گلگت بلتستان انتخابات ،مسلم لیگ (ن) کو برتری ،پیپلز پارٹی کا صفایا ،مہدی شاہ بھی ہار گئے

گلگت بلتستان انتخابات ،مسلم لیگ (ن) کو برتری ،پیپلز پارٹی کا صفایا ،مہدی شاہ ...

  

گلگت (خصوصی رپورٹ ،این این آئی ،آن لائن ،مانیٹرنگ ڈیسک)گلگت بلتستان کے قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ ن نے میدان مار لیا جبکہ پیپلزپارٹی کا صفایا ہو گیا،تحریک انصاف بھی کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکی ۔ رات گئے ملنے والے غیر حتمی اور غیر سر کاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے امیداوار 6نشستوں پر کامیاب ہوچکے تھے جبکہ 8نشستوں پر مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو واضح برتری حاصل تھی،24رکنی گلگت بلتستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی صرف ایک نشست جیت سکی پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعلی مہدی شاہ بھی شکست کھا گئے ۔تحریک انصاف کو تین نشستوں پربرتری حاصل ہے جبکہ دو نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں،اسلامی تحریک کا ایک امیدوار کامیاب ہوا جبکہ ایک کو برتری حاصل ہے اسی طرح وحدت المسلمین کا بھی ایک میدوار کامیاب ہوا جبکہ ایک سیٹ پر اسے برتری حاصل ہے ۔تفصیل کے مطابقگلگت بلتستان کی اسمبلی کی 24 نشستوں کیلئے ووٹنگ میں ، پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ (ن) ، تحریک انصاف میں کانٹے کا مقابلہ ہوا ۔ووٹنگ کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔گلگت بلتستان میں انتخابات کا انعقاد پر امن رہا۔ الیکشن کے لیے سات اضلاع میں 1151 پولنگ مراکز قائم کیے گئے تھے جن میں سے تقریباً نصف کو حساس یا انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔یہ پہلا موقع تھا کہ خطے میں انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے فوج تعینات کی گئی ہے جبکہ تمام اضلاع میں عام تعطیل رہی ۔پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہوئی اور بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہی۔گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی میں کل نشستوں کی تعداد 33 ہے جس میں تین ٹیکنوکریٹس جبکہ چھ خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ باقی رہ جانے والے 24 نشستوں پر پیر کو انتخابات ہوئے ان میں 268امیدوار مدمقابل تھے ۔ان 24 نشستوں کے لیے سات اضلاع گلگت، ہنزہ، سکردو، گانچھے، استور، غذر اور دیامر میں 268 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں سے تقریباً 40 فیصد آزاد امیدوار تھے۔ان انتخابات میں 17 سیاسی جماعتیں بھی شریک تھیں جن میں سے پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے تمام 24 حلقوں سے امیدوار کھڑے کیے ۔اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے 22، پاکستان تحریک انصاف تحریکِ انصاف کے 21، مجلس وحدت المسلمین کے 15، جے یو آئی ف کے دس، پرویز مشرف کی جماعت اے پی ایم ایل کے 13 اور جماعت اسلامی کے چھ امیدوار بھی میدان میں تھے۔یہ پہلا موقع ہے کہ علاقے میں انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے فوج تعینات کی گئی تھی ۔ان 24 نشستوں میں گلگت کے تین، سکردو کے چھ، دیامر کے چار، غذر، ہنزہ اور گانچھے کے تین تین، جبکہ استور کے دو انتخابی حلقے شامل تھے جہاں چھ لاکھ سے زیادہ باشندوں نے ووٹ ڈالیں جن میں لگ بھگ 45 فیصد خواتین ہیں۔تاہم اِن انتخابات میں صرف دو خواتین امیدواروں نے حصہ لیا جن کا تعلق ضلع گانچھے سے ہے۔گلگت میں پولنگ کے آغاز پر خواتین کے پولنگ بوتھ پر خاصی بھیڑ دکھائی دی جبکہ ضلع دیامیر میں خواتین کے لیے ووٹ ڈالنے کا عمل آسان بنانے کے لیے اضافی پولنگ سٹیشن بنائے گئے تھے۔چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ طاہر علی شاہ نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہاں پردے کا مسئلہ درست تھا۔ وہاں خواتین عملے کا بندوبست کیا گیا ۔ 55 نئے پولنگ سٹیشن بنائے گئے جن کے باہر خاص طور پر فوج تعینات کی گئی ۔ گلگت میں پولنگ کے آغاز سے ہی قطاریں لگنا شروع ہو گئی تھیں اور مجموعی طور پر ماحول پرامن، منظم اور ادارہ جاتی و جماعتی دائرہ کار میں محدود دکھائی دئیے۔ طاہر علی شاہ کا کہنا تھا کہ انتخابات کے لیے سکیورٹی منصوبہ فوج اور پولیس کی مدد سے بنایا گیا تھا۔ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں ایک بڑا اپ سیٹ ہوا اور پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ الیکشن ہار گئے ، ان کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف کے راجہ جلال واضح برتری لے چکے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے اکبر تاوان دوسرے نمبر پر ہیں ۔ راجہ جلال نے 3 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے اکبر تاوان 2800 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے ، سید مہدی شاہ کے اب تک 1700 ووٹ ہیں۔ راجہ جلال جو انتخابات سے قبل پیپلزپارٹی میں تھے اور پیپلزپارٹی کی قیادت سے اختلافات کے بعد تحریک انصاف میں شامل ہوئے ۔

مزید :

صفحہ اول -