فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 115

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 115
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 115

  


لاہور کی ہیرا منڈی کے بارے میں ہم نے بہت سی کہانیاں سنی تھیں۔ وہاں کی رونق اور چہل پہل، تہذیبی روایات اور رنگین ماحول کے متعلق بھی جانتے تھے مگر یہ نہیں سوچا تھا کہ ہم خود بھی اس کوچہ رنگین کے سیر بینوں میں شامل ہوں گے۔

ہم نے لکھا ہے کہ ہم ’’اس بازار‘‘ میں زندگی میں پہلی بار آغا شورش کے ساتھ گئے تھے لیکن سچ پوچھئے تو یہ بیان سو فیصد درست نہیں ہے ایک بار ہم پہلے بھی اس کوچے میں جاچکے تھے لیکن کب اور کس طرح؟ یہ بھی سنئے۔

ہم میرٹھ میں غالباً میٹرک کے طالب علم تھے اور شہر سے دور چھاؤنی کے علاقے میں رہتے تھے۔ ہر روز اسکول آنے جانے کے سوا کہیں اور جانے کی ہمیں اجازت نہیں تھی، نہ حاجت۔ ہم جس کوٹھی میں رہتے تھے وہ ستر اسی کنال میں پھیلی ہوئی تھی۔ دو اطراف میں لان اورعقب میں باغ تھے، عقب میں کھیت، جن میں سبزیوں اور کبھی کبھی اجناس کی بھی کاشت ہو جاتی تھی۔ ایک جانب شاگرد پیشہ اور گھوڑوں کے اصطبل تھے۔ شاگرد پیشہ ایک درجن سے زائد کوارٹروں پر مشتمل تھا جس میں ملازم اور ان کے خاندان رہائش پذیر تھے۔ اس زمانے میں ملازم خاندانی اور دیرینہ ہوا کرتے تھے۔ اولاد در اولاد ایک ہی گھر میں کام کرتے رہتے تھے۔ پھر اہم کام کرنے کیلئے ملازم علیحدہ تھے۔ مثلاً باورچی، بیرا ہٹلر، جمعدار یا جمعدارنی۔ صفائی اور جھاڑ پونچھ کرنے والے ، ڈرائیور، بازار سے سودا لانے والے۔ باغ کی نگہداشت کرنے والے مالی وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب مستقل ملازم تھے اور اپنے خاندان کے ساتھ شاگرد پیشہ میں رہتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کی جس وقت بھی ضرورت پڑ جائے وہ حاضر ہوجاتے تھے۔ گویا کل وقتی ملازم تھے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 114 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

شاگرد پیشے کے ساتھ ہی اصطبل تھا۔ میرٹھ کا ریس کورس ہماری کوٹھی سے ڈیڑھ سو گز کے فاصلے پر تھا۔ اس کے گرد و نواح کی تمام کوٹھیوں میں اصطبل تھے۔ جب ریس کا موسم شروع ہوتا تو دوسرے شہروں سے گھوڑے میرٹھ منتقل ہوجاتے تھے۔ ان کیلئے اصطبلوں کی ضرورت پڑتی تھی اور یہ ضرورت اس علاقے کے کوٹھیوں والے پوری کرتے تھے۔ اصطبلوں کا معقول کرایہ مل جاتا تھا۔ گھوڑوں کے سائیس اور بعض اوقات ٹرینر بھی ان کے ساتھ ہی رہتے تھے اس لئے ان کیلئے بھی کوارٹرز مہیا کئے جاتے تھے۔ یہ امداد باہمی کا ایک طریقہ تھا۔ یعنی ریس والوں کا بھی فائدہ تھا اور کوٹھی والوں کا بھی۔ ہم نو عمر تھے۔ اس لئے کسی ملازم یا بڑے رشتے دار کے بغیر گھر سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ سکول ہمارے گھر سے ڈیڑھ دو میل دور تھا اس ئے شام کو کھیلنے کیلئے وہاں جانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ لہٰذا دوستوں کو یہ دعوت عام تھی کہ وہ شام کے وقت ہمارے گھر آئیں۔ ہر قسم کے کھیل کھیلیں۔ باغوں میں لگے ہوئے پھلوں کے درختوں پر چڑھ کر امرود، بیر، شہتوت اور آم وغیرہ توڑ توڑ کر کھائیں اور خوب ادھم مچائیں۔ یوں تو یہ بہت اچھا پروگرام تھا مگر مشکل یہ تھی کہ ہم محض اسکول اور گھر تک محدود ہوکر رہ گئے تھے۔ کسی ضرورت سے شہر جانا ہوتا تو گھر کا کوئی بڑا فرد یا ملازم ہمراہ ہوتا تھا۔ تنہا گھر سے نکلنے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ ویسے بھی سڑکیں سنسان اور ویران تھیں۔ایسے میں ڈیڑھ دو میل کا فاصلہ بھی بے حد طویل محسوس ہوتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ سمجھ لیجئے کہ ہم ایک طرح سے ’’بھنورے‘‘ میں پرورش پا رہے تھے۔ گھر کے باہر کی دنیا، بازار، سیر گاہیں وغیرہ ہماری رسائی سے باہر تھیں۔ کبھی فلم دیکھنے بھی جاتے تو کسی نہ کسی کا ہمارے ساتھ ہونا لازمی امر تھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ ایک تو ہم ’’باہر کی دنیا‘‘ سے بہت حد تک ناواقف تھے اور دوسرے یہ کہ اس دنیا کو دیکھنے کیلئے ترستے رہتے تھے۔

