فخر زمان کا جیت میں اہم کردار، ۔۔۔۔اظہر ،حفیظ؟

فخر زمان کا جیت میں اہم کردار، ۔۔۔۔اظہر ،حفیظ؟
 فخر زمان کا جیت میں اہم کردار، ۔۔۔۔اظہر ،حفیظ؟

  


جنوبی افریقہ کے خلاف جیت میں سب سے اہم کردار فخر زمان کا رہا۔ ان کے تیز اور جارحانہ انداز میں بنائے گئے شاندار اکتیس(31) رنز بالاخر ڈکورتھ لوئس فارمولے کے تحت جیت کی اہم وجہ بنے۔ جنوبی افریقہ کو دوسوانیس رنز پر آؤٹ کرنے کے بعد حفیظ اور اظہر علی جیسے پرانے اور تجربہ کار بیٹسمینوں کو یقیناًعلم ہو گا کہ یہ رنز سنگلز کے ذریعے ہی بن جائیں گے۔ مگردونوں نہایت برے انداز میں چھکے لگانے کی کوشش میں باؤنڈری لائن کے اندر کیچ آؤٹ ہوئے۔ اس سے پہلے پاکستان کی طرف سے حسن علی نے نہایت شاندار باؤلنگ کی ۔حسن درجہ بدرجہ میچ کھیل کر بہتر سے بہتر ہورہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے خلاف حفیظ نے عمدہ باؤلنگ کی۔ نہ جانے دودنوں کے اندر یہ باؤلنگ کے لیے کیسے فٹ ہوگئے؟ پاکستان کی بھارت کے خلاف شکست کاعوامی غم وغصہ ٹیم مینجمنٹ اور کھلاڑیوں تک پہنچ چکا ہے اور دوسرے پول میچ میں ٹیم کا کھیل یکسر بدلا ہوا تھا۔ جس کے نتیجے میں دوسرے پول میچ میں جنوبی افریقہ خلاف قومی ٹیم کا کھیل یکسر بدلا ہوا تھا۔جنوبی افریقہ آئی سی سی کی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہے۔ مگر جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ جیت کے بعد پاکستان نے اس ٹیم کو گزشتہ پانچ میں سے چار میچوں میں شکست دی ہے۔جنوبی افریقہ اس ٹورنا منٹ میں سری لنکا کو شکت دے چکے ہیں اور گزشتہ رات بھارت اور سری لنکا کے مابین میچ کھیلا گیا اور یوں ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے کے حوالے سے سری لنکا کی قسمت کا فیصلہ ہوگیا۔چیمپئنز ٹرافی2017کے تین میچوں میں سے دومیچ مکمل طور پر بارش کی نظر ہوئے۔ جبکہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کا میچ بھی بارش زدہ تھا۔مگر فخر زمان کی تیز بیٹنگ نے پاکستان کو ڈکورتھ لوئس فارمولے کے تحت کامیابی دلوادی ۔ بھارت کا پاکستان کو بڑے اور واضح انداز میں شکست سے دوچار کرنے کے بعد اعتماد اور تکبر آسمان تک پہنچ چکا ہے۔یہ قدرتی امر ہے۔ لیکن اس وقت بڑی کرکٹ کی طاقت ہونے کے باوجود بھارت کو جان لینا چاہیے کہ اس ٹونا منٹ میں تمام ٹیموں کو درجہ بندی میں اونچا مقام حاصل ہے۔ وہ کسی بھی صورت میں یہ اپنے آپ کو قبل از وقت چیمپئنز ٹرافی2017کا واحد وارث نہ سمجھیں۔ میری اپنی نظر میں انگلینڈ فیورٹ ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارت کے خلافت شکست کے اسباب جاننے کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کردی ہے جس میں سبحان احمد، مدثر نذراور ہارون رشید شامل ہیں۔ میں حیران ہوں کہ پاکستان کے بچے بچے کو شکست کی وجوہات معلوم ہیں۔ ہر کوئی مکی آرتھر ،سرفراز ، وہاب ریاض ،حفیظ اور شعیب ملک کومودالزام ٹھہرا رہا ہے۔ لطف کی بات ہے کہ بھارت ایک بہتر ٹیم تھی اور اس نے میچ جیت لیاتاہم متذکرہ کھلاڑیوں کی بے دلی ،غیر ذمہ داری اور خراب کپتانی کی وجہ سے پاکستان کی ٹیم کی شکست کا مارجن بڑا وسیع تھا۔ اس طرح اس شکست کو ذلت آمیز کہا جائے گا۔ابھی ٹورنامنٹ جاری ہے اور اس کھیل کے غیر متوقع اور غیر یقینی نتائج کی وجہ سے پاکستان نے جنوبی افریقہ کو شکست دے دی ہے۔ اور بظاہر سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے اسے ایک میچ جیتنا ہے۔ دنیا میں کھیلوں کا کونسا ادارہ یا کرکٹ بورڈ ہے جو ٹورنا منٹ میں ایک میچ کے نتیجے کی بنیاد پر قبل از وقت انکوائری شرو ع کردیتا ہے۔ شرجیل خان کی سپارٹ فکسنگ کے حوالے سے کرکٹ بورڈ کی اجلت اور بظاہر بے بنیاد انکوائری ابھی تک کوئی نتیجہ خیز فیصلہ سامنے نہیں لاسکی۔شرجیل خان کے حوالے سے پی ایس ایل کے آغاز سے قبل ہی جناب نجم سیٹھی نے گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ میں ٹی وی پر آکر خبر دی کہ ہم نے جواریوں کورنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے۔ اب اسی کیس کے حوالے سے ہماری کرکٹ اور کرکٹ بورڈ کی جگ ہنسائی ہورہی ہے او رعام تاثر ہے کہ شرجیل کو عدم ثبوت کے باعث بری کردیا جائے گا۔ ہمسایہ کرکٹ بورڈنے کپتان مہنندرسنگھ دھونی کے خلاف میچ فکسنگ کی انکوائری شروع کی اور مثلحتاًانہیں ٹیم سے فارغ کرنے کی بجائے کپتانی سے ہٹا دیا اور معاملہ کو خوش اسلوبی سے ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔ ہم پر کرکٹ کے حوالے سے ہر قسم کی افتاد وارد ہورہی ہیں۔ کرکٹ کو بے پناہ مثائل کا سامنا ہے۔ کچھ قدرت کی طرف سے اور زیادہ اپنی طرف سے۔

