مقبول ترین ، زندگی بدل دینے والا ناول۔۔۔ قسط نمبر 54

09 جون 2017 (15:05)

ابویحییٰ

امورہ اور صالح کے جانے کے بعد میں ناعمہ کو لے کر حوض کے کنارے ایک جگہ بیٹھ گیا۔ میں نے اس سے کہا:

’’تمھیں معلوم ہے تم کیا کرہی ہو؟‘‘

’’ہاں میں نے جمشید کے لیے امورہ کو پسند کیا ہے۔‘‘

’’مجھے معلوم ہے۔ مگر تمھیں معلوم ہے کہ تمھاری پسند سے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘

’’مجھے معلوم ہے۔۔۔ مگرپچھلی دنیا میں ہما کے تجربے کے بعد اب جمشید میرے سامنے کچھ نہیں بول سکتا اور امورہ کے والدین سے میں بات کرچکی ہوں۔‘‘

’’یعنی متعلقہ فریقوں لڑکا اور لڑکی دونوں کے علم میں یہ بات نہیں۔ نہ ان کی مرضی لی گئی اور سب کچھ تم نے طے کردیا۔ ناعمہ یہ دنیا نہیں ہے۔ یہاں ہم ماں باپ بس رسمی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں وہی ہوگا جو ان لوگوں کی مرضی ہوگی۔ اس لیے اپنے دل میں کوئی امید باندھنے سے پہلے ان دونوں سے پوچھ لو۔‘‘

مقبول ترین ، زندگی بدل دینے والا ناول۔۔۔ قسط نمبر 53 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’اور اگر انھوں نے انکار کردیا؟‘‘

’’تو اور بہت لڑکیاں ہیں۔ آج کسی چیز کی کمی نہیں۔ تم اس معاملے میں بے فکر ہوجاؤ۔‘‘

ناعمہ خاموش ہوگئی مگر اس کا ذہن ابھی تک اپنی بہو میں الجھا ہوا تھا۔ میں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا:

’’ ناعمہ ہمیں پہلی دفعہ یہاں تنہائی میسر آئی ہے۔ تم کچھ دیر کے لیے اپنی مادرانہ شفقت کو کونے میں رکھ دو اور یہ دیکھو کہ یہاں کتنا اچھا ماحول ہے۔‘‘

پھر میں نے اس سے کہا:

’’تمیں یاد ہے ناعمہ! ہم نے کتنے مشکل وقت ساتھ ساتھ دیکھے تھے۔ خدا کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچانے کے لیے میں نے اپنی زندگی لگادی۔ اپنا کیرئیر، اپنی جوانی، اپنا ہر سانس اسی کام کے لیے وقف کردیا۔ مگر دیکھو ناعمہ میں نے جو سودا کیا تھا اس میں کوئی خسارہ نہیں ہوا۔ میں تم سے دنیا میں کہا کرتا تھا نا کہ جو خدا کے ساتھ سودا کرتا ہے وہ کبھی گھاٹا نہیں اٹھاتا۔ دیکھو ہم ہر خسارے سے بچ گئے۔ کتنی شاندار کامیابی ہمیں نصیب ہوئی ہے۔ ہم جیت گئے ناعمہ۔۔۔ ہم جیت گئے۔ اب زندگی ہے، موت ختم۔ اب جوانی ہے، بڑھاپا ختم۔ اب صحت ہے، بیماری ختم۔ اب امیری ہے، غربت ختم۔ اب ہمیشہ رہنے والی خوشیاں ہیں اور سارے دکھ ختم۔‘‘

’’مجھے تو اب کوئی دکھ یاد بھی نہیں آرہا۔‘‘

’’ہاں آج کسی جنتی کو نہ دنیا کا کوئی دکھ یاد ہے اور نہ کسی جہنمی کو دنیا کا کوئی سکھ یاد ہے۔ دنیا تو بس ایک خیال تھی، خواب تھا، افسانہ تھا، سراب تھا۔ حقیقت تو اب شروع ہوئی ہے۔ زندگی تو اب شروع ہوئی ہے۔‘‘

’’ذرا سامنے دیکھیے سماں بدل رہا ہے۔‘‘

میں نے اس کے کہنے سے توجہ کی تو احساس ہوا کہ واقعی اب شام ڈھلنے کے بالکل قریب ہوچکی ہے۔ اب مغرب کے جھٹپٹے کا سا وقت ہورہا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ تبدیلی کسی اہم بات کا پیش خیمہ ہے۔