ایک روز ہمارے ڈرائیور صاحب نے بتایا کہ وہ کچھ خریداری کرنے کی غرض سے گھنٹہ گھر جا رہے ہیں۔ یہ شہر کا کاروباری مرکز تھا اور یہاں مختلف بازاروں کا سلسلہ شروع ہوتا تھا۔ ان ڈرائیور صاحب کو منشی جی کہا جاتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ڈرائیونگ تو یہ برائے نام ہی کرتے تھے لیکن ان کا اصل کام حساب کتاب رکھنا تھا۔ اب ان کا حلیہ بھی سن لیجئے۔ دبلے پتلے، گنجے، عمر پینتالیس پچاس کے لگ بھگ۔ آنکھوں پر باریک فریم کی عینک، سر پر رام پوری ٹوپی، کرتہ پاجامہ اور شیروانی ان کا لباس تھا۔ گرمیوں میں ٹھنڈی اور جاڑوں میں گرم شیروانی استعمال کرتے تھے۔ ٹھوڑی پر ایک مختصر سی چونچ نما داڑھی تھی جسے عرفِ عام میں چگّی داڑھی کہا جاتا ہے۔

منشی صاحب کا بیشتر وقت کوٹھی کے برآمدوں اور شاگرد پیشے میں ہی گزرتا تھا اس لئے ہم بھی جب کتابیں پڑھتے پڑھتے تھک جاتے تو ادھر ادھر گھومنے لگتے اور کہیں نہ کہیں منشی جی سے سابقہ پڑجاتا تھا۔ یہ منشی جی بڑے زندہ دل اور رنگین مزاج آدمی تھے۔ باتوں باتوں میں ہمیں تھیٹر، بائی اسکوپ اور طوائفوں کے قصے سناتے رہتے تھے اور ایسا نقشہ کھینچتے تھے کہ ہمارا دل بے قابو ہوجاتا تھا۔ جب ہم نے دبی زبان سے یہ باتیں بیرے ظفر کو بتائیں تو اس نے کہا ’’میاں یہ منشی خطرناک آدمی لگتا ہے۔ یہ آپ کو خراب کرنا چاہتا ہے‘‘۔

ہم نے پوچھا ’’کیسے؟‘‘

’’آپ کو بری بری گندی باتیں سنا کر۔ اس سے آپ ہوشیار رہیے‘‘۔

ظفر کی عمر ہم سے دس بارہ سال زیادہ تھی مگر اس نے پانچ سال کی عمر سے نوکری شروع کردی تھی۔ محض اردو لکھنا پڑھنا جانتا تھا۔ مگر دنیا بھر کے مسائل اور واقعات سے آگاہ تھا۔ منشی جی کے بارے میں ہم نے اس سے مشورہ کیا لیا کہ وہ خود بھی ہمارے مشیروں میں شامل ہوگیا۔ اور دیکھا جائے تو ہمیں صحیح معنوں میں ’’بگاڑنے کا فریضہ‘‘ ظفر ہی نے سر انجام دیا۔ یعنی معلومات کی حد تک اس نے ہمیں وہ تمام رموز و نکات سمجھا دیے جو کہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھے۔ عشق و محبت کی داستانیں سنانے کے علاوہ اس نے ہم کو یہ بھی بتایا کہ سچا عشق کیا ہوتا ہے اور جھوٹا عشق کیسے کیا جاتا ہے۔ کچھ عرصے بعد وہ ہمیں اپنے عشق کی داستانیں بھی سنانے لگا۔ جنہیں سن کر ہم حیران رہ جاتے تھے۔ یہ سب کچھ بتانے کے بعد وہ ہم سے قسم ضرور لیتا تھا کہ یہ ہم کسی اور کو نہیں بتائیں گے۔

