1998ءمیں میاں نواز شریف نے مجھے ایک انٹیلی جنس ادارے کا سربراہ بننے کی پیش کش کی تھی :صدر ممنون حسین

1998ءمیں میاں نواز شریف نے مجھے ایک انٹیلی جنس ادارے کا سربراہ بننے کی پیش کش ...
1998ءمیں میاں نواز شریف نے مجھے ایک انٹیلی جنس ادارے کا سربراہ بننے کی پیش کش کی تھی :صدر ممنون حسین

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ 1998ءمیں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے انہیں ایک انٹیلی جنس ادارے کی سربراہی قبول کرنے کی پیش کش کی تھی ،ایک دوست کے طعنہ دینے پر میٹرک کا امتحان دینے کا سوچا ،غوث علی شاہ کو میرا مسلم لیگی کارکنوں سے گھلنا ملنا پسندنہیں تھا ۔

اردو ڈائجسٹ میں شائع ہونے والے خصوصی انٹرویو میں صدر مملکت نے انکشاف کیا ہے کہ 1998ءمیں حکیم محمد سعید کی شہادت کے بعد لیاقت جتوئی کی حکومت ختم ہوگئی اور ہم بھی فارغ ہوگئے ،کچھ روز بعد میاں نواز شریف کا فون آیا اور ایک ادارے کا نام لیتے ہوئے کہا آپ اس کے سربراہ بن جائیں اور براہ راست مجھے رپورٹ کریں ،یوں ہماری اورآپ کی قربت بھی رہے گی.صدر نے بتایا کہ میں ایک دم چونکا اورکہا یہ تو انٹیلی جنس کا ادارہ ہے اور اس شعبہ میں میرا کوئی تجربہ نہیں ۔میں نے سوچنے کے لئے مہلت مانگی ،انہوں نے اسرار کیا کہ یہ بات آپ کسی کو بتائیں گے نہیں ،دو روز بعد میاں صاحب کراچی آئے اور میں نے فیصلہ سنادیا کہ میں یہ کام نہیں کروں گا ،یہ میرے مزاج کے مطابق نہیں ،اس دن میں نے دیکھا بڑے بڑے سرکاری افسر مجھے جھک جھک کر سلام کررہے ہیں ،ہم ہوائی اڈے سے باہر نکلے تو سندھ میں آئی بی کے سربراہ نزدیک آئے اور کہنے لگے "خدا حافظ باس"میں ایک دم چونکا اور اس سے پوچھا تمہیں کیسے اس بات کا علم ہوا ،اس نے کہا یہ بات سب کو معلوم ہے ۔

صدر مملکت نے اس خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ "میرے کزن ایک سکول میں پڑھتے اور شاید آٹھویں جماعت کی ٹیوشن لیتے تھے ان کا خیال تھا کہ ایک مضمون میں وہ پاس نہیں ہو سکیں گے ان کے استاد نے انہیں پاس کرادیا اس پر میرے والد صاحب کے ذہن میں یہ تاثر بیٹھ گیا کہ سکولوں کے معاملات میں بڑی خرابی ہے اس لئے انہوں نے ہمیں سکول میں داخل ہی نہیں کرایاوہ تعلیم کی اہمیت سمجھتے تھے چنانچہ نہایت اچھے اور قابل اساتذہ ہمیں پڑھانے کے لئے گھر پر مقرر کردیئے گئے "۔وہ آگے جا کر کہتے ہیں کہ "ہم آرام باغ میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے ،ہمارے ایک دوست شریف الحسن جو بعد میں یونین ٹیکساس میں وائس پریذیڈنٹ بنے ،ہمارے پڑوسی تھے ہم انہیں شفو شفو کہتے تھے ،انہیں انگریزی بولنے کا بڑا شوق تھا ایک روز اس نے انگریزی کا ایک غلط جملہ کہا تو میں نے کہا یہ جملہ غلط ہے اس نے جواب میں کہا کہ میں نے میٹرک کیا ہے اور تم گھر پر پڑھتے ہو مجھے کیا سکھا رہے ہو ؟ تب ایک دم احساس ہوا یہ تو بڑی خطرناک بات کہ رہا ہے اور ہمیں بھی میٹرک کرکے آگے پڑھنے کے بارے میں سوچنا چاہیے یہ1958ءکا واقعہ ہے "۔انہوں نے بتایا کہ میں ہر الیکشن میں مسلم لیگی راہنماءعبدالخالق اللہ والا کا چیف آرگنائزر رہا انہوں نے کہہ سن کر مجھے کراچی مسلم لیگ کا جوائنٹ سیکرٹری بنا دیا جبکہ زین نورانی صدر تھے ۔1993ءمیں صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں جب میاں نواز شریف ہٹا دیئے گئے تو میں ان کے ساتھ شامل ہوگیا ۔1999ءکے فوجی انقلاب کے بعد جب میاں صاحب جدہ چلے گئے اور جاوید ہاشمی مسلم لیگ کے قائم مقام صدر بنے ،انہوں نے مجھے سندھ مسلم لیگ کا جنرل سیکرٹری بننے کی پیش کش کی ،میں نے انکار کردیا بعد میں میاں صاحب نے مجھے کہا ممنون صاحب یہ ذمہ داری اب آپ ہی کو اٹھانا ہے ۔ایک وقت ایسا آیا کہ میں جنرل سیکرٹری کے ساتھ سندھ مسلم لیگ کا قائم مقام صدر بھی بنا دیا گیا ،کڑی آزمائش کے دور میں مسلم لیگ کو متحرک رکھا ۔میرا کارکنوں سے اتنا قریبی تعلق رہا کہ لوگ رات کے2بجے بھی مجھے فون کرتے تھے ،انہیں یہ بات بڑی اچھی لگتی تھی کہ میں خود ٹیلی فون اٹھاتا ہوں ،غوث علی شاہ کو یہ بات پسند نہیں آئی وہ لندن میں تھے ۔میاں صاحب 2005ءمیں لندن پہنچے تو وہاں ہم ایک ساتھ مل بیٹھے ،میں پاکستان سے ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنے گیا تھا ،2005ءمیںاور2006ءمیں بھی شریک ہوا ،غوث علی شاہ کہنے لگے کہ آپ قائم مقام صدر ہیں اس لئے عہدیداروں کا تقرر نہیں کرسکتے ،میں نے کہا آپ یہ نوٹیفکیشن پڑھ لی جیئے میں نے کہا کہ شاہ جی !اللہ کا واسطہ آپ سپرٹ دیکھیں ،آپ کو کیا معلوم کون کیا کررہا ہے ،آپ پہلے جیل میں تھے بعد میں یہاں آگئے ،آپ کو زمینی حقائق کا کچھ علم نہیں ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -