وزیراعظم حسینہ واجدکو خوش کرنے کے چکر میں مودی مصیبت میں پھنس گئے

وزیراعظم حسینہ واجدکو خوش کرنے کے چکر میں مودی مصیبت میں پھنس گئے
وزیراعظم حسینہ واجدکو خوش کرنے کے چکر میں مودی مصیبت میں پھنس گئے

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جب سے اقتدار میں آئے ہیں لاابالی پن میں دیئے جانے والے اپنے بیانات کی وجہ سے مسلسل تنقید کی زد میں ہیں۔ جہاں ان کے بیانات پر انہیں بیرونی دنیا میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہیں بھارتی عوام بھی ان کے بعض بیانات پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔

اپنے حالیہ دورہ بنگلہ دیش میں نریندر مودی نے پھربغیر سوچے سمجھے دوایسے بیانات داغ دیئے جن کی وجہ سے انہیں بھارت سمیت دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پہلا بیان سقوط ڈھاکہ کے متعلق دیا جسے سقوط ڈھاکہ کے دہشت گردانہ کردار کے حوالے سے بھارت کا اعترافی بیان بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسرے بیان میں وہ اپنی بنگالی ہم منصب شیخ حسینہ واجد کی تعریف کرنا چاہ رہے تھے لیکن اپنے لاابالی پن کے ہاتھوں مجبور ہو کر ”صنفی امتیاز“ برتنے کے ملزم قرار دے دیئے گئے۔ نریندر مودی نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میں خوش ہوں کہ شیخ حسینہ واجد نے ”خاتون ہونے کے باوجود“ دہشت گردی کے خلاف بھرپور جدوجہد کی ہے۔ نریندر مودی کے اس صنفی امتیاز پر مبنی بیان پر انہیں بھارتی عوام کی طرف سے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے کسی رہنماءکی طرف سے خواتین کے ساتھ امتیاز برتا گیا ہو، اس سے قبل بھی بی جے پی کے رہنماﺅں کی طرف سے ایسے بیانات آتے رہتے ہیں۔نریندر مودی کے بیان میں اگرچہ حسینہ واجد کی تعریف کا عنصر غالب تھا لیکن بھارتی عوام نے اسے خواتین کے ساتھ امتیاز سے تعبیر کیا۔ سوشل میڈیا پر بھانت بھانت کے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ شائنے نامی خاتون نے انتہائی غصہ سے بھرا ٹویٹ کیا کہ ”میں تمہارے منہ پر ایک گھونسا ماروں گی اور تمہارا چہرہ بھی خواتین کی طرح ہو جائے گا“۔آمنہ نامی خاتون نے کہا کہ ”دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست کے سربراہ کی طرف سے صنفی امتیاز پر مبنی بیان آنے پر میں اب تک حیران ہوں“۔آرپتا داس کا کہنا تھا کہ ”کیا وزیراعظم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم خواتین دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہیں؟“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -