پاک بھارت عوام سچ سننے کو تیار نہیں

پاک بھارت عوام سچ سننے کو تیار نہیں
پاک بھارت عوام سچ سننے کو تیار نہیں

  

سابق صدر پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف نے صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے بھارت کا دورہ کیا۔ انہیں آگرہ میں ٹھہرا یا گیا۔ یہ مذاکرات بظاہر نا کام ہو گئے۔ جس کی بنیادی وجہ پرویز مشرف کی بھارتی صحافیوں کے ساتھ وہ گفتگو تھی جس نے بھارتی قیادت کے موڈ خراب کر دئے۔ سابق صدر پرویز مشرف نے ناشتہ پر بنیادی بات یہی کی تھی کہ بھارت نے مکتی باہنی کی حمائت کر کے پراکسی وار کا جو سلسلہ شروع کیا تھا۔ وہ اب تک جاری ہے اور پاکستان بھارت کو اسی زبان میں جواب دے رہا ہے ۔ بس یہ بات ہندوستانی میڈیا کو اتنی بری لگی کہ مذاکرات ہی ختم ہو گئے۔

اب بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے دورہ بنگلہ دیش کے موقع پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بھارت نے مکتی باہنی کی نہ صرف مدد کی بلکہ بھارتی اس میں لڑتے بھی رہے۔نریندر مودی نے تو یہ بھی کہا ہے کہ بنگلہ دیش کی تحریک میں وہ خود بھی شریک رہے۔ اور انہیں اس پر فخر ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان آئے روز ڈسٹرب کر کے ناک میں دم کر دیتا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم کے بیان پر پاکستان میں شدید رد عمل ہے۔ ویسا ہی رد عمل جیسا بھارت میں سابق صدر پرویز مشرف کے بیان کے بعد تھا۔

اگر ٹھنڈے دل سے دیکھا جائے تو دونوں سربراہان اپنے اپنے وقت پر سچ بول رہے تھے۔ لیکن دونوں بار سچ سرحد کے دوسری طرف قابل قبول نہیں تھا۔ ویسے تو یہ کہا جا تا ہے کہ ایسا سچ نہیں بولنا چاہئے جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جا تا ہے کہ سرحد کے دونوں طرف سچ سننے کا حوصلہ ہونا چاہئے۔ لیکن صورتحال ایسی ہے کہ اس وقت سرحد کے دونوں طرف سچ سننے کا حوصلہ نہیں ہے۔ کوئی بھی اپنی ہار ماننے کو تیار نہیں ۔ کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ کس نے کب فاؤل کھیلا۔ چونکہ دونوں طرف ایک جذباتی کیفیت ہے اس لئے معاملات کو سچ نہیں جذبات کی آنکھ سے دیکھا جا تا ہے۔

پاکستان بھارت کے تعلقات اس وقت جمود کا شکار ہیں۔ ان میں کوئی بہتری نہیں ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اس وقت ایسی کوشش بھی ہو رہی ہے کہ معاملات ایک حد سے زیادہ خراب نہ ہوں۔ تا ہم بھارتی قیادت جان بوجھ کر ایسی باتیں کر رہی ہے جس سے پاک بھارت ماحول خراب ہو۔ چند دن قبل ایک بھارتی مشیر نے بیان دیا کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ اس بیان پر بھی پاکستان میں شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا۔ بلکہ پاکستان کے وزراء نے بھی اس پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جس پر بھارتی مشیر نے معافی مانگنے کی بجائے یہ کہا کہ میرے بیان پر پورے پاکستان کو مرچیں لگی ہوئی ہیں۔جس نے مزید جلتی پر تیل کا کام کیا۔

بھارت کو اس بات کا ادراک کرنا ہو گا کہ 1971 کے دور میں مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے ناراض تھا۔ یہ ناراضگی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ پھر 1971 کے انتخابات کا مینڈیٹ بھی تسلیم نہیں کیا گیااور اسٹیبلشمنٹ نے مشرقی پاکستان کی قیادت کو اقتدار منتقل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد جو بھی ہوا وہ ہمار ی غلطیوں کا رد عمل تھا۔ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ بھارت نے ہماری قیادت کی غلطیوں در غلطیوں سے بھر پور فائد ہ اٹھا یا۔

تاہم آج2015 میں صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔ بلوچستان کی قوم پرست قیادت نے نہ صرف گزشتہ انتخاب لڑا ۔ بلکہ وہ موجودہ نظام میں شریک بھی ہے۔ جبکہ بھارتی کشمیر میں روز پاکستانی پرچم لہرائے جا رہے ہیں۔ جس قدربھارتی قیادت بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کر رہی ہے ۔ کشمیر میں ظلم بڑھا رہی ہے اتنا ہی پاکستانی پرچم لہرانے کے واقعات میں اضافہ ہو گا۔ یہ درست ہے کہ بھارت نے مکتی باہنی بنائی اور پاکستان ابھی تک کشمیر میں عسکری تربیت کے مراکز کی اس طرح حمائت نہیں کر رہا ۔ جس طرح بھارت نے مکتی باہنی کی حمائت کی۔

اس کی ایک اور مثال یہ بھی ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ سے دو این جی اوز پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ افریقہ کی یہ دو این جی اوز پاکستان میں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اس پر جب اقوام متحدہ میں ووٹنگ ہوئی تو بھارت نے این جی اوز کے حق میں ووٹ دیا۔ حالانکہ اکثریت نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا اور ان این جی اوز پر بھارت کی مخالفت کے باوجود پابندی لگ گئی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔ کبھی مذاکرات کا شور ہو جا تا ہے۔ کبھی فوجیں سرحد پر آجاتی ہیں۔ کبھی مذاکرات شروع ہو جاتے ہیں کبھی تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کبھی کرکٹ شروع ہو جاتی ہے۔ کبھی کرکٹ پر پابندی لگ جاتی ہے۔ اس کی شائد ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں طرف کے عوام ابھی بہت جذباتی ہیں اور سچ سننے کے موڈ میں نہیں ہیں۔

مزید :

کالم -