عرب ملک میں پاکستانی شہری نے برقعہ اُوڑھ کر رمضان کے مبارک مہینے میں ایسا شرمناک ترین کام کرڈالا کہ جان کر ہر پاکستانی کی آنکھوں میں آنسو آجائیں، کوئی مسلمان کبھی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ۔۔۔

عرب ملک میں پاکستانی شہری نے برقعہ اُوڑھ کر رمضان کے مبارک مہینے میں ایسا ...
عرب ملک میں پاکستانی شہری نے برقعہ اُوڑھ کر رمضان کے مبارک مہینے میں ایسا شرمناک ترین کام کرڈالا کہ جان کر ہر پاکستانی کی آنکھوں میں آنسو آجائیں، کوئی مسلمان کبھی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ۔۔۔

  


ابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں ایک درندہ صفت پاکستانی شہری نے اپنے ہی ہم وطن کے کمسن بیٹے کو زیادتی کے بعد اس قدر سفاکیت سے مارڈالا کہ ہر کوئی اس واقعے کے بارے میں جان کر لرز اٹھا ہے۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرماجد جنجوعہ نامی پاکستانی شہری کا 11 سالہ بیٹا اذان ماجد جنجوعہ روزے کی حالت میں عبادت و تلاوت قرآن کے لئے مسجد گیا تھا لیکن واپس گھر نہیں پہنچا۔ بچے کی بہت تلاش کی گئی لیکن اس کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔ اگلی صبح رہائشی عمارت کی چھت پر ACکی مرمت کیلئے جانے والے ملازمین نے بچے کی لاش وہاں پڑی دیکھی۔ جب اس معاملے کی تفتیش کی گئی تو ایسے بھیانک انکشافات سامنے آئے کہ ہر کوئی کانپ کر رہ گیا ہے۔

”گھریلو ملازماﺅں کو چھٹیاں دیں تو وہ حاملہ ہو جائیں گی کیونکہ۔۔۔“ بڑے عرب ملک کے پارلیمنٹرین نے نئی قانون سازی روکنے کیلئے انتہائی عجیب و غریب اور شرمناک بات کہہ دی، پورے ملک میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا

پولیس کے مطابق بچے کو ایک پاکستانی شخص اپنے ساتھ رہائشی عمارت کی چھت پر لے کر گیا تھا۔ ملزم نے دھوکہ دینے کیلئے برقعہ پہن رکھا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ بچہ کسی مرد کے ساتھ والدین کی اجازت کے بغیر چھت پر جانے کیلئے تیار نہ ہوگا۔ ملزم نے بچے کو چھت پر لیجاکر زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر ایک رسی کے ساتھ پھندا لگا کر اسے قتل کردیا۔

ابوظہبی کی فورینزک لیبارٹری نے سائنسی شواہد کی بنا پر تصدیق کردی ہے کہ گرفتار ہونے والے ملزم نے ہی بچے کے ساتھ زیادتی کے بعد اسے قتل کیا ہے۔ ابوظہبی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل مکتوم الشریفی کا کہنا تھا کہ مزید قانونی کاروائی کے لئے ملزم کا کیس پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا کہ ایسا بھیانک جرم ابوظہبی شہر میں ہوا۔ ملزم کے خلاف مزید معلومات ظاہر نہیں کی گئی ہیں تاہم اس کے خلاف قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔

مزید : عرب دنیا