انگلستان میں پاکستان کی ٹیم مینجمنٹ کو کافی ہوشیار رہنا ہوگا۔ یہاں پر سکینڈلز کی تلاش میں مقامی میڈیا رپورٹرز مارے مارے پھرتے ہیں۔ پاکستان میں میڈیا کا آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں کوریج کے حوالے سے کردار بڑا مثبت رہاہے۔ خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا میں سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز میں ماہ رمضان میں شائقین کرکٹ کو عمدہ تفریح اور معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ جس طریقے سے چیمپئنز ٹرافی آگے بڑھ رہی ہے امید ہے کہ اس کا اختتام بھی انتہائی دلچسپ ،سنسنی خیز اور شاندار ہوگا۔

اوول میں گزشتہ رات ایک بڑے مقابلے کے بعد سری لنکا نے بھارت پر ایک بڑے میچ میں بڑی کامیابی حاصل کی اور یوں بھارت اب آئی سی سی رینکنگ کی نمبر ایک ٹیم جنوبی افریقہ کی مرہون منت ہے، کیونکہ اس سے کامیابی کے بعد ہی یہ سیمی فائنل میں پہنچنے کا اہل ہوگا، اس میچ سے یہ ثابت ہوا کہ سری لنکا کی سکول کرکٹ اور اس کا نظام بھارت کی آئی پی ایل اور رانچی ٹرافی سے مضبوط ہے۔ پاکستان کی باؤلنگ بھارت اور سری لنکا کے اٹیک سے بہتر ہے، اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان سری لنکا کے خلاف بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے سیمی فائنل کے لئے کوالیفائی کرے گا۔

مزید : کالم