’’ ماہ صیام اور اس کے تقاضے ‘‘

’’ ماہ صیام اور اس کے تقاضے ‘‘
 ’’ ماہ صیام اور اس کے تقاضے ‘‘

  


اللہ ربُّ العزت کاارشاد ہے کہ’’روزہ میرے لئے ہے اورمیں ہی اس کی جزا ہوں‘‘۔۔۔رحمتوں، برکتوں اور بخششوں کا یہ مہینہ دراصل مسلمانوں کے لئے اللہ رب العزت کاانعام ہے۔اِس مقدس ماہ میں عبادات اور اطاعت میں غیر معمولی اضافہ کردیاجاتا ہے اورمومنوں کے رزق میں کشادگی اور فراوانی کردی جاتی ہے۔ اِس بابرکت مہینے میں ہر طرف خدائے بزرگ و برتر کی بندگی کاایک روح پرور ماحول، دل و دماغ کو پاکیزگی مہیاکرتا ہے۔ ہمدردی اورغم خواری سے شناسائی عطاکرتا ہے اورنفس کی سرکشیوں کولگام فراہم کرتاہے۔ِ رمضان المبارک مسلمان کی رُوحانی صفائی اور ترقی کا مہینہ ہے۔ماہ صیام میں کدورتیں دُھلتی ہیں، رحمتیں اوربخششیں بٹتی ہیں اور عذابوں اور آفتوں سے خلاصی کے فیصلے ہوتے ہیں۔ اس کا پہلا عشرہ رحمتوں ،دوسرا عشرہ مغفرت اورتیسرا عشرہ نارِ جہنم سے نجات کاضامن ہے۔خوش نصیب ہیں وہ لو گ جواس مبارک مہینے کو پاتیہیں تاکہ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی تلافی کرسکیں اوربدنصیب ہیں وہ لوگ جواس مبارک مہینے کی آڑمیں روزہ داروں کو لوٹنے کے منصوبے بنارہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس مقدس مہینے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے، کیونکہ نزول قرآن بھی اسی ماہ میں ہوا۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر آتی ہے اور اس ایک رات کی عبادت کو 1000مہینے کی عبادت سے افضل قراردیا گیا ہے۔ لیلۃ القدر ہی وہ رات ہے جس میں آسمان خداوندی سے فرشتے اور روح الامین حضرت جبرائیل علیہ السلام سلامتی لے کر فرشِ زمین پر نازل ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ فجر تک جاری رہتا ہے۔حضور نبی کریم ﷺ نے کبھی بھی بد دُعا نہیں فرمائی، مگر آپ ؐ کا فرمان ہے کہ ’’ ہلاک ہوجائے وہ شخص جس نے رمضان المبارک کو پایا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی تلافی نہ کر سکا‘‘۔ روزہ ایک نعمتِ الٰہی ہے جس کا اجر قیامت والے دن اللہ تعالیٰ خود دیں گے۔ اس بناء پر اس ماہ کا تقدس اسی میں ہے کہ ہم اس مبارک ماہ کااحترام کرتے ہو ئے مال و زر کی لالچ کو نہ دیکھیں، بلکہ روزہ داروں کو زیادہ سے زیادہ سستی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ جس طرح ہر چیز کاایک موسم ہوتا ہے، اسی طرح ہمارے قراء حضرات کا بھی یہ خصوصی موسم ہے اور ساری رات مساجد میں قرآن پاک کی آوازیں اور گونج ہر مسلمان کے دل کو سکون و راحت میسر کر رہی ہوتی ہیں۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے قرآ ن پاک کو اپنے دلوں میں سمو لیا اور آگے اس کو پھیلایا۔

روزہ صرف بھوکاپیاسا رہنے کانام نہیں، بلکہ جسم کے ہر اعضاء کااحترام بھی اس میں شمار ہوتا ہے۔ آنکھ پر بری چیز دیکھنے سے پاک رہے،کانوں میں کس کا گلہ غیبت نہ سنی جائے۔زبان سے کسی کا گلہ نہ کیاجائے، ہاتھوں سے کوئی غلط کام نہ کیا جائے،غلط قدم نہ اُٹھیں اورکسی کی دل آزاری نہ کی جائے۔ اِس مقدس مہینے کا تقاضا تو یہ ہے کہ مسلمان تاجر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں دوسرے مہینوں کے مقابلے میں کمی کریں۔ مارکیٹوں کے ریٹ کم ہوں اور مہنگائی کی بجائے ارزانی اورکم قیمت پر ضرورت کی اشیاء کی فراوانی عام ہو۔ مگربدقسمتی سے رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی مہنگائی کا جن بوتل سے نکل آتا ہے اور یوں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں اور عام آدمی کے لئے اپنی محدود آمدنی میں ضروریات زندگی کو پورا کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ رمضان المبارک کی آڑ میں دکاندار ذخیرہ اندوزی کو اپنا وطیرہ بنا لیتے ہیں، تاکہ مصنوعی قلت پیدا کرلے روزہ داروں کو لوٹا جائے۔حکومت کی طرف سے بھی روزہ داروں کی سہولت کے لئے رمضان بازاروں کاانعقاد کیاجاتا ہے، تاہم ان بازاروں میں معیاری اشیاء کی سستے داموں فروخت کو یقینی بنانا ہوگا۔

مزید : کالم