محکمہ زراعت نے کپاس کی بہتر نگہداشت کیلئے حکمت عملی جاری کردی

محکمہ زراعت نے کپاس کی بہتر نگہداشت کیلئے حکمت عملی جاری کردی

لاہور(اے پی پی )ترجمان محکمہ زراعت نے کہا ہے کہ کپاس کی بوائی تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ بوائی کے بعد اگاؤ کا عمل چار سے پانچ دن میں مکمل ہو جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ جہاں ناغے ہوں خشک مٹی ہٹا کر زمین کو نرم کرکے ناغوں کو پُر کریں۔ جو کسان حضرات کپاس کی چھدرائی کا عمل کر رہے ہیں وہ پودے سے پودے کا فاصلہ 6سے 9انچ رکھیں۔ کوشش کریں کہ کمزور اور وائرس سے متاثرہ پودے نکال دیں۔ کھادوں کا متوازن اور مناسب استعمال زمین کی زرخیزی اور فصل کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی زمین کی زرخیزی ، طریقہ کاشت، قسم، موسمی حالات اور فصل کی حالت کو مدنظر رکھ کر کریں۔ ہموار زمین پر ڈرل کاشت کی صورت میں پہلی آبپاشی کے بعد پودوں کی ایک لائن چھوڑ کر دوسری لائن میں مٹی چڑھا کر پٹڑیاں بنا دیں جس سے 30سے 40فیصد تک پانی کی بچت کے ساتھ ساتھ فصل کا قد مناسب رہتا ہے۔ کھاد کی افادیت بڑھ جاتی ہے اور بارش کی صورت میں نکاسی آسان ہوتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ کھیتوں میں اور اردگرد پائی جانے والی جڑی بوٹیوں کو بروقت تلف کریں۔سفید مکھی، ملی بگ، لشکری سنڈی اور لیف کرل وائرس کے میزبان پودوں کو تلف کریں کیونکہ یہ کیڑوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہوتی ہیں۔لشکری سنڈی کا حملہ اگر کسی پودے پر دیکھیں تو فوراً متاثرہ پتوں کو توڑ کر زمین میں دبا دیں۔ اگر حملہ ٹکڑیوں میں سارے کھیت میں ہو تو اس کے خلاف مناسب زہرپاشی کریں۔

lh/hma/rmq 1339

مزید : کامرس