حسن نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی ، نیلسن اور نیسکول سے متعلق دستاویزات پیش ، حسین نواز آج دوبارہ بیان ریکارڈ کرائیں گے

حسن نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی ، نیلسن اور نیسکول سے متعلق دستاویزات پیش ، ...

اسلام آباد (آن لائن) وزیر اعظم کے صاحبزادے حسن نواز کی جے آئی ٹی میں دوسری پیشی ، حسن نواز سے ساڑھے 5 گھنٹے پوچھ گچھ، نیلسن اور نیسکول سے متعلق دستاویزات پیش کر دیں، حسین نواز آج جے آئی ٹی کو بیان ریکارڈ جمع کرا ئیں گے۔تفصیلات کے مطابق پانامہ کیس پر سپریم کورٹ کی جانب سے قائم جے آئی ٹی کا اجلاس ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے واجد ضیاء کی سربراہی میں ہوا۔ وزیر اعظم نواز شریف کے چھوٹے صاحبزادے حسن نواز صبح گیارہ بجے جوڈیشل اکیڈمی میں دوسری بار جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوئے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ حسن نواز نے جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوکر نیلسن اور نیسکول آف شور کمپنیوں سے متعلق طلب کردہ دستاویزات بھی فراہم کیں جبکہ جے آئی ٹی کی جانب سے ان سے مزید سوالات پوچھے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے حسن نواز کو 10 جون اور حسین نواز کو 9 جون طلب کیا تھا جبکہ جے آئی ٹی کی کارروائی کا شیڈول حسن نواز کی درخواست پر تبدیل کیا گیا۔ حسن نواز سے تحقیقات کا دورانیہ مختصر رکھاگیا کیونکہ سپریم کورٹ کے بیشتر سوالات کا براہ راست تعلق حسین نواز سے ہے۔ جے آئی ٹی کے حسن نواز سے مزید پوچھے جانے والے سوالات کی تعداد کم ہے۔قبل ازیں جب حسن نواز جوڈیشل اکیڈمی پہنچے تو مسلم لیگ (ن)کی مقامی قیادت اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی جنھیں دیکھ کر حسن نواز اپنی گاڑی سے باہر آ ئے اور ہاتھ ہلا کر کارکنوں کا شکریہ ادا کیا۔حسن نواز کی جے آئی ٹی پیشی کے موقع پر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی سکیورٹی سخت رہی۔ وزیراعظم ہاوس کا پرسنل سکیورٹی سٹاف بھی جوڈیشل اکیڈمی کے باہر موجود تھا ،جوڈیشل اکیڈمی کے باہر خاردار تاریں اور بریکرز میں بھی اضافہ کردیا گیا جبکہ اکیڈمی کے داخلی و خارجی راستے غیر متعلقہ افراد کیلئے بند ہے جبکہ اکیڈمی میں پولیس اور رینجرز سمیت حساس اداروں کے اہلکار بھی تعینات ہیں،دریں اثناء سکیورٹی خدشات کے باعث ڈپٹی مئیر اسلام آباد ذیشان نقوی، ڈاکٹر طارق فضل چودھری اور دیگر کو جوڈیشل اکیڈمی جانے سے روک دیا گیا۔

حسن نواز/پیشی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے حدیبیہ پیپر ملز کے ریکارڈ کے بعد شریف خاندان کی چوہدری شوگر ملز کا ریکارڈ بھی حاصل کرلیا۔نجی ٹی وی ذرائع کے مطابق چوہدری شوگر ملز کا ریکارڈ ایس ای سی پی کے 2افسران عابد حسین اور ماہین نے فراہم کیا۔عابد حسین ایگزیکٹو ڈائریکٹر سپرویژن ونگ جبکہ ماہین ڈائریکٹر انفورسمنٹ ونگ ہیں۔ایس ای سی پی نے پاناما پیپرز منظرعام پر آنے کے بعد حدیبیہ پیپرملز اور چوہدری شوگر ملز کی تحقیقات کیں۔اس سلسلے میں برطانوی مالی اداروں سے خط وکتابت بھی کی حدیبیہ پیپر ملز اور چوہدری شوگرملز سے متعلق ایس ای سی پی کی تحقیقات کا تمام ریکارڈ جے آئی ٹی کے پاس موجود ہے۔واضح رہے حدیبیہ پیپرملز اور چوہدری شوگر ملز کے حوالے سے نیب نے پرویز مشرف دور میں بھی تحقیقات شروع کی تھیں تاہم سابق صدر نے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز کو تحقیقات روکنے کاحکم دیا۔جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز نے ریٹائرمنٹ کے بعد تحقیقات روک دینے کے جنرل ریٹائرڈ مشرف کے حکم سے متعلق میڈیا کوبھی آگاہ کیا۔

چودھری شوگر ملز

مزید : صفحہ اول