کینیڈا میں توپرائس کنٹرول سسٹم موجودہی نہیں

کینیڈا میں توپرائس کنٹرول سسٹم موجودہی نہیں
کینیڈا میں توپرائس کنٹرول سسٹم موجودہی نہیں

  



اس رمضان میں کینیڈا میں تمام بڑے سٹورز نے کھجوروں، مشروبات، مصالحہ جات اور گوشت پر ’’سیل‘‘ لگائی ہے جس سے تمام مسلمان بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں۔ اللہ کرے پاکستان میں بھی اچھی ’’سیل‘‘ دیکھنے کو ملے۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنا ضروری ہے۔یہاں بھی مہنگائی اور دوکاندار اپنی مرضی کی قیمتیں مقرر کرتے ہیں۔اس پر کوئی بحث اور لڑائی نہیں ہوتی۔یہ من بھایا سودا ہے ،دل کرے تو خرید لیا ،ورنہ اگلے سٹور پر تشریف لے جائیں۔

کینیڈا میں پاکستانیوں نے گزشتہ دنوں فیس بک پر پھلوں کی قیمتوں، جو کہ ماہ رمضان میں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، کے خلاف مہم میں خاصی دلچسپی لی اور اپنے اکاؤنٹس پر اس کی حمایت بھی کرتے رہے۔ نتیجہ کچھ بھی ہومگر فیس بک کے دانشوروں نے اپنے اتحاد اور یکجہتی کا اچھا خاصا ثبوت دیاہے۔

اب ذراسن لیں کہ کینیڈا میں قیمتوں کے حوالے سے صورتحال یکسر مختلف ہے۔ حکومت کا اداروں کا پھلوں، سبزیوں یا دیگر اشیاء خوردونوش کی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر و رسوخ یا مداخلت کا نظام نہیں ہے۔ کوالٹی کنٹرول کی چیکنگ متعلقہ اداروں کا کام ہے اور اس ضمن میں سٹورز چیک کرتے ہیں۔ سوڈا کی بوتل چاہے کسی برانڈ کی بھی ہو، کینیڈا کے طول و عرض میں ایک ڈالر سے لے کر دو اڑھائی ڈالرز تک بک رہی ہے۔ بڑے چین سٹور پر قیمت کم ہے اور چھوٹے کارنر یا سٹور پر اپنی مرضی کا ریٹ لگایا جاتا ہے۔ قیمت پر کوئی بحث نہیں ، دل مانتا ہے خریدلیں یا پھر کہیں اور چلے جائیں۔ پھل زیادہ تر امریکہ سے آتے ہیں اور کرایہ وغیرہ ڈال کر قیمت مقرر کی جاتی ہے اور بالکل یہاں کے بڑے سٹورز میٹرو، ہائپر وغیرہ کی طرز پر اپنی مرضی کا پھل لیں اور قیمت سٹور کی مرضی سے ادا کریں۔

ہمارے پاکستان میں ذرائع ابلاغ بڑی مثالیں دیتے ہیں کہ رمضان میں کینیڈا کے علاوہ امریکہ و یورپ میں تمام بڑے سٹورز مختلف اشیاء کی قیمت کم کردیتے ہیں جبکہ پاکستان میں یکدم بڑھادی جاتی ہیں ۔یہی صورتحال کرسمس کے دنوں میں ہوتی ہے۔ بظاہر تو ایسا ہی ہے مگر یہ بڑے سٹورز کا کاوبار کا ’’سٹائل‘‘ ہے۔ وہ ان دنوں میں یا تہوار پر اپنا منافع اس لئے کم کردیتے ہیں کہ فروخت زیادہ ہو۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کینیڈا میں سٹور پر جو بھی چیز فروخت ہوتی ہے اس میں کم وبیش منافع کی شرح 100 فیصد ہوتی ہے۔ یعنی 10 ڈالر لاگت کی چیز 20 ڈالرز میں فروخت کیلئے رکھی جاتی ہے۔ ہر سٹور کی اپنی قیمت ہے ۔جہاں سے آپ کو کم قیمت میں ملے آپ خرید سکتے ہیں۔

وال مارٹ نارتھ امریکہ میں سب سے بڑا سٹورہے۔ قیمتوں کے حوالے سے اس سٹور نے دیگر سٹورز کو مسائل سے دوچار کررکھا ہے۔ اس سٹور پر زیادہ تر ’’چائنہ میڈ‘‘ مال فروخت ہوتا ہے اور دیگر سٹور کم ہی قیمت میں اس کا مقابلہ کرپاتے ہیں ۔ اس پرائس وار کے نتیجہ میں کئی بڑے سٹورز بند ہوچکے ہیں۔ وال مارٹ پر کام کرنے والے ملازمین کی تعداد صرف امریکہ میں 13 لاکھ سے زائد ہے اور کینیڈا میں واقع سٹور ملازمین کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔ یہ جائنٹ سٹور اب پھل، سبزیاں اور گوشت بھی فروخت کررہا ہے اور یہاں حلال چکن کی قیمت کسی بھی دیگر سٹور کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