نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اب خبریں ہیں کہ باقی ممالک تو ٖغور کر رہے ہیں لیکن ملائیشیا نے اپنے دروازے ان کے لئے کھول دئے ہیں۔لیکن ابھی بھی بے شمار لوگ زندگی و موت کے بیچ میں ڈول رہے ہیں، کھلے سمندر کی بے رحم لہروں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ایک اندازہ یہ بھی ہے کہ ان لوگوں میں صرف برمی ہی نہیں بنگلہ دیشی مسلمان بھی موجود ہیں۔

ظلم و ستم کی داستان یہیں ختم نہیں ہوتی ،بلکہ اب برما میں ایک نیا قانون رائج کیا جا رہا ہے جس کے مطابق کسی بھی خاتون کوتین سال سے قبل اگلے بچے کی پیدائش کی اجازت نہیں ہو گی۔ عام خیال یہ ہے کہ یہ قانون رائج کرنے کا مقصد بالواسطہ مسلمانوں کی پیدائش محدود کرنا ہے۔دکھ کی بات تو یہ ہے کہ کوئی ان بے یار و مددگار لوگوں کی طرف نظر کرم نہیں کر رہا۔تمام مسلم ممالک اس صورتحال پر خاموش ہیں۔عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔انسانی حقوق کا راگ الاپنے والی زبانیں بھی بند ہیں۔امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر غور کر رہا ہے۔ایسی صورتحال میں کم از کم مسلم امہ کو تو ان کا درد محسوس کرنا چاہئے۔پاکستان کے ارباب اختیار نے بھی آخر کار اس کا نوٹس لے ہی لیا ہے تو جلد از جلد موثر اقدامات اٹھائیں، ان کو آباد کرنے کے لئے کوشش کریں۔ بین الاقوامی برادری کو مجبور کریں کہ وہ ان کی خبر گیری کرے۔مسلم ممالک چاہیں تو ان لوگوں کو بانٹ سکتے ہیں ،اپنے پاس پناہ دے سکتے ہیں، ان کے والی وارث بن سکتے ہیں۔کیاپوری دنیامیں ان روہنگیا مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے؟مسلم امہ اورعالمی برادری ان پر رحم کریں، انہیں کم از کم انسان تو سمجھیں اور ان کے دکھ درد کا مداوا کرنے کا سامان کریں۔

بنگلہ دیش اوربھارتی وزیراعظم کا تازہ بھاشن

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان توڑنے کی سازش کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کا قیام ہر بھارتی کی خواہش تھی ہماری افواج بنگلہ دیش کی آزادی کے لئے مکتی باہنی کے ساتھ مل کر لڑیں اور بنگلہ دیش بننے کے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مدد کی۔ بھارتی وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار بنگلہ دیش کے دورے کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔بھارتی وزیراعظم نے جو ’’اعترافِ گناہ ‘‘ کیا ہے وہ پہلے بھی کوئی راز نہ تھا اور پاکستان کے مشرقی بازو کو الگ کرکے بنگلہ دیش بنانے میں بھارتی قیادت کا کردار ظاہر و باہر تھا، اس وقت اندرا گاندھی بھارت کی وزیراعظم تھیں اور انہوں نے کس طرح بھارتی افواج کو مشرقی پاکستان پر حملے کے لئے تیاری کا حکم دیا تھا اس کی تفصیلات تو اب بہت سی کتابوں میں بھی چھپ چکی ہیں جن کمانڈروں کو اندراگاندھی نے حملے کے احکامات دیئے وہ بھی تفصیلات بیان کرچکے ہیں،یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ بھارت کے ان ارادوں میں اور کون کون سا ملک اس کے ساتھ تھا، اس وقت امریکہ کے صدر نکسن تھے جنہوں نے اپنی یادداشتوں میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے کہ اندرا گاندھی تو مغربی پاکستان پر بھی حملہ کرنا چاہتی تھیں امریکہ نے دباؤ ڈال کر انہیں اس ارادے سے بازرکھا ، بہرحال اب اگر نریندر مودی کانگرس حکومت کے اس ’’کارنامے‘‘ کو فخر کے ساتھ بیان کررہے ہیں تو اس کا بھی ایک تازہ پس منظر ہے۔ ابھی چند روز پہلے امریکہ کے وزیردفاع آشٹن کارٹر نے بھارت کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس کا بظاہر مقصد چین کو آگے بڑھنے سے روکنا ہے دوسرا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں اور گوادر کی بندرگاہ کو پاکستان کی ترقی میں کردار اداکرنے سے روکا جائے اس کے لئے بھارت نے ایران سے چاہ بہار کی بندرگاہ کو ترقی دینے کا معاہدہ کیا ہے، بھارت کو پاکستان کے خلاف اپنے تازہ عزائم کی روشنی میں ہی بنگلہ دیش کی تشکیل میں اپنے کردار کی یاد آئی ہے، لیکن نریندر مودی کو یاد رکھنا چاہئے کہ 71ء کو گذرے ہوئے بھی ساڑھے چار عشرے ہوگئے ہیں، اس دوران دنیا بدل گئی، پاکستان نے بھی اپنے دشمنوں اور دوستوں کو اچھی طرح پہچان لیا، پاکستان نے اس تمام عرصے میں ایٹمی قوت بن کر اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ہے اس لئے بھارتی رہنماؤں کے دماغ کے کسی گوشے میں اگر بنگلہ دیش کی طرح کا دوبارہ کوئی وینچر کرنے کی خواہش جنم لے رہی ہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے اب کی بار بھارت میں بھی کوئی ’’بنگلہ دیش‘‘ بن سکتا ہے اور علیحدگی کی جو تحریکیں وہاں چل رہی ہیں وہ بھارت کے لئے کسی ڈراؤنے خواب کی تمہید بھی بن سکتی ہیں۔

’’ظالم‘‘باپ نے تین بیٹیاں قتل کر دیں، مگر؟

کھرڑیانوالہ فیصل آباد کے ایک باپ نے اپنی تین جڑواں بچیوں کو گلا دبا کر مار ڈالا، خبر کے مطابق قاتل باپ بہت غریب تھا اور اس نے یہ قتل اپنی غربت کے پیش نظر کئے کہ تین بچیوں کی پرورش اور ان کی دوسری ذمہ داریاں پوری نہیں کر پائے گا، خبر نگار اور میڈیا نے اسے ظالم باپ قرار دیا ہے۔اس تہرے قتل کی واردات کو بہت سرسری انداز سے لیا گیا ہے حالانکہ یہ سانحہ کسی بھی سیاسی ٹاک شو سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں پرتحقیق ہونا چاہیے، سب سے پہلے تو قاتل باپ کے پس منظر سے آگاہی ضروری ہے کہ اس کا خاندانی پس منظر کیا ہے۔ اور کیا وہ شادی سے پہلے ہی غریب اور مفلوک الحال تھا یا بعد میں ہوا، پھر یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی ذہنی حالت کیا ہے۔ ان معلومات کے بعد ہی اصل خبر کی طرف جایا جا سکتا ہے۔اس میں پوشیدہ ہماری معاشرتی اقدار اور اقتصادی حالت ہے، اگر مذکورہ شخص صحیح الدماغ ہے اور وہ پہلے سے غریب تھا تو پھر اس نے شادی ہی کیوں کی اور اگر بچوں کو بوجھ سمجھا گیا ہے تو وہ خاندانی منصوبہ بندی کے لئے کیوں آمادہ نہ تھے ۔ یہ سب معلوم ہو جانے کے بعد معاشرے کی اونچ نیچ اور روزگار،بے روزگاری کے ساتھ غربت و افلاس کی بات کی جا سکتی ہے اور اس سے یہ بڑا ہی خوفناک نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر حقائق غربت کی وجہ سے قتل کے ہیں تو پھر یہ ذہن کسی اور طرف بھی جا سکتا ہے یہاں معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری کی بات بھی کی جا سکتی ہے۔اب تو معاملہ پولیس کے پاس ہے جس نے روائتی طور پر بچیوں کا پوسٹ مارٹم کراکے ملزم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا جو قانون کے روائتی انداز ہی کے مطابق چلے گا اور عدالت فیصلہ کرے گی لیکن یہ فیصلہ کون کرے گا کہ قاتل نے شادی کیوں کی؟ اس نے محنت مزدوری کیوں نہ کی؟ اور اسے روزگار کیوں نہ ملا؟ ان سوالوں کا جواب ضروری ہے اور اگر حقیقتاً غربت اور افلاس کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا ہے تو پھر مستقبل کے حالات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اس لئے ابھی سے اصلاح کے لئے سوچ بچار ضروری ہے۔اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھارت اور پاکستان میں ایسے سانحات معمول بنتے جا رہے ہیں یہ بہت ہی خطرناک ہے۔ ریاست اور ان ممالک کی اشرافیہ کو سوچنا ہوگا کہ بھوکا پیٹ ہی انقلاب مانگتا ہے۔

مزید :

اداریہ -