سینیٹ اجلاس، بجٹ پر بحث مکمل، ایران میں دہشتگرد حملوں کیخلاف مذمتی قرارداد کی منظوری

سینیٹ اجلاس، بجٹ پر بحث مکمل، ایران میں دہشتگرد حملوں کیخلاف مذمتی قرارداد ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)سینٹ میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث مکمل ہوگئی ، ایوان بالا نے مالیاتی بل 2017-18ء کیلئے سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے قومی اسمبلی کو بھجوا دیں جبکہ سینٹ نے ایران کی پارلیمنٹ اور امام خمینی ؒ کے مزار پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمتی قرارداد منظورکرلی گئی ۔سینٹ کی جانب سے تنخواہوں اور پنشن میں 20 فیصد اضافہ ، جی ایس ٹی 17 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد اور کسانوں کیلئے قرضے کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ کرنے کی سفارش کی گئی ہے، یہ سفارشات قائمہ کمیٹی خزانہ کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے پیش کیں،جبکہ فاٹا تک سیلز ٹیکس کا دائرہ بڑھانے سمیت قائمہ کمیٹی خزانہ کی تین سفارشات واپس لے لی گئیں۔ بحث میں حکومتی اور اپوزیشن کے 57ارکان نے حصہ لیا اور اپنی تجاویز دیں جبکہ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بحث سمیٹتے ہوئے کہاہے حکومت پر زیادہ قرضے لینے کا تاثر درست نہیں، ملک میں غربت میں کمی آرہی ہے، ٹیکس کا دائرہ بڑھانے، ٹیکس چوری روکنے اور سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کریں گے، جتنی بھی ہو سکیں سینٹ سے موصولہ سفارشات کو مالیاتی بل کا حصہ بنائیں گے،نئے این ایف سی ایوارڈ کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے، مالیاتی خسارہ کم ہوگا تو قرضوں کی حد بھی کم ہو جائے گی۔تفصیلات کے مطابق سینٹ میں بحث کا آغاز 29 مئی سے ہوا اور 11 دن بحث جاری رہی، مجموعی طور پر تقریباً 12 گھنٹے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث کی گئی، جمعرات کوبجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا 2015-16ء کے بجٹ میں سینٹ کی 40 سفارشات شامل کی گئیں،2016-17ء میں 80 سفارشات منظور کی گئیں۔ یہ درست نہیں این ایف سی ایوارڈ کے بغیر بجٹ پیش نہیں کیا جاسکتا، سولہ سال ملک میں ایک این ایف سی تھا،تیسرا ایوارڈ 13 سال تک لاگو رہا۔ این ایف سی کا 15.2 فیصد شیئر وفاق سے ہم نے صو بو ں کو منتقل کیا اس کا مقصد یہ تھا کہ کنکرنٹ لسٹ کو ہم نے ختم کرنا ہے۔ ہم نے کنکرنٹ لسٹ کو ختم کیا۔ صحت، تعلیم، صاف پانی، صفائی ستھرائی جیسے شعبے صوبوں کو منتقل کردیئے گئے۔ نائن الیون کے بعد سے ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے کسی بھی سابق حکومت کو جرات نہیں ہوئی کہ فاٹا میں آپریشن شروع کرسکے۔ موجودہ حکومت نے 14ء میں یہ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا،جس پر چار سال میں 400 ارب سے زائد خرچ کئے جا چکے ہیں۔ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ فاٹا، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کیلئے 0.3 فیصد این ایف سی کا دیا جائے۔ تما م وزراء اعلیٰ کو بلا کر اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ صوبوں کوتعاون کرنا چاہیے۔ اگلے سال کیلئے شرح نمو کا ہدف چھ فیصد مقرر کیا ہے، امید ہے حاصل کرلیں گے۔ حکومت پر قرضے زیادہ لینے کا تاثر درست نہیں۔ ماضی میں حکومتی انتظام چلانے اور کسی حد تک ترقی کیلئے قرضے لئے جاتے رہے ہیں لیکن ہم ترقیاتی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بجلی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ توانائی کا مسئلہ اب حل ہونیوالا ہے۔ 2017ء میں ٹیکس دہندگان کی تعداد 7 لاکھ 50 ہزار تھی جو اب 12 لاکھ سے زائد ہے۔ بجٹ میں غریب طبقے پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ میثاق معیشت وقت کی ضرورت ہے، اس پر ہمیں مل بیٹھنا چاہیے۔ وعدہ کیا تھا پہلے تین سال میں معاشی استحکام لائیں گے اور اگلے دو سال میں شرح نمو پر توجہ دیں گے اور یہ کام کیا جارہا ہے۔چھو ٹے موٹے اختلافات بھلا دینے چاہئیں، دنیا کو یہ ہضم نہیں ہو رہا کہ ایک ایٹمی پاکستان کس طرح ترقی کر رہا ہے۔ اب کہا جارہا ہے 2030ء میں پاکستان جی 20 ممالک میں شامل ہو جائیگا۔

مزید : صفحہ آخر