پی آئی اے برطانیہ سروس پر پابندی کا خدشہ

پی آئی اے برطانیہ سروس پر پابندی کا خدشہ
پی آئی اے برطانیہ سروس پر پابندی کا خدشہ

  

اسلام آباد،لندن(ویب ڈیسک)پی آئی اے عملے کے منی لانڈرنگ اورموبائل فون سمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات کی انکوائری برطانوی حکام نے گزشتہ ایک سال سے جاری رکھی ہوئی ہے۔ذرائع کاکہناہے کہ حکام کے پاس ٹھوس شواہداور ویڈیوزموجودہیں جس میں پی آئی اے کاعملہ اور کپتان لندن سے پاؤنڈزاورسمارٹ فون پاکستان سمگل کرتے ہیں۔ان الزامات پر پی آئی اے کی برطانیہ میں سروس پر پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے۔ذرائع کاکہناہے کہ چندماہ قبل بھی پی آئی اے کی لاہورپرواز سے 30ہزار پاؤنڈز اور 36آئی فون 6سمگل کرنے کی کوشش کی گئی جسے پاکستان کسٹمز حکام نے ناکام بناتے ہوئے پورے عملے کو حراست میں لے لیاتھا۔ذرائع کے مطابق عملے کو کرنسی اور موبائل فونز دیئے جانے کی ویڈیوز بھی موجودہیں جوایک برطانوی اخبار نے خفیہ طریقے سے بنائی تھیں۔ذرائع نے بتایاکہ اس پرواز کے عملہ نے ایجورروڈلندن کے عربی ریسٹورنٹ میں ڈیل کی تھی اور کیش کا 10فیصد چارج کیاتھاجبکہ فی موبائل فون سو پاؤنڈزچارج کیے گئے تھے۔گزشتہ روز پکڑے جانیوالے سات افرادسے 12ہزار پاؤنڈزاورسات آئی فون برآمدہوئے تھے ،پی آئی اے حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہے اور ان افراد کو لندن میں اپنے ہوٹل جانے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کے دورہ برطانیہ کے موقع پر یواین این کے سٹاف کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کیاگیاتھا۔

مزید :

اسلام آباد -