قدامت پسند ووٹروں میں مقبول ٹرمپ کو ہرانا ہیلری کیلئے آسان نہیں

قدامت پسند ووٹروں میں مقبول ٹرمپ کو ہرانا ہیلری کیلئے آسان نہیں

  

خصوصی تجزیہ: اظہر زمان

امریکی صدارتی انتخابات اور قبل ازیں پارٹی ٹکٹ کا حصول ایک پیچیدہ عمل ہے۔ ری پبلکن پارٹی میں اسٹیبلشمنٹ کی تمام تر ناپسندیدگی کے باوجود سیاست کے نووارد ارب پتی رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ڈونلڈ ٹرمپ کے راستے میں صدارتی ٹکٹ کے حصول میں اب کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی اور اب ہیلری کلنٹن نے بھی اپنی ڈیمو کریٹک پارٹی میں مطلوبہ مندوبین کی تعداد حاصل کرلی ہے۔ اگرچہ ٹکٹ دینے کا باقاعدہ فیصلہ جولائی میں پارٹی کنونشن میں ہوگا تاہم اب واضح ہوگیا ہے کہ صدارتی مقابلہ ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہی ہوگا۔ ٹرمپ قدامت پسند ووٹروں میں اپنی مقبولیت کے باعث بہت تیزی سے آگے بڑھتا گیا اور اپنے حریفوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ لیکن ہیلری کلنٹن کیلئے یہ مرحلہ اتنا آسان نہیں تھا۔ ایک عمر رسیدہ ’’سوشلسٹ‘‘ برنی سینڈرس نے ان کی امیدواری کی راہ میں کافی رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی جو مندوبین کے حصول کی دوڑ میں ہیلری سے زیادہ دور نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ کم آمدنی والے طبقے کیلئے جو اصلاحی معاشی پروگرام سینڈرس نے پیش کیا اسے بھی ایک حد تک پذیرائی حاصل ہوئی جس نے ہیلری کیلئے کافی خطرہ پیدا کیا۔ اس کے علاوہ ای میل کا ایشو بھی ہیلری کا پیچھا کرتا رہا۔ مسئلہ یہ تھا کہ ہیلری کلنٹن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ کے طور پر اپنی اہم حساس خط و کتابت کیلئے اپنی سرکاری ای میل کے علاوہ اپنی ذاتی ای میل استعمال کرتی رہیں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب مبصرین کا خیال تھا کہ ای میل کا ایشو ہیلری کلنٹن کو ٹکٹ سے محروم کردے گا لیکن سارا ڈیپارٹمنٹ اس کی سپورٹ پر تھا جس نے یہ موقف اختیار کیا کہ سبھی وزیر خارجہ ایسا کرتے رہے ہیں اور دوسرے ایسا کرنے سے محکمے کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

ہیلری کلنٹن کو جولائی میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے قومی کنونشن میں ٹکٹ ملنے کے باقاعدہ اعلان کے بعد امریکہ کی پہلی خاتون صدارتی امیدوار ہونے کا اعزاز حاصل ہو جائے گا۔ ہیلری کی خوبیوں خامیوں سے قطع نظر خواتین کا ووٹ بھی مل رہا ہے۔ تمام سروے بتاتے ہیں کہ ہیلری کے حامیوں میں خواتین کی اکثریت ہے۔ پارٹی ٹکٹ کے حصول کیلئے کم از کم 2383 مندوبین کی حمایت ضروری ہے۔ تمام ریاستوں میں الگ الگ ہونے والے پرائمری انتخابات میں مختلف امیدواروں کے حامی مندوبین کا چناؤ ہوتا ہے جو بالآخر قومی کنونشن میں رسمی طور پر اکثریتی امیدوار کو پارٹی ٹکٹ جاری کردیتے ہیں۔ اس عمل میں ایک پیچیدگی یہ ہے کہ ریگولر مندوب اسی امیدوار کو کنونشن میں ووٹ دینے کے پابند ہیں جس کیلئے پارٹی کارکنوں نے انہیں منتخب کیا تھا۔ اس کے علاوہ ہر ریاست سے ’’سپر ڈیلی گیٹ‘‘ بھی منتخب ہوتے ہیں جن کی ڈیمو کریٹک پارٹی میں کل تعداد 720 کے قریب ہے۔ یہ بنیادی طور پر پارٹی انتظامیہ کے نمائندے ہوتے ہیں جن پر کوئی پابندی نہیں ہوتی جو جس کو چاہے ووٹ دیں۔ ان کے ذریعے انتظامیہ انتخابی فیصلے پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ہیلری کلنٹن کو ریگولر ڈیلی گیٹ کی مطلوبہ تعداد پوری طرح حاصل نہیں ہوئی تھی تاہم سپر ڈیلی گیٹ کی اچھی خاصی تعداد نے ہیلری کلنٹن کو ووٹ دینے کا وعدہ کیا ہے جن کو شامل کرکے ہیلری کو مطلوبہ مندوبین حاصل ہوگئے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جب تک قومی کنونشن میں ٹکٹ کا باقاعدہ اعلان نہ ہو جائے یہ معاملہ حتمی طور پر طے نہیں ہوتا۔

یہ فرض کرکے کہ اب مقابلہ ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہوگا یہ اہم سوال باقی ہے کہ نومبر کے پہلے ہفتے میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں کس کی جیت ہوگی، انتخابی پنڈت تو ہیلری کلنٹن کی فتح کی نوید سناتے ہیں لیکن اس میں ان کی Wishful thinking بھی شامل ہوسکتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ عام امریکیوں کے ایک بڑے طبقے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا ایک سبب وہ نعرہ ہے جو اس نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بلند کیا ہے۔ ایک اچھا خاصا طبقہ یہ سمجھتا ہے ایسے تارکین وطن عام شہریوں کے حقوق سلب کرنے کا باعث بنتے ہیں اور ان کے ملازمتوں کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے امریکہ داخلے پر پابندی کے حوالے سے ٹرمپ نے جو موقف اختیار کیا تھا اس میں اس نے مخالف ردعمل دیکھ کر کچھ تبدیلی پیداکی اور واضح کہا کہ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ چونکہ دہشت گرد مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے ہیں اس لیے ان کی آمد کی مناسب سکیورٹی کی جائے۔ ری پبلکن اور ڈیمو کریٹک پارٹی دونوں کی اسٹیبلشمنٹ اور اوبامہ انتظامیہ کے علاوہ مبصرین کی خاصی تعداد چاہتی ہے کہ ٹرمپ کامیاب نہ ہو۔ کہا جاسکتا ہے کہ اہم مقتدر قوتیں ہیلری کلنٹن کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال رہی ہیں لیکن عوام بھی ایسا کریں گے یا نہیں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ آئندہ چار ماہ میں کیا ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اس وقت ٹرمپ کے مقابلے میں ہیلری بہتر پوزیشن میں ہے۔

مزید :

تجزیہ -