شامی حکومت عراق کے نقشِ قدم پر ، الحشد الشعبی فورسز کی تشکیل

شامی حکومت عراق کے نقشِ قدم پر ، الحشد الشعبی فورسز کی تشکیل

دمشق(این این آئی)شامی نظام (رجیم) نے عراق کی تقلید کرتے ہوئے الحشد الشعبی کے نام سے نئی ملیشیا کی تشکیل شروع کردی ہے۔عراق میں الحشد الشعبی فورسز میں ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیائیں شامل ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق شامی الحشد الشعبی میں ابتدائی طور پر الحسکہ سے تعلق رکھنے والے قبائل کے نوجوان شامل کیے گئے ہیں اور اس کی بھی عراق کی الحشد الشعبی فورسز کے نمونے پر تشکیل کی جارہی ہے۔شامی حکومت سے وابستہ خبررساں ایجنسیوں اور ویب گاہوں نے اس ملیشیا کے نام کی اطلاع دی ہے اور بتایا کہ اس میں ’’قبائل کے بیٹے‘‘ شامل ہیں اور وہ اسدی فورسز کے ساتھ مل کر (باغیوں کے خلاف ) کارروائیوں میں حصہ لیں گے۔قبائلی نوجوانوں کے علاوہ شامی الحشد الشعبی میں رضاکار اور قبائل سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ افراد اور نیم فوجی دستوں کے اہلکار بھی شامل ہیں ۔اس فورس کے سربراہ علی حواس الخلیف ہیں ۔وہ الراشد قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور سرکار کے ملازم ہیں۔وہ اس وقت دمشق میں رہ رہے ہیں۔شامی فوج کے انٹیلی ڈویڑن کے ساتھ رابطے کے ذریعے ان جنگجوؤں اور قبائل کو ایک فورس کے طور پر مجتمع کیا جارہا ہے۔

بعض نے اس ملیشیا کا نام ’’ جزیرے کی ڈھال‘‘ اور ’’ قبائل کے بیٹے‘‘ تجویز کیا تھا۔ابتدائی طور پر الحسکہ کے نزدیک واقع دیہات دمخیہ ، صافیہ اور ابو ذویل سے تعلق رکھنے والے قریباً پانچ سو افراد نے اس میں شمولیت اختیار کی ہے۔شامی رجیم نے ایسے وقت میں اپنی حامی ایک ملیشیا قائم کرنے کی کوشش کی ہے جب کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل شامی جمہوری فورسز داعش کے مضبوط گڑھ الرقہ کی جانب پیش قدمی کررہی ہیں۔

مزید : عالمی منظر