منشی جی نے گھنٹہ گھر جانے کی خبر کیا سنائی کہ ہمارا دل مچل گیا۔ ہم نے منشی جی کو اس بات پر رضا مند کیا کہ وہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت حاصل کرلیں۔ اس کے معاوضے میں ہم انہیں آٹھ آنے دینے پر آمادہ ہوگئے۔ آٹھ آنے کا مطالبہ خود ان ہی کا تھا۔ انہوں نے کہا ’’میاں یہ کام ذرا مشکل ہے بلکہ کافی مشکل ہے۔ اگر آپ میرے پان سگریٹ کا خرچہ دے دیں تو میں جھاڑیں کھانے پر تیار ہوسکتا ہوں‘‘۔

ہم نے کہا ’’منشی شرم نہیں آتی آپ ہم سے رشوت مانگ رہے ہیں؟‘‘

’’توبہ توبہ‘‘ انہوں نے کان پکڑتے ہوئے کہا ’’میاں یہ تو معاوضہ ہے۔ دیکھئے نا اگر کوئی اونچ نیچ ہوگئی تو میں ہی پکڑا جاؤں گا‘‘۔

چنانچہ ہم انہیں آٹھ آنے معاوضہ دینے پر آمادہ ہوگئے۔ یہ اس وقت کے حساب سے کافی بڑی رقم تھی۔ آٹھ آنے میں ایک سگریٹ کی ڈبیا، ایک ماچس ایک پان کے علاوہ ایک پیسٹری اور ایک چائے کی پیالی بھی خریدی جاسکتی تھی اور پھر بھی کچھ بچ رہتا۔پیسٹری چھ پیسے میں اور چائے کی پیالی دو پیسے میں مل جاتی تھی۔ ایک درجن کیلے ڈیڑھ دو آنے میں اور پاؤ بھر انگور چار آنے میں خریدے جاسکتے تھے بلکہ اگر کفایت شعار سے کام لیا جاتا تو آٹھ آنے میں ایک جوڑے کا کپڑا خرید سکتے تھے۔

منشی جی نے ہمیں اپنے ساتھ لے جانے کیلئے خدا جانے کس طرح اجازت حاصل کرلی۔ تھی۔ وہ خوشی خوشی ہمارے پاس آئے اور کہا ’’میاں تیار ہوجائیے آپ کو اجازت مل گئی ہے۔ دس منٹ میں گاڑی صاف ہوجائے گی۔ آپ اچھے سے کپڑے پہن لیں‘‘۔

’’وہ کیوں؟‘‘ ہم نے پوچھا ’’بھئی اس قمیص اور نیکر میں کیا برائی ہے؟‘‘

’’میاں خدا کا خوف کریں۔ ہم بازار جا رہے ہیں نہ جانے کیسے لوگوں سے ملنا پڑ جائے۔ کرتہ پاجامہ اور شیروانی تو پہن لیجئے کم از کم۔ بال بھی سنوار لیجئے۔ آخر بازار جا رہے ہیں‘‘۔

ہم نے کہا ’’منشی جی اتنی گرمی میں شیروانی ہم نہیں پہنیں گے ہاں پتلون قمیص پہن لیتے ہیں‘‘۔

جب ہم باہر نکلے تو ایک بید کا بنا ہوا ہیٹ بھی ہمارے سر پر رکھا ہوا تھا۔ یہ دھوپ اور گرمی سے بچنے کا انتظام تھا۔ کار میں ہم منشی جی کے ساتھ ہی بیٹھ گئے۔ ادھر کار چلی، ادھر منشی جی کی زبان چل پڑی۔ انہوں نے پہلے تو یہ بتایا کہ انہیں شہر میں کیا کام کرنے ہیں۔ اس کے بعد اطلاع دی کہ میاں ہم ویلی بازار بھی جائیں گے۔ ویلی بازار یوں تو ایک عام بازار تھا لیکن اس کی خصوصیت یہ تھی کہ نیچے کی منزل میں دکانیں تھیں مگر اوپر کی منزل میں طوائفیں براجمان نظر آتی تھیں۔ اسی لئے شرفا ویلی بازار جاتے ہوئے ہچکچاتے تھے اور اگر چلے بھی جاتے تو نگاہیں نیچی رکھتے تھے۔ سرشام یہاں کی رونق دوبالا ہوجاتی تھی اس لئے کہ طوائفیں بناؤ سنگار کرکے بالا خانوں کی کھڑکیوں اور بالکونیوں میں تشریف فرما ہوجاتی تھیں اور نیچے سے گزرنے والوں کو مسکرا مسکرا کر اشارے کرتی تھیں۔ ظاہر ہے کہ نوجوان لوگ شام کے وقت اس بازار میں جانے کے بہانے تلاش کیا کرتے تھے اور کبھی کبھی نظر بچا کر اوپر بھی دیکھ لیتے تھے پھر دوسرے دن بڑے فخر کے ساتھ دوستوں کو اپنی روداد سناتے تھے۔ (جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 116 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