حکم امتناعی کے باوجود سینڈیکیٹ کا اجلاس بلانے کے خلاف شدید احتجاج

حکم امتناعی کے باوجود سینڈیکیٹ کا اجلاس بلانے کے خلاف شدید احتجاج

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور اراکین سینٹ ڈاکٹر محمد اظہر نعیم ، ڈاکٹر محمد ایوب فریدی، ڈاکٹر کامران عابد ، ڈاکٹر عبدالقیوم چوہدری،حافظ ظفر احمد، ڈاکٹر یمنہ ، ڈاکٹر شاہد جمیل ثمینی اور دیگر منتخب اراکین سینٹ نے گزشتہ روز وی سی آفس کے باہر اکھٹے ہو کر سینڈیکیٹ اجلاس کے خلاف شدید احتجاج کیا ۔مظاہرین نے کہا کہ عدالتی حکم امتناعی کے باوجود سینڈیکیٹ کا اجلاس بلانا اور کورم پورا کئے بغیر اجلاس منعقد کرنا یونیورسٹی انتظامیہ کی قانونی معاملات سے لا علمی کو ظاہر کرتا ہے ۔کورم پورا کیے بغیر ہی 9ارب 27 کروڑ روپے کا بجٹ سہ پہر تین بجے کے قریب منظور کر لیا گیا۔ مظاہرین نے کہا کہ پنجاب اسمبلی سے پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا ایکٹ پاس ہونے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سینڈیکیٹ کے کل ممبران کی تعداد 19 ہے اس نسبت سے 10 ممبران کا موجود ہونا کم سے کم شرط ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی ایما پر مختلف گیٹس پر سیکورٹی گارڈز نے میڈیا کے نمائندوں کو زبردستی روکنے کی کوشش کی ۔ مظاہرین نے کہا کہ ایک طرف رجسٹریشن اور امتحانی فیسوں میں اضافہ کر کے غریب طلبہ پر بم گرایا گیا ہے تو دوسری طرف ترقی کے منتظر ایڈمنسٹریٹو سٹاف کی سیٹوں کو ختم کر کے ان کا معاشی استحصال کیا گیا ہے ۔ آخر میں اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن اور سینٹ کے منتخب نمائندوں نے اساتذہ کے حقوق کی بھرپور جنگ لڑنے کا اعادہ کیا۔قبل ازیں یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاج کے پیش نظر اجلاس کی جگہ بھی تبدیل کر دی او ر وی سی آفس کمیٹی روم کی بجائے ایڈمن بلاک کی دوسری منزل پر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ونگ میں شفٹ کر دیا گیا۔

شدید احتجاج

مزید : صفحہ آخر