آہ پیپلز پارٹی ، بلاول بھٹو کہاں ہیں؟

آہ پیپلز پارٹی ، بلاول بھٹو کہاں ہیں؟
 آہ پیپلز پارٹی ، بلاول بھٹو کہاں ہیں؟

  


زندگی میں بعض مرتبہ برجستگی سے کہا گیا کوئی فقرہ ضرب المثل کی حیثیت بھی اختیار کرجاتا ہے، یہ گئے دور کی بات ہے، ہمارے دوست پرویز چشتی (مرحوم+جمیل چشتی کے والد) ندائے ملت، نوائے وقت میں شامل نہیں تھا اور الگ طور پر شائع ہوتا تھا، دفتر پرانی انار کلی میں رانا نذرالرحمن کے پلازہ کے بالمقابل تھا، انہی دنوں مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی وفات ہوگئی، لاہور کے اخبارات نے لیڈ اور سپر لیڈ بنائی، تاہم ندائے ملت نے اس خبر کو سنگل کالم چھاپنا بہتر جانا، دن کے وقت ہر اخبار میں معمول کی رپورٹرز میٹنگ ہوتی ہے، اس روز پرویز چشتی اپنے اخبار میں آئے، تو انہوں نے اس وقت کے شفٹ انچارج سے بڑی معصومیت سے پوچھا ’’سنا ہے ، جمال عبدالناصر مرگئے ہیں‘‘ جواب ملا’’جی !ہاں، وہ فوت ہوگئے ہیں، جواب میں پرویز چشتی بولے! ہمارے اخبار میں تو ابھی بے ہوش ہی ہوئے ہیں‘‘ یہ طنز تھا سنگل کالم خبر لگانے پر، تاہم یہ بات ضرب المثل یوں بن جاتی ہے کہ کئی امور پر اس کا اطلاق ہوسکتا ہے جو ایسے ہی کسی غیر معمولی واقع سے تعلق رکھتے ہیں۔

معذرت کے ساتھ عرض کریں تو یہ واقعہ ہمیں اپنے شہر میں ایک سیاسی جماعت کے حالات کی وجہ سے یاد آیا، معافی چاہتے ہیں کہ غلط مطلب نہ لیا جائے اور جیالے اسے برائی نہ جانیں کیونکہ ان کے چیئرمین نوجوان پرجوش بلاول بھٹو زرداری لاہور میں ہیں اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف بھی ہیں روزانہ اجلاس بھی کررہے ہیں ، مشاورت بھی ہو رہی ہے لیکن میڈیا میں سنگل کالم والی کیفیت ہے کہ کہیں خبر ہوتی اور کہیں نہیں ہوتی ہے، معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ پیپلز پارٹی کے میڈیا والے مدارالمہام نے خود ان کو میڈیا سے دور رکھا ہوا ہے، بیٹ رپورٹر، الیکٹرانک میڈیا والے اور فوٹو گرافر جاتے ہیں تو ان کو کوریج نہیں کرنے دی جاتی اور مرضی کی شاٹ اور پھر خبر پریس ریلیز کے ذریعے مہیا کی جاتی ہے، بلاول بہر حال دور دور ہیں کہ اس مرتبہ نہ تو میڈیا مالکان اور نہ ہی سینئر صحافیوں سے ملاقات کی کوئی اطلاع یا خبر ملی ہے، ایسی خبریں بھی گردش کرتی ہیں کہ بلاول حال ہی میں اپنی جماعت کی وکٹیں گرنے سے پریشان ہیں اور اس اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا ہیں کہ مزید وکٹوں کو بچایا جاسکے۔

اس سلسلے میں بھی ایک تازہ ترین گفتگو جو ہمیں براہ راست (گھوڑے کے منہ سے) مل گئی وہ بھی لطیفہ ہی ہے، پارٹی کے ایک سینئر راہنما نے دوسرے اہم راہنما کو فون کرکے پوچھا ’’سنا ہے، قمر زمان کائرہ بھی چلے گئے ہیں‘‘ جواب میں بتایا گیا ’’جی نہیں! ابھی تو نہیں گئے‘‘ پوچھنے والے نے زور دار قہقہہ لگایا اور کہا ’’ آپ نے تو خبردے دی‘‘ تو قارئین اس وقت پیپلز پارٹی میں یہی کیفیت ہے، خبر شائع ہوتی ہے اور قمر زمان کائرہ اپنی طرف سے اور ندیم افضل کی طرف سے مشترکہ تردید کردیتے ہیں، کیونکہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور نواز گوندل کے پاکستان تحریک انصاف میں چلے جانے سے یہ بات زور سے کہی جاتی ہے کہ قمر زمان کائرہ بھی چلے جائیں گے کہ ان کے گروپ سے متعلق حضرات تو جاہی چکے ہیں وہ یہاں کیا کریں گے ، ہمیں بہر حال قمر زمان کائرہ کے بارے میں حسن ظن ہے کہ وہ شاید نہ جائیں ، جہاں تک ندیم افضل چن کا معاملہ ہے تو وہ اس دور میں پارٹی چھوڑ کر نہیں گئے جب ان کے پاس شکایات کا انبار تھا اور اب تو ماشاء اللہ صوبائی جنرل سیکرٹری اور معتبر راہنما ہیں، ان کی موجودگی یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ وہ اپنے والد محترم افضل چن کا بہت احترام کرتے ہیں اور وہ (افضل چن) پارٹی سے جڑے رہنا ہی ٹھیک جانتے اور مخلص ہیں، البتہ قمر زمان کائرہ کے حوالے سے تردید کے باوجود خبر نہیں رک پارہی۔

بعض حضرات تو ان کی ٹی، وی ٹاک سے بھی ایسے نتائج اخذ کرلیتے ہیں کہ بدھ کی رات ایک پروگرام میں انہوں نے زیادہ ترجے، آئی، ٹی پر بات کی اور ان کے دلائل وہی تھے جو تحریک انصاف کے ہیں، یوں بھی سنٹرل پنجاب میں تنظیمی حالات اب تک نہیں سنبھلے اور بلاول بھٹو کے سامنے شکایات بھی ہیں کہ قمر زمان کائرہ ٹی ، وی پروگراموں اور ٹاک شوز پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ ہمیں تو بہر حال یہ تعجب ہے کہ بلاول بھٹو لاہور میں ہیں اور میڈیا میں زیادہ تجسس اور دلچسپی نہیں، پیپلز پارٹی کے میڈیا مینجر یہ تاثر دور نہیں کر پارہے کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی زیرو کی طرف جارہی ہے، پیپلز پارٹی کے ایک راہنما نے ایک طویل مضمون میں جنرل ضیاء الحق سے جنرل(ر) پرویز مشرف کے ادوار کی مثالیں دہرا کر کہا ہے کہ سب نے کوشش کی اور ہر دور میں یہ کہا گیا کہ پیپلز پارٹی ختم ہوگئی لیکن پارٹی آج بھی زندہ ہے اور عوام میں مقبول ہے کہ جب جنرل ضیاء الحق اسے ختم کر چکے تھے تو ان کی وفات کے بعد 1988ء کے انتخابات میں محترمہ برسر اقتدار آئیں اور پھر 2002ء میں پیٹیریاٹ بنائی گئی، اس سے بھی پارٹی تو نہ ختم ہوئی، آج ان حضرات کا نام و نشان نہیں جنہوں نے تب دھوکا دیا تھا، یہ محترم اس بات کو بھول گئے مخدوم فیصل صالح حیات( اللہ ان کو صحت کامل دے) چوم کر واپس قبول کئے گئے ہیں۔

یہاں ایک بات یہ بھی عرض کردیں کہ محترم نواز گوندل نے تحریک انصاف میں شمولیت کے وقت یہ کہا ’’ہمارے خاندان کے کسی فرد کے خلاف کرپشن کا کوئی کیس (الزام) نہیں ہے‘‘ اب ہم یہ تو نہیں کہتے کہ یہ درست نہیں البتہ ملک کے پانچ لاکھ معمر (سینئر شہری) پنشن ہولڈر کا ذکر ضرور کریں گے کہ جو بے چارے اس چیئرمین بورڈ کو ’’دعا‘‘ دیتے ہیں جس نے کم قیمت والی زمینیں ای، او،بی، آئی کے فنڈز سے بہت زیادہ قیمت میں خریدیں، ان کو جیل میں رہنا پڑا اور وہ اب ضمانت پر ہیں(یہ صاحب کون ہیں، شاید نذر گوندل صاحب کو علم نہ ہو) یوں بھی یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ادھر موجودہ حکومت کا یہ ’’فرض‘‘ بن گیا کہ تمام سرکاری اور نیم سرکاری محکموں کے ملازمین کو ہر سال اضافہ ملے چاہے وہ دس فی صد ہی ہو لیکن اگر کچھ نہیں بڑھانا تو وہ ان بوڑھے حضرات کی پنشن ہے جو خود ان کے مالکان (فیکٹری والوں) کی رقوم ہیں اور ای،او، بی، آئی کے پاس یہ امانت ہوتی ہیں، اسی لئے تو ایک فیس بک پوسٹ پسند آئی ہے ،جو یوں ہے۔’’ اب PPP-PTIہے‘‘ خوبصورت بات کہ بہت لوگ جمع ہوگئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر معذرت کہ یہ سب کہنا پڑا کہ حالات ایسے ہی ہیں، یقیناً جیالے اور پارٹی راہنما غور فرمائیں گے۔ِ

مزید : کالم