بھارتی وزیر اعظم کی تقریر مستقبل کے عزائم کیا؟

بھارتی وزیر اعظم کی تقریر مستقبل کے عزائم کیا؟

  

تجزیہ: چودھری خادم حسین

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی بنگلہ دیش میں کی جانے والی تقریر پر معروضی حالات میں غور کیا جائے تو اس سے بھارتی عزائم کے حوالے سے دوررس نتائج مرتب ہوتے ہیں اور برصغیر کا نیا نقشہ کیا ہے اسے سمجھنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ بی جے پی کے اٹل بہاری واجپائی کو اگر یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ لاہور آ کر مینار پاکستان گئے اور پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بھی بڑھایا لیکن نریندر مودی مختلف ہیں وہ گجرات میں مسلمانوں کے اجتماعی قتل کے ذمہ دار ہیں تو انہوں نے حالیہ انتخاب بھی پاکستان دشمن حالات پیدا کر کے جیتا اور وہ بغض ظاہر کرنے میں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور بنگلہ دیش میں ان کی تقریر کو اقبال جرم کی بجائے مستقبل میں ہونے والے واقعات کے حوالے سے دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ بھارتی برسر اقتدار جماعت سے خیر کی کوئی توقع نہیں ۔

ادھر پاکستان کی بری افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بہت کھل کر بات کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں اور کسی کو اپنے ملک کی طرف بری نظر سے نہیں دیکھنے دیں گے۔

اس طرح برصغیر میں حالیہ کشیدگی بھی ظاہر ہو گئی ہے اور وزیر اعظم مودی بھی کھلی دھمکی دے رہے ہیں۔

برصغیر کے سنجیدہ فکر حضرات ہمسایہ ممالک کے درمیان محاذ آرائی کو تشویش سے دیکھتے اور بھارت کے رویئے کی مذمت کرتے ہیں لیکن پاکستان میں ماسواے فوجی قیادت کے اور کسی طرف سے ایسی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ورنہ دھاندلی کے لئے اے پی سی ضروری ہو گئی تو قومی خدشات و خطرات اور امور پر اتفاق رائے کیوں نہیں۔

ان سطور کی تحریر کے وقت گلگت بلتستان اور منڈی بہاؤ الدین کے ضمنی انتخاب میں ووٹنگ مکمل ہو چکی اور منڈی بہاؤ الدین کا الیکشن مسلم لیگ (ن) کے ممتاز احمد تارڑ نے بھاری مارجن سے جیت لیا ہے، گلگت بلتستان میں بھی مسلم لیگ (ن) 9 نشستیں جیت گئی ہے۔ بہتر عمل اس جمہوری عمل کی تائید ہے۔ ان انتخابات کو بھی خیبر پختون خوا کے بلدیاتی انتخابات نہ بنا لیا جائے جہاں تک خیبرپختون خوا کے بلدیاتی انتخابات کا تعلق ہے تو وفاقی حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کرنے والی جماعت کو ایسے ہی مطالبے کا سامنا ہے اور حکومت مخالف سہ فریقی اتحاد بن چکا جس نے تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ عمران خان نے دوبارہ انتخابات کی پیش کش کی جو نہیں مانی گئی وہ کہتے ہیں الیکشن دوبارہ کرالیں، حزب اختلاف کہتی ہے۔ حکومت مستعفی اور اسمبلی تحلیل ہو کہ ان کی موجودگی میں منصفانہ انتخابات ممکن نہیں۔

سہ فریقی اپوزیشن اتحاد نے اے پی سی کا بائیکاٹ کر دیا ہے اپوزیشن کو بھی موقع ملا کہ عمران کی طرح وہ بھی جوابی حملہ کر سکے اور کے پی کے حکومت ہٹانے کا مطالبہ کر سکے۔

مزید :

تجزیہ -