پیچھے سے ایک آواز آئی:

’’ہاں تم ٹھیک سمجھے۔‘‘

یہ صالح کی آواز تھی۔ وہ میرے قریب بیٹھتے ہوئے بولا:

’’اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ حساب کتاب ختم ہورہا ہے۔ تمام لوگوں کا حساب کتاب ہوچکا ہے۔‘‘

’’پہلے یہ بتاؤ تم امورہ کو چھوڑکر کہاں رہ گئے تھے۔ تم نہ پانی پینے جاسکتے ہو نہ بیت الخلا جانا تمھارے لیے ممکن ہے۔ پھر تم تھے کہاں؟‘‘

’’میں امثائیل کے ساتھ تھا۔‘‘

اس کے ساتھ ہی امثائیل پیچھے سے نکل کر سلام کرتا ہوا سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ یہ میرے الٹے ہاتھ کا فرشتہ تھا۔ میں نے سلام کا جواب دیا اور ہنستے ہوئے صالح سے دریافت کیا:

’’ان کی وجہ نزول؟‘‘

’’حساب کتاب ختم ہوچکا اب تمھیں پیش ہونا ہے۔ ہم دونوں مل کر تمھیں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کریں گے۔‘‘

پیشی کا سن کر مجھے پہلی دفعہ گھبراہٹ پیدا ہوئی۔ میں نے گھبرا کر سوال کیا:

’’حساب اتنی جلدی کیسے ختم ہوگیا؟‘‘

’’میں تمھیں پہلے بتاچکا ہوں کہ یہاں وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے اور حشر میں وقت بہت آہستہ۔ اس لیے جتنا عرصہ تم یہاں رہے ہو اتنے عرصے میں وہاں حساب کتاب ختم ہوچکا۔‘‘

’’وہاں میرے پیچھے کیا ہوا تھا؟‘‘

’’تمام امتوں کا جب عمومی حساب کتاب ہوگیا تو میدان حشر میں صرف وہ لوگ رہ گئے جو ایمان والے تھے، مگر ان کے گناہوں کی کثرت کی بنا پر انھیں روک لیا گیا تھا۔ آخر کار حضور کی درخواست پر ان کا بھی حساب ہوگیا۔ اب آخر میں سارے انبیا اور شہدا پیش ہوں گے۔‘‘

’’کیا شہید وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے؟‘‘، ناعمہ نے صالح سے سوال کیا۔

’’نہیں یہ وہ شہدا نہیں۔ وہ بھی بڑے اعلیٰ اجر کے حقدار ہوئے ہیں۔ مگر یہ شہدا حق کی گواہی دینے والے لوگ ہیں۔ یعنی انہوں نے انسانیت پر اللہ کے دین کی گواہی کے لیے اپنی زندگی وقف کردی تھی۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے انبیا کے بعد ان کی دعوت کو آگے پہنچایا۔‘‘

’’کیا ان کا بھی حساب ہوگا؟‘‘، میں نے سوال کیا کیونکہ مجھ پر حساب کے تصور سے گھبراہٹ طاری تھی۔

’’نہیں بس بارگاہ ربوبیت میں ان کی پیشی ہوگی اور ان کی نجات کا اعلان ہوگا۔ لیکن اللہ تعالیٰ رب العالمین اور مالک کل ہیں۔ وہ جب چاہیں جس کا چاہیں حساب کرسکتے ہیں۔ کوئی بھی ان کو روک نہیں سکتا۔‘‘

میرے منہ سے نکلا:

’’رب اغفر وارحم۔‘‘

میں خدا کے اختیار کا بیان کررہا ہوں۔ یہ نہیں کہہ رہا کہ اللہ تعالیٰ یہ کریں گے۔ دراصل اب جنت و جہنم میں داخلے کا وقت آرہا ہے۔ چنانچہ اب اہل جنت اور اہل جہنم سب کو میدان حشر میں جمع کردیا جائے گا۔ ان سب کے سامنے انبیا اور شہدا کی کامیابی کا اعلان ہوگا۔ پھر گروہ در گروہ نیک وبد لوگوں کو جنت و جہنم میں بھیجا جائے گا۔ جس کے بعد ختم نہ ہونے والی زندگی شروع ہوجائے گی۔(جاری ہے)

مقبول ترین ، زندگی بدل دینے والا ناول۔۔۔ قسط نمبر 55 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

مزیدخبریں