پنجاب یونیورسٹی کے بجٹ کی منظوری کیلئے وائس چانسلر کی زیر صدارت سینڈیکیٹ کا اجلاس

پنجاب یونیورسٹی کے بجٹ کی منظوری کیلئے وائس چانسلر کی زیر صدارت سینڈیکیٹ کا ...

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پنجاب یونیورسٹی کے مالی سال2017-18 کے بجٹ کی منظوری کیلئے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین ناصر کی زیر صدارت سینڈیکیٹ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں9ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔ بجٹ میں تحقیقی سرگرمیوں میں اضافے کے لئے ریسرچ گرانٹ اور طلباء و طالبات کا مالی بوجھ کم کرنے کے لئے دی جانے والی سبسڈی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اگلے سال پنجاب یونیورسٹی کوہائیر ایجوکیشن کمیشن سے2.548 ارب روپے کی گرانٹ ملنے کی توقع ہے جو کہ کل بجٹ کا38 فیصد ہے۔ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے تحقیقی کلچر کو فروغ دینے کے لئے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ریسرچ گرانٹ 120 ملین سے بڑھا کر150 ملین روپے مقرر کی ہے ۔خصوصی طلباء و طالبات کو مفت تعلیم اور مفت رہائش جبکہ سپورٹس کی بنیاد پر داخلہ لینے والے طلباء و طالبات کو مفت تعلیم اور حافظ قرآن کی ٹیوشن فیس معاف ہو گی۔ اوورسیز سکالرشپس کے لئے 7 کروڑ روپے، قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں کے لئے7 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

طلباء و طالبات کو سہولت فراہم کرنے کے لئے پنجاب یونیورسٹی سکالرشپس، امور طلباء، کرئیر کونسلنگ اور دیگر سرگرمیوں کے لئے 11 کروڑ روپے کے فنڈز فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ9 کروڑ74لاکھ روپے کے سکالرشپس ایچ ای سی کی طرف سے اور پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی طرف سے بھی یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کو سکالرشپس دئیے جائیں گے۔ پنجاب یونیورسٹی طلباء و طالبات کو ہاسٹل کی مد میں 22 کروڑ 40لاکھ روپے کی سبسڈی، ٹرانسپورٹ کی مد میں 4.83کروڑ روپے کی سبسڈی جبکہ انٹرنیٹ کی مد میں ایک کروڑ 14لاکھ روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی۔ مذکورہ سہولیات پر گزشتہ سال21 کروڑ روپے کے مقابلے میں رواں سال27 کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی جارہی ہے جبکہ ٹیچنگ ڈیپارٹمنٹس میں بجلی کے بلوں کی مد میں دی جانے والی سبسڈی اس کے علاوہ ہے۔ پنجاب یونیورسٹی نے 41 کروڑ روپے تعمیر و ترقی کے لئے مختص کئے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4