سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے خلاف میئر کراچی کی درخواست کی سماعت

سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے خلاف میئر کراچی کی درخواست کی سماعت

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے خلاف میئر کراچی کی درخواست پر حکومت سندھ کو جواب داخل کرانے کے لیے 18جون تک کی مہلت دے دی ہے ۔جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ میں میئر کراچی وسیم اختر کی جانب سے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی ۔میئر کراچی کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے موقف اختیار کیا کہ کراچی کے شہری چکن گونیا اور دیگر بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں ۔سپریم کورٹ نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے حوالے سے احکامات جاری کیے ہوئے ہیں ۔آرٹیکل 187(2) یہ درخواست سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے ہے ۔سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سالڈ ویسٹ میجمنٹ بورڈ نان فنگشنل ہے اسے لوکل گورنمنٹ کے ماتحت ہونے چاہیں۔دو تین تاریخوں سے حکومت سندھ تاخیری حربے استعمال کررہی ہے۔پورا کراچی پورا سندھ مسائل کا شکار ہے۔سپریم کورٹ بھی اس حوالے سے واضح احکامات دے چکی ہے۔پورے سندھ میں بیماریاں پھیل رہی ہیں کل جو بجٹ آیا ہے وہ بھی اسی طرح کا تھا۔میئر کراچی نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ شہر میں روزانہ بارہ ٹن کچرا پیدا ہورہا ہے ۔کچرا اٹھانے کا حکم چائینز کمپنی کو دیا ہے وہ بھی کہیں نظر نہیں آرہے ہیں ۔دورا ن سماعت ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سپریم کورٹ اس حوالے سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تھا جو تمام معاملات دیکھ رہا ہے ۔سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات نہیں ہیں صرف آبزرویشن ہے۔اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پورے صوبے کو کچرے کا ڈھیر بنادیا گیا ہے ۔عدالت نے ایڈکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ کیا حکومت سندھ کی جانب سے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں اپیل فائل کی گئی ہے۔عدالت عالیہ نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو سپریم کورٹ کے آرڈر کے حوالے سے تحریری جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 18جون تک ملتوی کردی ہے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول