روٹی ،کپڑا،مکان ،مفت تعلیم اور علاج پالیسی معاملات ہیں ،عدالت مداخلت نہیں کرسکتی ،ہائی کورٹ نے درخواست خارج کردی

روٹی ،کپڑا،مکان ،مفت تعلیم اور علاج پالیسی معاملات ہیں ،عدالت مداخلت نہیں ...
 روٹی ،کپڑا،مکان ،مفت تعلیم اور علاج پالیسی معاملات ہیں ،عدالت مداخلت نہیں کرسکتی ،ہائی کورٹ نے درخواست خارج کردی

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن نے بے روزگار افراد کو روٹی ، کپڑا ، مکان ، تعلیم اور علاج کی سہولیات کی مفت فراہمی کے لئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالتیں حکومت کے پالیسی معاملات میںمداخلت نہیں کر سکتیں۔درخواست گزار میاںحنیف طاہرنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوام کو روزگار اور دیگر سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ کبھی ڈاﺅن سائزنگ ، کبھی رائٹ سائزنگ اورکبھی گولڈن شیک ہینڈ کے نام پر لوگوں کو ملازمتو ں سے فارغ کیا گیا۔ ا ن حکومتی اقدامات سے نہ صرف بے روزگاری بلکہ لاقانونیت اور دہشت گردی میں بھی اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 38ڈی کے تحت شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا حکم دیا جائے تاہم عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ پالیسی معاملات ہیں جن میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔

مزید :

لاہور -