بر وقت انصاف کی فراہمی کیلئے پولیس میں ہر سطح پر خواتین کو بھرتی کیا جا رہا ہے ،مشتاق سکھیرا

بر وقت انصاف کی فراہمی کیلئے پولیس میں ہر سطح پر خواتین کو بھرتی کیا جا رہا ہے ...

  

لاہور(کر ائم رپورٹر )صوبے بھرمیں خواتین کو اپنے ساتھ پیش آنے والے جرائم کی بلاجھجھک تھانوں میں اندراج اور بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے پنجاب پولیس میں ہر سطح پر خواتین کو بھرتی کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں اوراتنی بڑی تعداد میں پڑھی لکھی خواتین کا محکمہ پولیس میں ملازمت اختیار کرنے کا فیصلہ اس ادارے پر ان کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی غمازی کرتا ہے اور محکمہ پولیس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاس آؤٹ ہونے والے اس بیچ میں کمپنی، پلاٹون اور پریڈ کمانڈر بھی خواتین ہی تھیں۔ان خیالات کا اظہارانسپکٹرجنرل پولیس پنجاب، مشتاق احمد سکھیرا نے گزشتہ روز پولیس ٹریننگ کالج، چوہنگ لاہور میں پنجاب پولیس کی تاریخ کے سب سے بڑے 504خواتین پر مشتمل بیچ کی 7ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ کے معائنے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرایڈیشنل آئی جی ویلفےئر اینڈ فنانس، سہیل خان، ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ، کیپٹن (ر) عثمان خٹک، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز، کیپٹن (ر) عارف نواز، ایڈیشنل آئی جی PHP، جاوید اسلام، ایڈیشنل آئی جی ٹریفک، رائے الطاف حسین ، DIGہیڈ کوارٹرز، فاروق مظہر، ڈی آئی جی ٹریننگ، سعد اختر بھروانہ ، ڈی آئی جی R&D، غلام محمود ڈوگر، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن، غلام رسول زاہد، ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ ، نواز وڑائچ اور ڈی آئی جی PHP، سلمان چوہدری کے علاوہ دیگر سینےئر پولیس افسران بھی موجود تھے ۔اس موقع پر کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ سنٹر چوہنگ، فیاض احمد دیو نے بتایا کہ پاس آؤٹ ہونے والی خواتین میں 38مختلف مضمونوں میں ماسٹرز، 237بیچلرز، 193انٹرمیڈیٹ اور 34میٹرک تک تعلیم یافتہ ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پنجاب نے کہا کہ وطن عزیز کو آج جو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے اور دہشت گرد اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے پنجاب پولیس ہر دم تیار ہے اور پاس آؤٹ ہونے والی خواتین مرد اہلکاروں کے شانہ بشانہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ اس موقع پر میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے آئی جی پنجاب نے کہا کہ شہریوں سمیت اعلیٰ شخصیات، غیر ملکی ماہرین اور خصوصی طور پر چینی ماہرین کی سیکیورٹی کے لئے تمام اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور خطرناک اشتہاریوں کی گرفتاری کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے ۔

مزید :

علاقائی -